مقام نزول: سورۃ الروم مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (60) ساٹھ آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔
سورة (روم) نام کا معنی: اس سے مراد روم یعنی رومن قوم ہے۔
وجہ تسمیہ: سورت الروم کی دوسری آیت میں روم کے مغلوب ہونے اور تیسری میں ان کے پھر سے غالب آنے کی خبر ہے اس وجہ سے اس کا نام سورت الروم ہے۔
آغاز: اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات میں سے "الم" سے ہوتا ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت ہجرت حبشہ کے سال نازل ہوئی تھی۔
شانِ نزول: سورۃ الروم جو نبی ﷺ اور مسلمانوں کو صبر، ایمان اور اللہ کی قدرت پر یقین دلانے کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں رومی اور فارس کے درمیان جنگ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے تاکہ دکھایا جا سکے کہ اللہ کی نصرت ہر حالت میں غالب ہے اور وہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے۔ سورۃ میں دنیا کی فانی نوعیت، قیامت کے دن کا واقعہ اور ایمان والوں کے لیے جزا بھی بیان کی گئی ہے، اور مشرکین و ظلم کرنے والوں کے انجام کی تنبیہ کی گئی ہے۔
سورت الروم کا خلاصہ ‘اسلام کی صداقت کا بیان اور انسانوں کی کردار سازی’ کا بیان ہے۔