مدنی سورت: سورۃ الحج کا آدھا حصہ مکہ مکرمہ میں اور آدھا حصہ مدینہ منورہ میں نازل ہوا۔ سورۃ الحج مدنی سورت ہے۔
رکوعات: اس سورت میں (10) دس رکوع ہیں۔
آیات کی تعداد: سورۃ الحج میں (78) اٹھتر آیات ہیں۔
سورۃ (حج) نام کا معنی: حج کا معنی زیارت کرنا ہے۔
وجہ تسمیہ: سورۃ الحج میں بتایا گیا ہے کہ حج حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں کس طرح شروع ہوا اور اس کے بنیادی ارکان کیا ہیں۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الحج ہے۔
زمانہ نزول: سورۃ الحج کا ایک حصہ مکی دور کے آخر میں نازل ہوا اور دوسرا حصہ مدنی دور کے آغاز میں نازل ہوا۔
شانِ نزول: سورۃ الحج کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی آزمائش کے دور میں نازل ہوئی تاکہ انہیں صبر، استقامت، عبادت (خصوصاً حج) کی اہمیت اور ظلم کے خلاف دفاع کی اجازت دی جائے۔
سورۃ الحج کا خلاصہ ‘قیامت کے احوال، حج و قربانی کا بیان اور جہاد کی اجازت’ ہے۔