مکی سورت: سورۃ الانبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اسی وجہ سے یہ مکی سورت ہے۔
آیات: اس سورت میں (112) ایک سو باراہ آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (07) سات رکوع ہیں۔
سورۃ (انبیاء) نام کا معنی: نبی کی جمع
وجہ تسمیہ: سورۃ الانبیاء میں پچھلے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کا حوالہ دے کر حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس سورت کا نام سورۃ الانبیاء ہے۔
فضیلت: سورۃ الانبیاء ان سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ 'یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں'۔
زمانہ نزول: سورۃ الانبیاء مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفارِ مکہ مسلمانوں پر کئی طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہے تھے۔
شانِ نزول: اس کے نزول کا سبب یہ تھا کہ کفارِ مکہ قیامت، توحید اور رسالت کے بارے میں شک و شبہات پھیلا رہے تھے اور انبیائے کرام علیہم السلام کا مذاق اڑاتے تھے۔
سورۃ الانبیاء کا خلاصہ ‘توحید، رسالت اور آخرت کا بیان’ ہے۔