سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الحشر ہے۔
مقام نزول: سورۃ الحشر کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔
آیات بینات کی تعداد: سورۃ الحشر کی آیات بینات کی تعداد (24) چوبیس ہے۔
رکوعات کی تعداد: سورۃ الحشر کے رکوعات کی تعداد (03) تین ہے۔
زمانہ نزول: سورۃ الحشر چار ہجری میں غزوہ بنو نضیر کے موقع پر نازل ہوئی۔ اس سورت میں بنو نضیر کی جلاوطنی، مسلمانوں کو حاصل ہونے والے مال فے کے احکام، منافقین کے کردار، اور اہل ایمان کو تقویٰ، اتحاد اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی تلقین کی گئی ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام اس کی دوسری آیت سے ماخوذ ہے۔ حشر کا معنی "منتشر افراد" کو اکٹھا کرنا ہے۔ یہاں اس سے مراد بنو نضیر کے تمام افراد کی مدینہ منورہ سے جلاوطنی ہے کیونکہ ان کے تمام افراد کو جمع کیا گیا اور مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا جس کے لیے "جلاء" کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جس کا معنی "بال بچوں سمیت جلاوطن کرنا" ہے۔ یہ سورت مبارکہ بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی۔
شان نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سورۃ الحشر قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ بنو نضیر مدینہ کے یہودی قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیے گئے معاہدے کو توڑا اور آپ ﷺ کو شہید کرنے کی سازش کی۔ اس خیانت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کا محاصرہ کیا گیا۔ چند دن کے محاصرے کے بعد وہ مدینہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ان کی چھوڑی ہوئی جائیداد (فے) مسلمانوں کے اختیار میں آگئی۔ سورۃ الحشر میں بنو نضیر کی عہد شکنی اور انجام، مال فے کے احکام، مہاجرین و انصار کی فضیلت، منافقین کے کردار، اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ کے ذریعے تقویٰ کی تلقین بیان کی گئی ہے۔
پس منظر: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ آباد ہوئے تو وہاں یہودیوں کے تین قبائل بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنو نضیر آباد تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں میثاق مدینہ کے تحت مذہبی، معاشرتی اور معاشی آزادی عطا کی اور معاشرے میں مقام عطا فرمایا۔ یہودی اس معاہدے کا پاس نہ رکھ سکے اور بالآخر یہودیوں کو مدینہ بدر کر دیا گیا۔
بنو نضیر کی سازشیں: غزوہ بدر میں کفار کو شکست ہوئی جس کے بعد بنو نضیر کے سردار کعب بن اشرف نے مکہ مکرمہ جا کر کفار و مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا اس کے بعد غزوہ احد میں مسلمانوں کے نقصان کے بعد یہودیوں کے حوصلے مزید بلند ہوئے حتی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کر دینے جیسا مذموم ارادہ کیا۔
بنو نضیر کا محاصرہ: بنو نضیر کی حرکتوں کی وجہ سے ان کے خلاف فیصلہ کن اقدام لازم ہو گیا تھا۔ مسلمانوں نے 15 دن تک بنو نضیر کا محاصرہ کیے رکھا آخر انہوں نے اس شرط پر صلح کر لی کہ اپنے ہتھیار یہیں چھوڑ جائیں گے اور جتنا سامان اٹھا سکتے ہیں لے کر جائیں گے اس طرح یہ لوگ خیبر جا کر آباد ہو گئے۔
فضیلت: یہ سورت بھی مسبحات میں شامل ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات کی تلاوت فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ "ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ایک ہزار آیات سے افضل ہے"۔
مرکزی موضوع: سورۃ الحشر کا مرکزی موضوع "یہود مدینہ کے انجام مال فے کی تقسیم منافقین کی منافقت اور اہل ایمان کی صفات "بیان کی گئی ہیں"۔
اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور قدرت کاملہ کا بیان: سورۃ الحشر کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور قدرت کاملہ کا بیان ہے یعنی اللہ تعالیٰ غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔
مدینہ منورہ سے یہود کی جلاوطنی کا تذکرہ: سورۃ الحشر میں بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ میں یہودیوں کے صدیوں سے آباد قبائل کو گھروں سے نکال دیا جنہیں گمان بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو گا۔ سورۃ الحشر میں بیان ہے کہ بنو نضیر نے عہد شکنی اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف سازش کی، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں مدینہ منورہ سے جلاوطن کر دیا گیا۔
اخلاقی برائیوں کی مذمت: اس سورت میں بعض اخلاقی برائیوں کی مذمت اور ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے مثلاً بخل سے متعلق فرمایا گیا ہے کہ جسے بخل سے بچا لیا گیا وہ کامیاب ہو گیا۔
اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم: سورۃ الحشر میں مسلمانوں کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس چیز کا حکم دیں اس کو بجا لائیں اور جسے منع کریں اس سے رک جائیں۔
مال فے کے احکام: سورۃ الحشر میں غزوہ بنو نضیر کے نتیجے میں حاصل ہونے والے اموال کے حوالے سے احکام بیان کیے گئے ہیں قبیلہ بنو نضیر کے اموال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور فے عطا کیے تھے مال فے خالص اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے اس میں سے مختص کرتے پھر جو باقی بچتا اسے جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں اور ہتھیاروں میں خرچ کرتے۔
مال فے سے مراد: مال فے سے مراد وہ مال ہے جو مسلمانوں کو میدان جنگ سے بغیر لڑائی کے حاصل ہو۔
مال فے کی تقسیم کا حکم: مال کی تقسیم کے حوالے سے فقراء مہاجرین انصار اور عام مسلمانوں کی چند صفات بیان کر کے ان کے استحقاق کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔
مال کی گردش اور اس کی منصفانہ تقسیم: سورۃ الحشر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مال کی گردش اور اس کی منصفانہ تقسیم صرف مال غنیمت اور مال فے ہی نہیں بلکہ پورے نظام حیات میں رکھی گئی ہے تاکہ ملکی وسائل چند با اثر افراد کے ہاتھوں ہی میں سمٹ کر نہ رہ جائیں اسی آیت میں اس بات کی وضاحت ہوئی ہے کہ صرف مالی نظام ہی نہیں بلکہ ہر شعبے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو اسی میں تمہاری فلاح ہے۔
مہاجرین کی تعریف: مہاجرین کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ “وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا فضل اور رضا طلب کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار ہیں اور سچے ہیں”۔
انصار کی تعریف: انصار کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ “یہ ثابت قدم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگ مہاجرین سے محبت کرتے ہیں اپنی ذات پر مہاجرین کو ترجیح دیتے ہیں”۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف: صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ “یہ کتنے ہی تنگ دست اور ضرورت مند کیوں نہ ہوں یہ ہمیشہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں اور ہر معاملے میں ایثار سے کام لیتے ہیں”۔
علامات منافقین: اس کے بعد منافقین کی چند علامات بیان ہوئی ہیں۔۔۔ 1): منافقین لوگ دشمنان اسلام سے ہمدردیاں رکھتے ہیں۔ 2): انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اگر تمہیں مدینہ منورہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیں گے۔ 3): اگر تم سے جنگ کی گئی تو بھی ہم تمہاری مدد کریں گے حالانکہ یہ دونوں ناسمجھ ہیں۔ 4): حقیقت میں یہ آپس میں بھی ہمدرد نہیں ہیں۔ 5): ان کے دل جدا جدا ہیں۔ 6): یہ کھلے میدانوں میں آنے سے ڈرتے ہیں۔ 7): ان کی مثال شیطان کی ہے جو پہلے انسان کو کہتا ہے انکار کر جب وہ انکار کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں۔
اہل ایمان کو نصیحت: سورۃ الحشر میں اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے آخرت کی تیاری کرنے قرآن مجید میں غور و فکر کرنے اور نصیحتوں پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔