نہم جماعت کے لیے

سورۃ الانبیاء

پارہ 17 آیات 112 رکوع 7 مکی

تعارف

مکی سورت: سورۃ الانبیاء مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اسی وجہ سے یہ مکی سورت ہے۔

آیات: اس سورت میں (112) ایک سو باراہ آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (07) سات رکوع ہیں۔

سورۃ (انبیاء) نام کا معنی: نبی کی جمع

وجہ تسمیہ: سورۃ الانبیاء میں پچھلے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کا حوالہ دے کر حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا گیا ہے۔ اسی لیے اس سورت کا نام سورۃ الانبیاء ہے۔

فضیلت: سورۃ الانبیاء ان سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ 'یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں'۔

زمانہ نزول: سورۃ الانبیاء مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب کفارِ مکہ مسلمانوں پر کئی طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہے تھے۔

شانِ نزول: اس کے نزول کا سبب یہ تھا کہ کفارِ مکہ قیامت، توحید اور رسالت کے بارے میں شک و شبہات پھیلا رہے تھے اور انبیائے کرام علیہم السلام کا مذاق اڑاتے تھے۔

مرکزی خیال

سورۃ الانبیاء کا خلاصہ ‘توحید، رسالت اور آخرت کا بیان’ ہے۔

اہم مضامین

توحیدِ باری تعالیٰ کے دلائل
سورۃ الانبیاء میں توحیدِ باری تعالیٰ کے دلائل میں آفرینش کی دلیل (آسمانوں اور زمین، سورج، چاند، بارش، نباتات اور جانوروں کی تخلیق اللہ کی قدرت)، اللہ کی وحدانیت اور طاقت، پچھلے نبیوں کے واقعات، انصاف اور جزا و سزا کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ دلائل انسان کو اللہ کی عبادت پر ایمان اور یقین پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔
درمیانی حصّہ
سورۃ الانبیاء کے درمیانی حصہ میں انبیاء کرام علیہم السلام، حضرت نوح علیہ السلام نے قوم کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی، مگر لوگ انکار کرتے رہے، اللہ نے انہیں طوفان کے ذریعے عذاب دیا۔ اور حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہے۔
آخرت پر ایمان
سورۃ الانبیاء میں آخرت پر ایمان لانے کا ذکر ہے۔ کہ آخرت برحق ہے وہ پلک جھپکنے کی دیر میں برپا ہو جائے گی۔
ثابت قدم رہنے والوں کے لیے کامیابی
سورۃ الانبیاء میں ثابت قدم اور اخلاص کے ساتھ نیکی کی راہ پر چلنے والوں کے لیے کامیابی کا ذکر ہے۔
آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت
سورۃ الانبیاء میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ اور آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
اختتام
سورۃ الانبیاء کا اختتام توحید، انبیاء کی نصیحت، اعمال کی جزا و سزا، اور مومنوں کی ہدایت و صبر کی تاکید پر ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی ہدایت پر عمل کرو، نیک اعمال اختیار کرو اور دنیا و آخرت کے لیے تیار رہو۔

علمی و عملی نکات

قیامت کی قربت
قیامت کا دن قریب سے قریب ہوتا جا رہا ہے اس لیے ہمیں اللہ تعالیٰ سے غافل ہو کر زندگی نہیں گزارنی چاہیے۔ (سورۃ الانبیاء: 1)
اہلِ علم سے رہنمائی
جو بات ہم نہیں جانتے وہ ہمیں علم رکھنے والوں سے پوچھ لینی چاہیے۔ (سورۃ الانبیاء: 7)
تخلیق کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا معاذ اللہ کھیل تماشہ کے لیے نہیں بلکہ با مقصد طور پر پیدا فرمائی ہے۔ (سورۃ الانبیاء: 16-17)
حق و باطل کی کشمکش
اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو باطل سے ٹکرا کر باطل کا سر کچل دیتا ہے۔ (سورۃ الانبیاء: 18)
توحید کی دلیل
اس کائنات میں اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو زمین اور آسمان میں فساد برپا ہو جاتا۔ (سورۃ الانبیاء: 22)
جوابدہی کا احساس
ہر شخص اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ (سورۃ الانبیاء: 23)
مشکلات میں پکار
ہمیں مشکلات میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے کیونکہ وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔ (سورۃ الانبیاء: 83)

ذخیرہ الفاظ

رَتْقًابند
اَنْ تَمِیْدَکہ وہ ہلنے نہ لگے
سَقْفًاچھت
فَفَتَقْنٰهُمَاپھر ہم نے ان دونوں کو الگ کیا
رَوَاسِیَپہاڑ
یُمْسِكُوہی روکے ہوئے ہے
یَسْبَحُوْنَتیر رہے ہیں
مُّعْرِضُوْنَمنہ موڑے ہوئے ہیں
مَنْسَكًاعبادت کا طریقہ
الْخُلْدَہمیشہ رہنا
فِتْنَةٌآزمائش
نَاسِكُوْهُجس پر وہ چلنے والے ہیں

آیات و ترجمہ

اَوَ لَمْ یَرَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ
کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے پھر ہم نے ان دونوں کو الگ کر دیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا تو کیا یہ ایمان نہیں لاتے۔
وَ جَعَلْنَا فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِهِمْ وَ جَعَلْنَا فِیْهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ
اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ وہ انہیں لے کر ہلنے نہ لگے اور ہم نے اس میں راستے کشادہ کر دیے تاکہ وہ راستہ پائیں۔
وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا وَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُّعْرِضُوْنَ
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ
اور وہی ہے جس نے رات اور دن بنائے سورج اور چاند بنائے اور یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ
اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو ابدی زندگی نہیں دی تو اگر آپ انتقال فرما جائیں تو کیا یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورت الانبیاء کو قرار دیا گیا ہے
حضرت محمد ﷺ سراپا رحمت ہیں، اس کا ذکر ہے
سورت الانبیاء کے مطابق جو بات معلوم نہ ہو تو پوچھ لینی چاہیے
ہر شخص اپنے اعمال کا جوابدہ ہے
ہمیں مشکلات میں پکارنا چاہیے

مختصر سوالات

سورت الانبیاء کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
سورت الانبیاء میں پچھلے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت کا حوالہ دے کر آپ ﷺ کی نبوت کو ثابت کیا گیا ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورت الانبیاء ہے۔
سورت الانبیاء کی ایک فضیلت بیان کریں؟˅
سورت الانبیاء ان سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں۔
سورت الانبیاء کا خلاصہ لکھیں؟˅
سورت الانبیاء کا خلاصہ 'توحید، رسالت اور آخرت' کا بیان ہے۔
سورت الانبیاء کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
1) جو بات ہم نہ جانتے ہوں وہ ہمیں اہلِ علم سے پوچھ لینی چاہیے۔ 2) اللہ تعالیٰ ہمیشہ حق کو باطل سے ٹکرا کر باطل کا سر کچل دیتا ہے۔