نہم جماعت کے لیے

سورۃ طٰہٰ

پارہ 16 آیات 135 رکوع 8 مکی

تعارف

مکی سورت: سورۃ طٰہٰ مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (135) ایک سو پینتیس آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (08) آٹھ رکوع ہیں۔

سورۃ (طٰہٰ) نام کا معنی: اس سورت کا نام حروف تہجی کے دو حروف کا مجموعہ ہے۔

وجہ تسمیہ: سورۃ طٰہٰ ان سورتوں میں سے ہے جس کا نام حروفِ مقطعات پر رکھا گیا ہے۔ اس سورت کا آغاز حروفِ مقطعات میں سے 'طٰہٰ' سے ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ طٰہٰ ہے۔ (امام باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام سے روایت ہے کہ طٰہٰ اور یٰس رسول کریم ﷺ کے نام ہیں)

فضیلت: جن سورتوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ 'یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں' سورۃ طٰہٰ بھی ان سورتوں میں سے ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ملتا ہے کہ جب وہ اپنی بہن کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہم سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن سے سورۃ طٰہٰ کی تلاوت سنی تو ان کے دل میں اسلام گھر کر گیا اور انہوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔

زمانہ نزول: سورۃ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں اسلام کی ابتداء میں نازل ہوئی۔ ممکن ہے کہ یہ ہجرت حبشہ کے زمانے میں یا اس کے بعد نازل ہوئی۔

شانِ نزول: سورۃ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے نزول کا سبب یہ تھا کہ رسول اکرم ﷺ قرآن مجید کی تلاوت اور عبادت میں بہت زیادہ مشقت برداشت فرماتے تھے۔ کفارِ مکہ اس پر طعنہ دیتے تھے کہ (نعوذ باللہ) یہ قرآن آپ ﷺ کے لیے باعثِ مشقت بن گیا ہے۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ قرآن مشقت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت کے لیے ہے۔

مرکزی خیال

سورۃ طٰہٰ کا خلاصہ ‘حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ اور پھر توحید، رسالت اور آخرت’ کا بیان ہے۔

اہم مضامین

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا بیان
سورت طٰہٰ کے پانچ سے آٹھ رکوعوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا بیان ہے۔ سورت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے تین مراحل بیان کیے گئے ہیں: 1) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے مدین ہجرت فرمانے تک (ابتدائی زندگی اور پرورش): اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈالا گیا۔ فرعون کے محل میں پرورش پائی، مگر اللہ نے والدہ سے دودھ پلوا دیا۔ 2) مدین ہجرت سے صحرائے سینا ہجرت (جوانی اور مصر سے خروج): ایک قبطی کے قتل کے واقعے کے بعد مصر چھوڑ دیا، مدین جا کر حضرت شعیب علیہ السلام کے ہاں قیام کیا اور نکاح کیا۔ 3) صحرائے سینا ہجرت کے بعد وصال تک کا دور (نبوت کا عطاء ہونا): واپسی پر کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا، معجزات عطا ہوئے: عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہونا۔
اسلام کے بنیادی عقائد کا بیان
آخر کے تین رکوعوں میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان ہے۔
قدرت اور صفات الی اللہ کا ذکر
اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں زمین و آسمان اور سورج و چاند وغیرہ اور صفات الی اللہ کا بیان ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر
حضرت آدم علیہ السلام کا مختصر تذکرہ ہے۔ جو دنیا کا سب سے پہلا انسان تھا۔ جن کا لقب ابو البشر ہے۔ جو تمام انسانیت کے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سورۃ طٰہٰ میں حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ عبرت اور ہدایت کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں سجدہ کریں، سب نے سجدہ کیا سوائے شیطان کے جس نے تکبر کیا۔ پھر اللہ نے آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کو جنت میں رہنے کی اجازت دی اور ایک درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا۔ شیطان نے وسوسہ ڈال کر بہکایا، جس کے نتیجے میں انہوں نے درخت سے کھا لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین پر بھیج دیا، مگر ساتھ ہی توبہ قبول فرمائی اور ہدایت کا وعدہ کیا۔ فرمایا کہ جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ گمراہ نہ ہو گا اور نہ بدبخت ہو گا۔
نافرمانوں کا انجام
آخرت میں نافرمانوں کے برے انجام کا بیان ہے۔ ان سے سوال کیا جائے گا کہ جب دنیا میں آنکھیں تھیں تو آج کیوں اندھے ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نافرمانوں کے لیے آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ نافرمانوں کے لیے اس دن کوئی مددگار یا سفارش کرنے والا فائدہ نہ دے گا۔
قرآن مجید کا بیان
قرآن مجید جو اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس کا مقام و مرتبہ بیان کر کے اس سے منہ موڑنے کی سزا سنائی گئی ہے۔ اللہ کی ہدایت سے منہ موڑنے والے قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے۔ سورۃ طٰہٰ میں قرآن مجید کو ہدایت اور رحمت قرار دے کر اس کی عظمت بیان کی گئی ہے، اور واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ قرآن سے منہ موڑتے ہیں ان کے لیے دنیا میں تنگ زندگی اور آخرت میں اندھا اٹھایا جانا اور دائمی عذاب مقرر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قانون
سورۃ طٰہٰ کے آخر میں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کے انکار اور کفر پر فوراً نہیں پکڑتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔
اہل حق کو تلقین
حق والوں کو صبر کے ساتھ دین کی دعوت کا کام کرتے رہنا چاہیے اور حق کا انکار کرنے والوں کے معاملے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
اختتام
سورۃ طٰہٰ کا اختتام توحید، صبر، دعا، ہدایت، اور آخرت کی یاد دہانی پر مبنی ہے۔ یہ نبی ﷺ اور مومنین کو اللہ پر بھروسہ، نیک اعمال، اور صبر و شکر کے ذریعے کامیابی کی ترغیب دیتا ہے۔

علمی و عملی نکات

اللہ کا علم محیط
اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مکمل علم ہے، دنیا میں کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ (سورۃ طٰہٰ:8)
ہدایت کی پیروی
دنیا اور آخرت کی سلامتی ان کے لیے ہے جو ہدایت کی پیروی کرے۔ (سورۃ طٰہٰ:47)
نصیحت سے اعراض
نصیحت سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن بہت پچھتائیں گے۔ (سورۃ طٰہٰ:100)
اللہ کی قدرت
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرے گا کہ کون سفارش کرے۔ (سورۃ طٰہٰ:109)
علم میں اضافہ کی دعا
ہمیں اللہ تعالیٰ سے اپنے علم میں اضافے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ (سورۃ طٰہٰ:113)
شیطان کی دشمنی
شیطان ہمارا دشمن ہے، جو وسوسہ ڈال کر ہم سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرانا چاہتا ہے۔ (سورۃ طٰہٰ:120)
حیا و شرم
اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم و حیا کی فطرت رکھی ہے۔ ہمیں بے حیائی اور بے پردگی سے بچنا چاہیے۔ (سورۃ طٰہٰ:121)
قرآن سے دوری کا انجام
قرآن مجید پر عمل نہ کرنے والوں کی دنیاوی زندگی تنگ کر دی جاتی ہے یعنی ان کی دنیا ویران کر دی جاتی ہے۔ (سورۃ طٰہٰ:124)
عبرت کے نشانات
سابقہ قوموں کے کھنڈرات ہمارے لیے عبرت کے نشانات ہیں۔ (سورۃ طٰہٰ:130)
نماز کی پابندی
ہمیں نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ (سورۃ طٰہٰ:133)
قرآن معجزہ
حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے۔ (سورۃ طٰہٰ:135)
کامیابی کا فیصلہ
کون کامیاب ہے اور کون ناکام ہے اس کا فیصلہ قیامت کے دن ہو گا۔ (سورۃ طٰہٰ:135)

ذخیرہ الفاظ

اُخْرٰیایک مرتبہ اور بھی
اُحْلُلْکھول دے
مَرَّۃًایک مرتبہ
اِشْرَحْکھول دے
صَدْرِیْمیرا سینہ
اَخِیمیرا بھائی
یَسِّرْآسان کر دے
اَزْرِیمیری کمر
لِسَانِیمیری زبان
نُسَبِّحَکَہم تیری تسبیح بیان کریں
اُشْدُدْمضبوط کر دے
قَدْیقیناً
کَیْتاکہ
بَصِیْرخوب دیکھنے والا
مَنَنَّاہم نے احسان کیا

آیات و ترجمہ

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ
عرض کیا اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے۔
وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ
اور میرے لیے میرا کام آسان بنا دے۔
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْ
اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔
یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ
تاکہ لوگ میری بات سمجھیں۔
وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ
اور میرا ایک وزیر مقرر فرما دے میرے گھر والوں میں سے۔
هٰرُوْنَ اَخِی
میرے بھائی ہارون کو۔
اُشْدُدْ بِهٖ اَزْرِیْ
اس سے میری قوت کو مضبوط فرمادے۔
وَ اَشْرِكْهُ فِیْ اَمْرِیْ
اسے میرے کام میں میرا شریک بنا دے۔
كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًا
تاکہ ہم کثرت سے تیری پاکی بیان کریں۔
وَ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًا
اور کثرت سے تیرا ذکر کریں۔
اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا
بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے والا ہے۔
قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰی
فرمایا اے موسیٰ تمہیں دے دیا گیا جو کچھ تم نے مانگا تھا۔
وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰی
اور بے شک ہم نے تم پر احسان کیا ایک مرتبہ اور بھی۔

کثیرالانتخابی سوالات

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ ہے
سورت طٰہٰ کو سن کر مسلمان ہوئے
حق کا انکار کرنے والوں کے بارے مظاہرہ کرنا چاہیے
حضرت محمد ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے
اصل کامیابی کا فیصلہ ہو گا

مختصر سوالات

سورت طٰہٰ کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟˅
سورت طٰہٰ کا آغاز حروفِ مقطعات میں سے طٰہٰ سے ہوتا ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت طٰہٰ ہے۔
سورت طٰہٰ کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورت طٰہٰ کا خلاصہ 'حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ اور پھر توحید، رسالت اور آخرت' کا بیان ہے۔
سورت طٰہٰ کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
1) ہمیں اللہ تعالیٰ سے اپنے علم میں اضافے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ 2) ہمیں نمازوں کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔