سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الممتحنة ہے۔ مقام نزول: سورۃ الممتحنة کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔
آیات بینات کی تعداد: سورۃ الممتحنة کی آیات کی تعداد (13) تیرہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ الممتحنة کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔
زمانہ نزول: سورۃ الممتحنة کا زمانہ نزول صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کا درمیانی دور ہے۔
وجہ تسمیہ: سورت الممتحنة کا معنی "جانچ پرکھ والی" کے ہیں۔ سورۃ مبارکہ کا نام اس کی دسویں آیت سے ماخوذ ہے۔ اس آیت مبارکہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو عورتیں مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئی ہیں ان کی جانچ پرکھ کر لی جائے اگر وہ مومنہ ہو تو انہیں واپس کفار کے پاس نہ بھیجا جائے۔
شان نزول: صلح حدیبیہ کے معاہدے میں مشرکین مکہ نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ اگر ہمارا کوئی آدمی آپ کے یہاں مدینہ منورہ میں پناہ لے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو آپ کو اسے ہمارے حوالے کرنا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی تسلیم کرلی تھی مدینہ منورہ میں جو بھی آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کر دیتے خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا اس مدت میں بعض مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ سے آئیں ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں سے ہیں جو اس مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں۔ وہ اس وقت جوان تھی ان کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کر دیں اس پر اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں یہ آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ نازل کی جو صلح حدیبیہ کے شرط کے مناسب تھی۔
مرکزی موضوع: سورۃ الممتحنة کا مرکزی موضوع "ایسے کفار سے دوستی اور ذاتی تعلقات کی غرض سے روابط رکھنے کی ممانعت بیان کی کہ یہ جو اسلام دشمنی میں پیش پیش رہتے تھے"۔
دشمنان اسلام سے دوستی کی ممانعت: فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خفیہ خط کے ذریعے کفار کے سرداروں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے کی اطلاع بھیجنے کی کوشش کی آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ان پر حملہ کرنے والے ہیں جسے ناکام بنا دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کو تعلیم دی کہ کسی مومن کو کسی حال میں اور کسی غرض کے لیے بھی اسلام دشمن کافروں کے ساتھ محبت اور دوستی کا تعلق رکھنا مناسب نہیں ہے۔
کافروں کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنے کا حکم: جو کافر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عملاً دشمنی اور ازار رسانی کا برتاؤ نہ کریں تو ان کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
دشمنان اسلام سے دوستی کے ممانعت کی وجہ: سورۃ الممتحنة کے آغاز میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اور اہل اسلام کے دشمنوں سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کو ان کے گھروں سے نکالا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ مسلمان کافر ہو جائیں۔
تعلقات کفار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ کا ذکر: کفار کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں مسلمانوں کے لیے بطور نمونہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسوہ حسنہ ذکر کیا گیا ہے کہ اہل ایمان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کی پیروی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کفار سے اس وقت تک تعلقات منقطع کرنے کا اعلان فرمایا تھا جب تک وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے۔
کفار کے دو گروہوں کا تذکرہ: اس سورۃ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے دو گروہوں کا ذکر فرمایا ہے۔۔۔۔
پہلا گروہ: وہ گروہ جو مسلمانوں سے لڑائی نہیں کرتا اور نہ ہی انہیں گھروں سے نکالتا ہے ایسے کفار کے ساتھ تعلقات رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسرا گروہ: وہ گروہ جو مسلمانوں پر ظلم و زیادتیاں کرتا ہے اور ان سے لڑائیاں کرتا ہے ایسے کفار سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
مومنہ عورتوں کی واپسی کا حکم: مشرکین سے قطع تعلقی کے نتیجے میں پیش آنے والے معاملات کے ذکر میں جب مومن عورتیں ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس آئیں تو ان کی جانچ پرکھ کر لی جائے اگر وہ مسلمان ہو تو ان کو واپس نہ کیا جائے اور ان کے متعلق دیگر احکام بھی بیان کیے گئے ہیں۔
اہم ترین معاشرتی مسئلے کا فیصلہ: اس سورۃ مبارکہ میں ایک اہم معاشرتی مسئلہ کا حل بیان کیا گیا ہے جو اس وقت بڑی پیچیدگی پیدا کر رہا تھا۔ مکہ میں بہت سی مسلمان عورتیں ایسی تھیں جن کے شوہر کافر تھے اور وہ کسی نہ کسی طرح ہجرت کر کے مدینہ پہنچ جاتی ہیں اسی طرح مدینہ میں بہت سے مسلمان مرد ایسے تھے جن کی بیویاں کافر تھیں اور وہ مکہ میں ہی رہ گئی تھی ان کے بارے میں سوال پیدا ہوتا تھا کہ ان کے درمیان رشتہ ازواج باقی ہے یا نہیں اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فیصلہ فرما دیا کہ مسلمان عورت کے لیے کافر شوہر حلال نہیں اور مسلمان مرد کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ مشرک بیوی کو اپنے نکاح میں رکھے۔
مومنہ عورتوں سے بیعت لینے کا حکم: اس سورۃ مبارکہ کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایات فرمائی گئی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہجرت کرنے والی مومنہ عورتوں سے ان امور پر بیعت لیں۔ یہ امور وہ تھے جو زمانہ جاہلیت میں عرب کے معاشرے میں عورتوں کے اندر پھیلے ہوئے تھے۔۔۔
1): وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔ 2): چوری نہیں کریں گی۔ 3): بدکاری نہیں کریں گی۔
4): اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ 5): کسی پر الزام نہیں لگائیں گی۔ 6): نیکی کے کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گی۔