نہم جماعت کے لیے

سورۃ السجدۃ

پارہ 21 آیات 30 رکوع 3 مکی

تعارف

مقام نزول: سورۃ السجدۃ مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (30) تیس آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (03) تین رکوع ہیں۔

سورة (سجدۃ) نام کا معنی: اس کا معنی ہے سجدہ کرنا۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت 15 آیت سجدہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ السجدۃ ہے۔

فضیلت: سورۃ السجدۃ سے حضرت محمد ﷺ کو بہت محبت تھی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ "آپ ﷺ رات کو اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ السجدۃ اور سورۃ الملک کی تلاوت نہ فرمالیتے"۔

سورۃ السجدۃ کی فضیلت: حضرت محمد ﷺ جمعہ کے دن نماز فجر کی پہلی رکعت میں اکثر سورۃ السجدۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔

سورۃ السجدۃ کے دوسرے نام: سورۃ السجدۃ کو "تنزیل السجدۃ" اور "الم السجدۃ" بھی کہا گیا ہے۔

زمانہ نزول: یہ سورت مکی زندگی کے درمیان میں نازل ہوئی۔

شانِ نزول: سورۃ السجدۃ جو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو صبر، ایمان اور اللہ کی وحدانیت پر یقین دلانے کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں اللہ کی قدرت، آسمان و زمین کی تخلیق اور قیامت کے دن کی حقیقت بیان کی گئی ہے، اور مشرکین کے انجام کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ سورت میں سجدے کی اہمیت اور عاجزی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ مومنین اللہ کے حضور جھکنے اور اس کے احکام ماننے کی تربیت حاصل کریں۔

مرکزی خیال

اس سورت کا خلاصہ ‘اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب’ ہے۔

اہم مضامین

قرآن مجید پر دعوت ایمان
اس سورت میں قرآن مجید پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
توحید و آخرت کے دلائل
اس سورت مبارکہ میں توحید الی اللہ، اللہ کی وحدانیت کو بھرپور انداز میں بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یوم آخرت کے برپا ہونے کے دلائل دیے گئے ہیں۔
نافرمانوں پر عذاب
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمانوں پر بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے تاکہ وہ گناہوں سے باز آجائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیں۔
منکرینِ آخرت کے اعتراضات کا جواب
اس سورت کریمہ میں وہ لوگ جو منکرینِ آخرت ہیں جو آخرت کے قائم ہونے کو نہیں مانتے اور دنیاوی زندگی کو ہی اصل زندگی گردانتے ہیں ان کے یوم آخرت کے بارے میں جو جو اعتراضات ہیں ان کے جوابات دیے گئے ہیں۔
اچھے اور برے لوگوں کا انجام
اس سورت میں قیامت کے دن اچھے اور برے لوگوں کا کیا انجام ہونے والا ہے وضاحت سے بتایا گیا ہے۔
اختتام
سورۃ السجدہ کا اختتام مؤمن کے لیے رہنمائی ہے کہ: اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کریں (سجدہ)، قیامت کی تیاری کریں، نیک اعمال اور صبر و شکر کو اپنائیں اور یہ سورت کا اختتامی پیغام ایمان، عمل اور توکل کا مکمل مجموعہ ہے۔ سورۃ السجدہ کا اختتام انسان کی آخرت کی حقیقت، نیک اعمال کی فضیلت اور اللہ کی رحمت پر توکل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

علمی و عملی نکات

قرآن کا مقصد
قرآن مجید اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو آخرت کے بارے میں خبردار کیا جائے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی جائے۔ (سورۃ السجدۃ: 3)
کائنات کی تخلیق
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور وہی کائنات کے تمام معاملات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ (سورۃ السجدۃ: 4-5)
آخرت کی فراموشی
جو شخص دنیا میں مگن ہو کر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو بھلا دیتا ہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھی اسے جہنم میں ڈال کر فراموش کر دے گا۔ (سورۃ السجدۃ: 14)
فرمانبردار اور نافرمان
اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ (سورۃ السجدۃ: 19-20)
چھوٹا عذاب
اللہ تعالیٰ نافرمانوں پر بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے تاکہ وہ گناہوں سے باز آئیں۔ (سورۃ السجدۃ: 21)
صبر کرنے والے
صبر کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ لوگوں کا رہنما بناتا ہے۔ (سورۃ السجدۃ: 24)

کثیرالانتخابی سوالات

حضرت محمد ﷺ رات کو سوتے ہوئے تلاوت فرماتے تھے
اللہ تعالیٰ نافرمانوں پر بڑے عذاب سے پہلے بھیجتا ہے
صبر کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ آیات کی پر یقین رکھنے والوں کو بنایا جاتا ہے
سنت نبوی کے مطابق جمعہ کے دن سورت السجدہ پڑھنی چاہیے
اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور نافرمانی کرنے والے نہیں ہو سکتے

مختصر سوالات

سورت السجدۃ کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟˅
سورت السجدۃ کی آیت 15 میں آیت سجدہ ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورت السجدۃ رکھا گیا ہے۔
سورت السجدۃ کی فضیلت تحریر کیجیے؟˅
حضرت محمد ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز کی پہلی رکعت میں سورت السجدۃ کی تلاوت فرماتے ہیں۔
سورت السجدۃ کا خلاصہ لکھیں؟˅
سورت السجدۃ کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
سورت السجدۃ کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور نافرمانی کرنے والے کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ ٭صبر کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر یقین رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ رہنما بناتا ہے۔