بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ الْمُنَافِقُوْن

پارہ 28 آیات 11 رکوع 2 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ المنافقون ہے۔ مقام نزول: سورۃ المنافقون کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔

آیات کی تعداد: سورۃ المنافقون کی آیات کی تعداد (11) گیارہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ المنافقون کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام سورۃ المنافقون کی پہلی آیت سے ماخوذ ہے اس میں منافقین کے کردار اور بری صفات کا تذکرہ ہے۔

شان نزول: سورۃ المنافقون کا شان نزول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایک غزوہ سے واپسی پر راستے میں قیام کیا جہاں دو مسلمانوں کا آپس میں جھگڑا ہو گیا مہاجر نے مدد کے لیے مہاجرین کو اور انصار نے انصار کو پکارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ رفع دفع کروا دیا منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کو جب اس واقعہ کا پتہ چلا تو اس نے کہا کہ جب ہم مدینہ منورہ واپس پہنچیں گے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے ارد گرد سے منتشر ہو جائیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر پوچھا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کہا لوگ کہنے لگے زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے مجھے لوگوں کی باتوں سے بہت تکلیف پہنچی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ میں میری تصدیق نازل فرما دی۔

فضیلت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ کو جمعہ کے دن ان سورتوں "سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون" کی تلاوت کرتے سنا۔

مرکزی موضوع: سورۃ المنافقون کا مرکزی موضوع "منافقین کی عادات نفاق کے اسباب اور نفاق کی سزا" کا بیان ہے۔

مرکزی خیال

منافقین کے کردار کا بیان: سورۃ المنافقون کے آغاز میں منافقین کے کردار کا بیان کرتے ہوئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان جھوٹی قسموں کو اپنے لیے بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں نہ یہ خود صراط مستقیم پر چلتے ہیں اور نہ ہی یہ دوسروں کو چلنے دیتے ہیں ان کے اس کے کردار کی وجہ ان کا نفاق ہے۔

اللہ تعالیٰ کا مہر لگانا: جب ان لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر اختیار کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے لہذا یہ خوشحال صاحب حیثیت اور فصیح اللسان ہونے کے باوجود بھی بیکار لکڑیوں کی مانند ہیں۔ ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

منافقین کے لیے دعائے مغفرت سے ممانعت: سورۃ المنافقون میں منافقین کی حد سے بڑھی ہوئی شرارتوں کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے لیے دعائے مغفرت سے روک دیا گیا۔

اہل ایمان کو تنبیہ: سورۃ المنافقون میں اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اولاد اور مال کی محبت تمہیں ذکر الہی سے غافل نہ کر دے۔

آخرت میں خسارے کا سبب: ذکر الہی سے غفلت دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ کا حکم: اہل ایمان کو موت سے پہلے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

آیات و ترجمہ

آیت 10
وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ

کثیرالانتخابی سوالات

فصیح اللسان ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے سورۃ المنافقون میں منافقین کو کہا ہے:
منافقین اپنے لیے بطور ڈھال استعمال کرتے تھے:
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الجمعہ اور سورۃ المنافقون تلاوت فرماتے تھے:
سورۃ المنافقون کی آیات کی تعداد ہے:
عبد اللہ بن ابی کے منصوبے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ظاہر کیا:

مختصر سوالات

سُورَةُ الْمُنَافِقُوْنَ کا شان نزول بیان کریں۔˅
سُورَةُ الْمُنَافِقُوْنَ کا شان نزول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ایک غزوہ سے واپسی پر راستے میں قیام کیا جہاں دو مسلمانوں کا آپس میں جھگڑا ہو گیا مہاجر نے مدد کے لیے مہاجرین کو اور انصار نے انصار کو پکارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاملہ رفع دفع کروا دیا منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کو جب اس واقعہ کا پتہ چلا تو اس نے کہا کہ جب ہم مدینہ منورہ واپس پہنچیں گے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے ارد گرد سے منتشر ہو جائیں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو بلا کر پوچھا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کہا لوگ کہنے لگے زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ بولا ہے مجھے لوگوں کی باتوں سے بہت تکلیف پہنچی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ میں میری تصدیق نازل فرما دی۔
سُورَةُ الْمُنَافِقُوْنَ کا مرکزی مضمون تحریر کریں۔˅
سورۃ المنافقون کا مرکزی موضوع "منافقین کی عادات نفاق کے اسباب اور نفاق کی سزا" کا بیان ہے۔
مہاجرین اور انصار کے باہمی اختلاف کو عبد اللہ بن ابی نے کیسے بڑھایا؟˅
مہاجرین اور انصار کے باہمی اختلاف کو عبد اللہ بن ابی نے مزید بڑھانے کے لیے کہا کہ جب ہم مدینہ منورہ واپس پہنچیں گے تو جو عزت والا ہے وہ ذلت والے کو نکال باہر کرے گا اور کہنے لگا کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں یہاں تک کہ وہ ان کے ارد گرد سے منتشر ہو جائیں۔
سُورَةُ الْمُنَافِقُوْنَ میں منافقین کی کون سی بری خصلتوں کا ذکر ہے؟˅
سورۃ المنافقون کے آغاز میں منافقین کی بری خصلتوں کا بیان کرتے ہوئے ذکر کیا گیا ہے کہ 1۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں 2۔ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان جھوٹی قسموں کو اپنے لیے بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔ 3۔ نہ یہ خود صراط مستقیم پر چلتے ہیں اور نہ ہی یہ دوسروں کو چلنے دیتے ہیں ان کے اس کے کردار کی وجہ ان کا نفاق ہے۔
سُورَةُ الْمُنَافِقُوْنَ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین کے لیے دعا مغفرت سے کیوں منع فرمایا گیا ہے؟˅
سورۃ المنافقون میں منافقین کی حد سے بڑھی ہوئی شرارتوں کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے لیے دعائے مغفرت سے روک دیا گیا۔