مقام نزول: یہ مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (54) چون آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔
سورة (سباء) نام کا معنی: یہ ایک قوم کا نام تھا۔
قوم سباء: اس سورت کا نام قوم سبا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ قوم سبا یمن میں آباد تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرح کی خوشحالی سے نوازا تھا۔ لیکن انھوں نے ناشکری کی روش اختیار کی اور کفر کو فروغ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور ان کی خوش حالی ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔
وجہ تسمیہ: اس سورت میں قوم سباء کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورت سباء ہے۔
زمانہ نزول: سورۃ سبا مکی سورۃ ہے، جو ابتدائی اور درمیانی دورِ مکی میں نازل ہوئی۔ اس کا مقصد مشرکین کو توحید اور قیامت کی طرف بلانا اور ایمان والوں کو حوصلہ دینا تھا۔
عظمت باری تعالیٰ: سورۃ سبا میں اللہ کی عظمت اس میں ظاہر کی گئی ہے کہ وہ سب کا مالک اور رب ہے، قیامت میں ہر شخص کا انصاف کرے گا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور قدرتی مظاہر اس کی کبریائی اور حکمت کے ثبوت ہیں۔
شانِ نزول: اس سورۃ کا نزول ایسے موقع پر ہوا جب بعض لوگ اللہ کی نعمتوں کو بھلا کر کفر و نافرمانی میں مبتلا تھے اور پیغمبروں کے اعلانات کو جھٹلانے لگے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی نشانیوں، حضرت سبا کی قوم کے احوال اور انعامات کے شکر نہ کرنے والے لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا۔
اس سورت کا خلاصہ ‘اسلام کے بنیادی عقائد کا بیان اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب’ ہے۔