مکی سورت: سورۃ طٰہٰ مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (135) ایک سو پینتیس آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (08) آٹھ رکوع ہیں۔
سورۃ (طٰہٰ) نام کا معنی: اس سورت کا نام حروف تہجی کے دو حروف کا مجموعہ ہے۔
وجہ تسمیہ: سورۃ طٰہٰ ان سورتوں میں سے ہے جس کا نام حروفِ مقطعات پر رکھا گیا ہے۔ اس سورت کا آغاز حروفِ مقطعات میں سے 'طٰہٰ' سے ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ طٰہٰ ہے۔ (امام باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام سے روایت ہے کہ طٰہٰ اور یٰس رسول کریم ﷺ کے نام ہیں)
فضیلت: جن سورتوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ 'یہ میرا قدیم مال اور قیمتی اثاثہ ہیں' سورۃ طٰہٰ بھی ان سورتوں میں سے ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا تذکرہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ملتا ہے کہ جب وہ اپنی بہن کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہم سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن سے سورۃ طٰہٰ کی تلاوت سنی تو ان کے دل میں اسلام گھر کر گیا اور انہوں نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔
زمانہ نزول: سورۃ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں اسلام کی ابتداء میں نازل ہوئی۔ ممکن ہے کہ یہ ہجرت حبشہ کے زمانے میں یا اس کے بعد نازل ہوئی۔
شانِ نزول: سورۃ طٰہٰ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے نزول کا سبب یہ تھا کہ رسول اکرم ﷺ قرآن مجید کی تلاوت اور عبادت میں بہت زیادہ مشقت برداشت فرماتے تھے۔ کفارِ مکہ اس پر طعنہ دیتے تھے کہ (نعوذ باللہ) یہ قرآن آپ ﷺ کے لیے باعثِ مشقت بن گیا ہے۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا ہے کہ قرآن مشقت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت کے لیے ہے۔
سورۃ طٰہٰ کا خلاصہ ‘حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ اور پھر توحید، رسالت اور آخرت’ کا بیان ہے۔