بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ التَّحْرِیْم

پارہ 28 آیات 12 رکوع 2 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ التحریم ہے۔ مقام نزول: سورۃ التحریم کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔

آیات بینات کی تعداد: سورۃ التحریم کی آیات بینات کی تعداد (12) بارہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ التحریم کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔

وجہ تسمیہ: التحریم کا معنی "حرام کرنا" ہے۔ سورت کے آغاز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی بیویوں کی رضا جوئی کے لیے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینے کا ذکر ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ التحریم ہے۔

شان نزول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ عصر کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس کچھ دیر ٹھہرے اور شہد نوش فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپس میں طے کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئیں تو ہم کہیں گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر (ایک بدبودار گوند) کی بو آ رہی ہے۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے اور قسم کھائی کہ آئندہ شہد نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔

مرکزی موضوع: سورۃ التحریم کا مرکزی موضوع "حلال و حرام کے اختیارات اور اہل ایمان کو اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی تلقین کا بیان ہے"۔

مرکزی خیال

حلال و حرام کے اختیارات: سورۃ التحریم کے آغاز میں بتایا گیا ہے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر لے۔

قسم کا کفارہ: قسم کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قسموں کو کھولنے کے طریقے مقرر کر دیے ہیں لہذا اگر کوئی ایسی قسم کھا لے تو وہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے۔

ازواج مطہرات کو تنبیہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کریں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچے۔ اللہ تعالیٰ، جبریل علیہ السلام، نیک مومن اور فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ان سے بہتر بیویاں عطا فرما دے گا۔

اہل و عیال کی تربیت کا حکم: اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچائیں۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔

توبہ نصوح کی تلقین: مومنوں کو توبہ نصوح (سچی توبہ) کی تلقین کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے اور انہیں جنت میں داخل فرما دے۔

کفار اور منافقین سے جہاد: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار اور منافقین سے جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کفار کی عورتوں کی مثالیں: سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کی مثال دی ہے کہ وہ نبیوں کی بیویاں ہونے کے باوجود کفر پر قائم رہیں اور ان کا نبیوں سے رشتہ ان کے کچھ کام نہ آیا اور وہ دوزخ میں گئیں۔

مومنات کی مثالیں: مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت مریم علیہا السلام کی مثال دی ہے کہ حضرت آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرعون کے کفر اور ظلم کے باوجود ایمان قبول کیا اور اللہ تعالیٰ سے جنت میں گھر کی دعا کی۔ اور حضرت مریم علیہا السلام نے اپنی عصمت کی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرماں برداروں میں سے ہو گئیں۔

آیات و ترجمہ

آیت 6
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ
آیت 8
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۙ

کثیرالانتخابی سوالات

التحریم کا معنی ہے:
سورۃ التحریم میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی ہے:
سورۃ التحریم میں دوزخ کی آگ کا ایندھن بتایا گیا ہے:
سورۃ التحریم میں مومنوں کے لیے مثال دی گئی ہے:
فرعون کی بیوی کا نام تھا:

مختصر سوالات

سورۃ التحریم کی وجہ تسمیہ بیان کریں۔˅
التحریم کا معنی "حرام کرنا" ہے۔ سورت کے آغاز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی بیویوں کی رضا جوئی کے لیے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لینے کا ذکر ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ التحریم ہے۔
سورۃ التحریم کا شان نزول تحریر کریں۔˅
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ عصر کے بعد ازواج مطہرات کے پاس جایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ دیر ٹھہرے اور شہد نوش فرمایا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں طے کیا کہ ہم کہیں گی کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آ رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے اور قسم کھائی کہ آئندہ شہد نہیں پیوں گا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی۔
توبہ نصوح سے کیا مراد ہے؟˅
توبہ نصوح سے مراد سچی توبہ ہے جس کے بعد انسان گناہوں سے مکمل طور پر باز آجائے اور دوبارہ ان گناہوں کی طرف نہ لوٹے۔
اہل ایمان کو اپنے اہل و عیال کے حوالے سے کیا حکم دیا گیا ہے؟˅
اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچائیں۔ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔
سورۃ التحریم میں کفار کے لیے کن عورتوں کی مثال بیان کی گئی ہے؟˅
سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کی مثال دی ہے کہ وہ نبیوں کی بیویاں ہونے کے باوجود کفر پر قائم رہیں اور ان کا نبیوں سے رشتہ ان کے کچھ کام نہ آیا اور وہ دوزخ میں گئیں۔