مقام نزول: سورۃ العنکبوت مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (69) انہتر آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (07) سات رکوع ہیں۔
سورة (عنکبوت) نام کا معنی: العنکبوت کا معنی 'مکڑی' ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت اکتالیس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے پر بھروسہ کر رکھا ہو۔ اس لیے اس سورت کا نام سورت العنکبوت ہے۔
زمانہ نزول: اس سورت کا نزول تب ہوا جب مشرکین مکہ حضرت محمدؐ اور ان کے صحابہ کرام کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔
شانِ نزول: سورۃ العنکبوت جو نبی ﷺ اور امت مسلمہ کو یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا میں زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے اور اللہ ہر انسان کو اس کے حالات کے مطابق پرکھتا ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کے واقعات بیان کیے گئے تاکہ دکھایا جا سکے کہ صبر، ایمان اور تقویٰ کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔ مشرکین اور ظالموں کے انجام کی بھی تنبیہ کی گئی ہے، اور مومنین کو اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنے اور صبر اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔
سورت العنکبوت کا خلاصہ ‘کافروں کا ظلم سہنے والے مظلوم مسلمانوں کو تسلی دینا’ ہے۔