نہم جماعت کے لیے

سورۃ القصص

پارہ 20 آیات 88 رکوع 9 مکی

تعارف

مقام نزول: سورت القصص مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (88) اٹھاسی آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں نو (09) رکوعات ہیں۔

شانِ نزول: سورت القصص مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے، کیوں کہ اس کی آیت (85) پچاسی اس وقت نازل ہوئی جب حضرت محمد ﷺ ہجرت کی غرض سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ زمانہ نزول: یہ سورت تب نازل ہوئی جب نبیؐ ہجرت مدینہ کی غرض سے روانہ ہو چکے تھے۔

سورة (قصص) نام کا معنی: القصص کا معنی سچے واقعات ہے

وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت 25 میں القصص کا لفظ آیا ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورت القصص ہے۔

مقصد نزول: سورۃ القصص میں نبی ﷺ کو صبر اور اللہ کی نصرت پر بھروسہ کرنے کی تعلیم کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے واقعات بیان کیے گئے، جیسے فرعون کے ظلم سے بچپن، مدین کی ہجرت اور نبوت سورت سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی مدد مومن کے ساتھ ہمیشہ ہوتی ہے اور ظالم کا انجام برا ہوتا ہے۔

مرکزی خیال

اس سورت کا خلاصہ ‘حضرت موسیٰؑ کا ذکر کر کے حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ کی دعوت کی سچائی کو ثابت کرنا’ ہے۔

اہم مضامین

پہلے پانچ رکوع
سورۃ القصص کے پہلے پانچ رکوعوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے اہم اور تفصیلی واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ ابتدا میں فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم دیا، جس سے موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچایا اور ان کی والدہ نے انہیں دریائے نیل میں ڈال کر حفاظت کی۔ اللہ کی حکمت سے وہ فرعون کے دربار میں پرورش پائے۔ جوانی میں انہوں نے غلطی سے ایک شخص کو قتل کر دیا، جس پر خوفزدہ ہو کر مدین کی طرف ہجرت کی۔ مدین پہنچ کر انہوں نے ظلم سے ایک عورت اور اس کے اہل خانہ کی مدد کی اور صالح لوگوں کے گھر میں قیام کیا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت عطا فرمائی اور وہ فرعون کے پاس دعوت دینے واپس آئے، لیکن فرعون نے انکار کیا۔ یہ سب واقعات نبی ﷺ اور امت کے لیے صبر، اللہ کی نصرت پر بھروسہ اور ظالموں کے انجام کا درس دیتے ہیں۔
نبی کریمؐ سے مشابہت
اس سورت کے پہلے پانچ رکوعوں میں بہت تفصیل کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں پچھلے انبیاء کرامؑ میں سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ حضرت موسیٰؑ کا ذکر آیا ہے، کیوں کہ حضرت موسیٰؑ کے حالات زندگی اور حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ کے ساتھ کئی چیزوں میں مشابہت ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی کے ساتھ مماثلت اس لیے دی گئی کہ وہ بھی اللہ کے منتخب کردہ رسول ہیں جو قوم کی ہدایت کرتے، حق کے لیے صبر و استقامت دکھاتے، اللہ کے معجزات کے ذریعے حق واضح کرتے، اور اپنی قوم کی اصلاح و رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ سب خصوصیات نبیوں کی عام صفات ہیں، جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کی مماثلت نبی کے ساتھ کی گئی۔
قارون کا عبرت ناک واقعہ
اس سورت میں بنی اسرائیل کے ایک شخص قارون کا عبرت ناک واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی اور اپنی قوم کی بجائے فرعون کی خدمت کی۔ حضرت موسیٰؑ نے اسے درست راستے پر آنے کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا۔ یہ شخص اپنے پاس موجود مال کو اپنی ذاتی محنت اور اپنے علم کا نتیجہ قرار دیتا تھا اور اللہ تعالیٰ کے احسان اور نعمت کا انکار کرتا تھا۔ نتیجتاً قارون اپنے مال و اسباب کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔
اُمتِ مسلمہ کو خصوصی تلقین
سورت کے اختتام پر حضرت محمد ﷺ کی امت کو خصوصیت کے ساتھ یہ تلقین کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔
اختتام
سورۃ القصص کا اختتام اس اٹل حقیقت پر ہوتا ہے کہ دنیا کی شان و شوکت عارضی ہے، اصل کامیابی آخرت کی ہے، اور نجات کا واحد راستہ توحید، تقویٰ اور قرآن کی پیروی ہے۔ یہ آیات ہر دور کے انسان کو غرور، فساد اور شرک سے بچنے اور اللہ کی بندگی اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔

علمی و عملی نکات

ظالم کی حکومت
ظالم لوگ لوگوں کو تقسیم کر کے ان پر حکومت کرتے ہیں۔ (سورۃ القصص: 4)
علم و حکمت
حکمت و دانائی اور علم اللہ تعالیٰ کی خاص نعمتیں ہیں جو خاص بندوں کو عطا ہوتی ہیں۔ (سورۃ القصص: 14)
اللہ کی توفیق
ہدایت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ (سورۃ القصص: 56)
دنیا کی حقیقت
دنیا کے نعمتیں اور ساز و سامان اخرت کی بہترین اور ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں۔ (سورۃ القصص: 60)
دن اور رات کی نعمت
اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے دن اپنا فضل یعنی رزق تلاش کرنے اور رات ارام کرنے کے لیے بنائی ہے۔ (سورۃ القصص: 73)
اللہ کا فضل
ہمیں اپنے علم اور صلاحیتوں پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ (سورۃ القصص: 78)
حرام مال کا انجام
اللہ تعالیٰ کو ناراض کر کے کمایا ہوا مال ہلاکت اور بربادی کا سبب بنتا ہے۔ (سورۃ القصص: 81)
آخرت کا گھر
آخرت کا گھر ان پرہیزگاروں کے لیے ہے جو زمین میں نہ بڑہائی چاہتے ہوں اور نہ فساد۔ (سورۃ القصص: 83)
شرک سے بچنا
اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ ہمیں شرک سے بچنا چاہیے اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ (سورۃ القصص: 88)

کثیرالانتخابی سوالات

حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ مشابہ ہے
قارون کا تعلق تھا
قارون اپنے مال و دولت کو نتیجہ قرار دیتا تھا
مکہ مکرمہ میں نازل ہونے والی آخری سورت ہے
ہدایت حاصل ہوتی ہے

مختصر سوالات

سورت القصص کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
اس سورت کی آیت 25 میں القصص کا لفظ آیا ہے اس مناسبت سے اس سورت کا نام سورت القصص ہے۔
سورت القصص کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورت القصص کا خلاصہ "حضرت موسیٰؑ کا ذکر کر کے حضرت محمد ﷺ کی رسالت اور آپ کی دعوت کو ثابت کرنا" ہے۔
سورت القصص کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭ظالم لوگ لوگوں کو تقسیم کر کے ان پر حکومت کرتے ہیں۔ ٭ہمیں اپنے علم اور صلاحیتوں پر اترانا نہیں چاہیے کیوں کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے۔
قارون کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟˅
قارون بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا جو دنیا پر زیادہ توجہ کرتا تھا اور فرعون کی خدمت کرتا تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ کی دعوت کا انکار کیا، وہ اپنی مال و دولت کو اپنی ذاتی محنت اور علم کا نتیجہ کہتا تھا، اس کے بدلے میں اس کو اس کی دولت کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔