بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ التَّغَابُن

پارہ 28 آیات 18 رکوع 2 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ التغابن ہے۔ مقام نزول: سورۃ التغابن کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔

آیات بینات کی تعداد: سورۃ التغابن کی آیات کی تعداد (18) اٹھارہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ التغابن کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔

وجہ تسمیہ: التغابن اس سورت کی آیت نمبر نو سے لیا گیا ہے۔ التغابن کا معنی "خسارہ یعنی نقصان" ہے۔ قیامت کے دن اہل محشر کا خسارہ واضح ہو گا اور انہیں معلوم ہو گا کہ ہم نے دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا تھا۔ اس لیے قیامت کے دن کا ایک نام یوم التغابن بھی ہے۔

خصوصیت: یہ سورت مسبحات میں سے آخری سورت ہے یعنی ایسی سورتیں جن کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی گئی ہو اسے مسبحات کہتے ہیں۔

مرکزی موضوع: سورۃ التغابن کا مرکزی موضوع "عقیدہ توحید، اللہ تعالیٰ کی قدرت، قیامت کے دن کے احوال، جنت اور دوزخ کا بیان اور انفاق فی سبیل اللہ" کا بیان ہے۔

مرکزی خیال

اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا تذکرہ: سورۃ التغابن کا آغاز اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے ہوتا ہے کہ زمین اور آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا بیان: سورۃ التغابن میں اللہ تعالیٰ کی مختلف قدرتوں کا بیان ہے جن میں سے چند یہ ہیں۔۔۔

1): انسانوں کی کفر و ایمان پر تقسیم، 2): کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ کرنا، 3): انسان کو حسین صورت میں پیدا کرنا، 4): لوگوں کے تمام اعمال اور خفیہ رازوں کا جاننا۔

کفار کو تنبیہ: سورۃ التغابن میں سابقہ اقوام کے احوال بیان کر کے کفار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ سابقہ اقوام کے کفر اور رسولوں کی مخالفت کی وجہ سے ان کو دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھنا پڑا اور آخرت میں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

کفار کے عقیدے کی تردید: کفار کا عقیدہ تھا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے ان کے اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے کہ ضرور دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور ان کے اعمال سے انہیں باخبر کیا جائے گا۔

یوم التغابن: اس سورت میں قیامت کے دن کو یوم التغابن کہا گیا ہے کیونکہ اس دن ظالموں کا نقصان ظاہر ہو گا۔

اہل ایمان کے انجام کا ذکر: اس سورت میں اہل ایمان کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو ایمان لائے اور اس نے نیک عمل کیے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔

کفار کے انجام کا ذکر: اس سورت میں کفار کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو کفر کریں اور ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ جہنم میں داخل ہوں گے۔

تقدیر پر ایمان کا بیان: تقدیر پر ایمان کا بیان کیا گیا ہے کہ جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنچتی ہے۔

اہل ایمان کی آزمائش: اس کے بعد اہل ایمان کی آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے کہ اولاد اور مال آزمائش ہیں ان سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی گئی ہے کہ کہیں یہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کر دیں۔

انفاق فی سبیل اللہ کا حکم: سورت کے آخر میں تقویٰ اختیار کرنے، سمع و اطاعت بجا لانے اور انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو قرض حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ اور فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا بڑھا دے گا اور مغفرت فرمائے گا۔

آیات و ترجمہ

آیت 14
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْۚ وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
آیت 15
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
آیت 16
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

کثیرالانتخابی سوالات

التغابن کا معنی ہے:
سورۃ التغابن میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا فرمایا ہے:
یوم التغابن نام ہے:
سورۃ التغابن میں مال اور اولاد کو قرار دیا گیا ہے:
سورۃ التغابن قرآن مجید کی سورت ہے:

مختصر سوالات

یوم التغابن سے کیا مراد ہے؟˅
یوم التغابن سے مراد خسارے والا دن ہے۔ قیامت کے دن اہل محشر کا خسارہ واضح ہو گا اور انہیں معلوم ہو گا کہ ہم نے دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا تھا۔ اس لیے قیامت کے دن کا ایک نام یوم التغابن بھی ہے۔
سورۃ التغابن میں کفار کے کس عقیدے کی تردید کی گئی ہے؟˅
کفار کا عقیدہ تھا کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے ان کے اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے کہ ضرور دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور ان کے اعمال سے انہیں باخبر کیا جائے گا۔
سورۃ التغابن کا مرکزی موضوع تحریر کریں۔˅
سورۃ التغابن کا مرکزی موضوع "عقیدہ توحید، اللہ تعالیٰ کی قدرت، قیامت کے دن کے احوال، جنت اور دوزخ کا بیان اور انفاق فی سبیل اللہ" کا بیان ہے۔
سورۃ التغابن کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا اجر تحریر کریں۔˅
سورۃ التغابن میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کو قرض حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ اور فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا بڑھا دے گا اور مغفرت فرمائے گا۔
سورۃ التغابن میں تقدیر کے متعلق کیا بیان کیا گیا ہے؟˅
سورۃ التغابن میں تقدیر پر ایمان کا بیان کیا گیا ہے کہ جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہنچتی ہے۔