سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الطلاق ہے۔ مقام نزول: سورۃ الطلاق کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔
آیات بینات کی تعداد: سورۃ الطلاق کی آیات بینات کی تعداد (12) بارہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ الطلاق کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام سورۃ الطلاق اس لیے ہے کیونکہ اس سورت میں طلاق اور اس کی عدت کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الطلاق رکھا گیا ہے۔
مرکزی موضوع: سورۃ الطلاق کا مرکزی موضوع "طلاق اور عدت کے احکام کا بیان ہے"۔
طلاق کے احکام: سورۃ الطلاق کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے طلاق اور اس کی عدت کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ یہ احکام درج ذیل ہیں۔۔۔
پہلا حکم: طلاق کا یہ طریقہ بتایا گیا ہے کہ حالت پاکی میں طلاق دی جائے اور عدت کو شمار کیا جائے۔
دوسرا حکم: دوران عدت مطلقہ کو گھر سے نہ نکالا جائے اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔
تیسرا حکم: جب عدت پوری ہونے لگے تو دو صورتیں ہیں یا تو اچھے طریقے سے روک لیا جائے یا بھلائی کے ساتھ جدا کر دیا جائے۔
چوتھا حکم: عدت مکمل ہونے پر رجوع یا جدائی کے وقت دو عادل گواہ مقرر کیے جائیں۔
مطلقہ کی عدت کا تذکرہ: سورۃ الطلاق میں مختلف حالات میں مطلقہ کی عدت کا تذکرہ کیا گیا ہے مثلاً حاملہ عورت کی عدت بچے کی پیدائش تک ہے۔ جو عورتیں طلاق کے بعد حیض سے ناامید ہو جائیں ان کی عدت تین ماہ ہے۔
مطلقہ کی رہائش کے احکام: عدت کے دوران مطلقہ کی رہائش اور خرچ کے احکام بیان کیے گئے ہیں کہ انہیں اسی گھر میں رکھا جائے جہاں شوہر خود رہتا ہو اور ان کو تنگ نہ کیا جائے۔ حاملہ ہونے کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک اس کا خرچ اٹھایا جائے۔ اور دودھ پلانے پر اجرت بھی دی جائے۔
انفاق کا حکم: اللہ تعالیٰ نے طلاق کے معاملات میں بھی انفاق اور خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو وسعت والا ہے وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس پر رزق تنگ کر دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا سوائے اس کے جو اسے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد عنقریب آسانی پیدا فرما دے گا۔
سابقہ اقوام کا تذکرہ: سابقہ اقوام کی نافرمانی اور ان کے انجام کا تذکرہ کرتے ہوئے موجودہ لوگوں کو عبرت دلائی گئی ہے کہ ان اقوام نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے احکامات کی نافرمانی کی تو انہیں سخت عذاب میں مبتلا کیا گیا۔ لہذا اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد: سورۃ الطلاق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتے ہیں۔ جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے، ان کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان: سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے کہ اس نے سات آسمان اور اسی طرح کی زمینیں پیدا کی ہیں اور ان کے درمیان اس کا حکم نازل ہوتا ہے تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔