نہم جماعت کے لیے

سورۃ الحج

پارہ 17 آیات 78 رکوع 10 مدنی

تعارف

مدنی سورت: سورۃ الحج کا آدھا حصہ مکہ مکرمہ میں اور آدھا حصہ مدینہ منورہ میں نازل ہوا۔ سورۃ الحج مدنی سورت ہے۔

رکوعات: اس سورت میں (10) دس رکوع ہیں۔

آیات کی تعداد: سورۃ الحج میں (78) اٹھتر آیات ہیں۔

سورۃ (حج) نام کا معنی: حج کا معنی زیارت کرنا ہے۔

وجہ تسمیہ: سورۃ الحج میں بتایا گیا ہے کہ حج حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں کس طرح شروع ہوا اور اس کے بنیادی ارکان کیا ہیں۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الحج ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ الحج کا ایک حصہ مکی دور کے آخر میں نازل ہوا اور دوسرا حصہ مدنی دور کے آغاز میں نازل ہوا۔

شانِ نزول: سورۃ الحج کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی آزمائش کے دور میں نازل ہوئی تاکہ انہیں صبر، استقامت، عبادت (خصوصاً حج) کی اہمیت اور ظلم کے خلاف دفاع کی اجازت دی جائے۔

مرکزی خیال

سورۃ الحج کا خلاصہ ‘قیامت کے احوال، حج و قربانی کا بیان اور جہاد کی اجازت’ ہے۔

اہم مضامین

ابتداء
سورۃ الحج کی ابتدا میں قیامت کے احوال کا بیان ہے جو کہ پلک جھپکنے کی سی دیر میں برپا ہو جائے گی۔
اچھا اور برا انجام
قیامت کے دن منافقوں اور کافروں کے برے اور مومنوں کے اچھے انجام کا بیان ہے۔
حج و قربانی کے احکام و حقیقت
سورۃ الحج میں حج و قربانی کے احکام بتائے گئے ہیں اور ان کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے۔
جہاد اور شرک
مشرکوں کے خلاف جہاد کی اجازت اور شرک سے منع کیا گیا ہے۔
جہاد کی اجازت
جہاد کی اجازت کو مسلمانوں کے لیے خوشخبری قرار دیا گیا ہے کیونکہ اب انھیں کافروں کے ظلم و ستم کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔
ایمان لانے کی دعوت
سورۃ الحج میں تمام انسانوں کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
آخری آیات
سورۃ الحج میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور انسانوں میں سے جس کو چاہا پیغام پہنچانے کے لیے منتخب کیا۔
عملِ صالح کا حکم
سورۃ الحج میں مسلمانوں کو عملِ صالح کا حکم دیا گیا ہے۔
اختتام
سورۃ الحج کے آخر میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، اور اللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ رسول اکرم ﷺ مسلمانوں پر گواہ ہوں گے اور مسلمان تمام انسانوں پر گواہ بنیں گے۔ سورت کا اختتام اس یقین دہانی پر ہوتا ہے کہ اللہ بہترین کارساز اور بہترین مددگار ہے۔

علمی و عملی نکات

قیامت کی ہولناکی
قیامت کے دن ایک نہایت سخت اور ہولناک دن ہو گا جو لوگوں کے ہوش اڑا دے گا۔ (سورۃ الحج: 1-2)
شیطان کی پیروی کا انجام
شیطان کے پیروی کرنے والے دنیا میں گمراہی اور آخرت میں عذاب میں ہوں گے۔ (سورۃ الحج: 3-4)
شرک کی تردید
شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ (سورۃ الحج: 9-172)
منافقین کا رویہ
منافقین اللہ تعالیٰ کی عبادت کنارے کنارے رہ کر کرتے ہیں اور دنیا کے فائدے پر خوش ہوتے ہیں، اور نقصان پر دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ (سورۃ الحج: 11)
کائنات کا سجدہ
ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہے۔ (سورۃ الحج: 18)
اللہ کی مدد
اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ (سورۃ الحج: 46)

ذخیرہ الفاظ

یُمْسِكُوہی روکے ہوئے ہے
یَمْشُوْنَوہ چلتے ہیں
مَنْسَكًاعبادت کا طریقہ

آیات و ترجمہ

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے لیے مسخر کر دیا جو کچھ زمین میں ہے اور کشتیاں سمندر میں اسی کے حکم سے چلتی ہیں اور وہی آسمان کو روکے ہوئے ہے کہ اس کے حکم کے بغیر وہ زمین پر گر نہیں پڑتے یقیناً اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا اور بہت مہربان ہے۔
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ
اور وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا پھر وہی تمہیں موت دے گا پھر وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا اور انسان تو بڑا ہی ناشکرا ہے۔
لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰی رَبِّكَ اِنَّكَ لَعَلٰی هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ
ہر امت کے لیے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس پر وہ چلتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ ہر گز وہ آپ سے اس معاملہ میں جھگڑا نہ کریں اور آپ اپنے ربّ کی طرف بلاتے رہیں بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں۔
وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
اور اگر وہ آپ سے جھگڑا کریں تو آپ فرما دیجیے اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔
اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ
اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ فرمائے گا جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورت الحج ہے۔
پہلی مرتبہ جہاد کی اجازت دی گئی
سورت کے شروع میں قیامت کے احوال کا بیان ہے
سورت الحج میں حکمرانوں کو تاکید کی گئی
سورت الحج میں جہاد کو مسلمانوں کے لیے قرار دیا گیا ہے

مختصر سوالات

سورت الحج کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
سورت الحج میں بتایا ہے کہ حج حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں کس طرح شروع ہوا اور اس کے بنیادی ارکان کیا ہیں۔
سورت الحج کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورت الحج کا خلاصہ 'حج و قربانی، قیامت کے احوال اور جہاد کی اجازت' کا بیان ہے۔
سورت الحج کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
1) شرک کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔ 2) ساری کائنات اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہے۔