مقام نزول: سورۃ السجدۃ مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (30) تیس آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (03) تین رکوع ہیں۔
سورة (سجدۃ) نام کا معنی: اس کا معنی ہے سجدہ کرنا۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت 15 آیت سجدہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ السجدۃ ہے۔
فضیلت: سورۃ السجدۃ سے حضرت محمد ﷺ کو بہت محبت تھی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ "آپ ﷺ رات کو اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک سورۃ السجدۃ اور سورۃ الملک کی تلاوت نہ فرمالیتے"۔
سورۃ السجدۃ کی فضیلت: حضرت محمد ﷺ جمعہ کے دن نماز فجر کی پہلی رکعت میں اکثر سورۃ السجدۃ کی تلاوت فرماتے تھے۔
سورۃ السجدۃ کے دوسرے نام: سورۃ السجدۃ کو "تنزیل السجدۃ" اور "الم السجدۃ" بھی کہا گیا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت مکی زندگی کے درمیان میں نازل ہوئی۔
شانِ نزول: سورۃ السجدۃ جو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو صبر، ایمان اور اللہ کی وحدانیت پر یقین دلانے کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں اللہ کی قدرت، آسمان و زمین کی تخلیق اور قیامت کے دن کی حقیقت بیان کی گئی ہے، اور مشرکین کے انجام کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ سورت میں سجدے کی اہمیت اور عاجزی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ مومنین اللہ کے حضور جھکنے اور اس کے احکام ماننے کی تربیت حاصل کریں۔
اس سورت کا خلاصہ ‘اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب’ ہے۔