بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ الصَّف

پارہ 28 آیات 14 رکوع 2 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الصف ہے۔ مقام نزول: سورۃ الصف مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔

آیات بینات کی تعداد: سورۃ الصف کی آیات بینات کی تعداد (14) چودہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ الصف کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت نمبر چار میں لفظ "صفا" کی نسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الصف رکھا گیا ہے۔

خصوصیت: یہ سورۃ مسبحات میں شامل ہے کیونکہ اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے ہو رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات کی تلاوت فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ایک ہزار آیات سے افضل ہے۔

شان نزول: سورۃ الصف کی ابتدائی آیات کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ باتیں کر رہے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے تو ہم اس پر عمل کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصف کی پہلی دو آیات نازل فرمائیں۔

مرکزی موضوع: سورۃ الصف کا مرکزی موضوع "جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی حقانیت کا بیان" ہے۔

مرکزی خیال

پسندیدہ اعمال کا تذکرہ: سورۃ الصف کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو پسندیدہ اعمال کا ذکر فرمایا ہے۔

پہلا عمل: جب دوسروں کو نیکی کا حکم دیا جائے تو اس پر خود بھی عمل کیا جائے۔

دوسرا عمل: مسلمانوں کا صف باندھ کر جنگی منصوبہ بندی کر کے دلیری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا۔

جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب: مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی اقوام کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کی نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ ایمان والوں کو نصیحت کی کہ تم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر کرو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے اور اشاعت دین کے معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتے رہو اللہ تعالیٰ ضرور تمہاری مدد کرے گا تمہیں بہت سی نعمتوں یعنی غنیمتوں سے نوازے گا تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا۔

امت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ: امت محمدیہ کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دین کے ساتھ تمہاری روش وہ نہیں ہونی چاہیے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل نے اختیار کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا رسول جاننے کے باوجود ان کی قوم تنگ کرتی رہی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کھلی کھلی نشانیاں دیکھ لینے کے باوجود ان کو جھٹلانے سے باز نہ آئے نتیجہ یہ ہوا کہ ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کر لی گئی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا ذکر: سورۃ الصف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا ذکر ہے کہ میرے بعد نبی مبعوث ہو گا جس کا نام احمد ہو گا اس بشارت سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “میں ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت ہوں”۔ اس بشارت کی تصدیق کرتے ہوئے مسیحی بادشاہ شاہ حبشہ اصحمہ نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گفتگو سن کر کہا کہ یہ وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے دی تھی۔

غلبہ اسلام کی بشارت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ ہم نے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے اور ہم انہیں ان کے دین کو سب پر غالب کر دیں گے مشرکین کو خواہ کتنا ہی ناگوار لگے رسول برحق کا لایا ہوا دین تمام ادیان پر غالب آ کر رہے گا۔

دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز: اہل ایمان کو بتایا گیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کی راہ صرف ایک ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لایا جائے اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرو آخرت میں اس کا ثمر اللہ کے عذاب سے نجات گناہوں کی مغفرت اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حصول جنت ہے۔ دنیا میں اس کا انعام اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور فتح ہے۔

اہل ایمان کو تلقین: سورۃ الصف کے آخر پر اہل ایمان کو تلقین دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی راہ میں ان کا ساتھ دیا اس طرح وہ بھی انصار بنیں تاکہ کافروں کے مقابلہ میں ان کو بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل ہو جس طرح پہلے ایمان لانے والوں کو ہوا کرتی تھی۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورۃ صف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سلام نے بشارت دی:
سورۃ صف کو مسبحات میں شامل کرنے کی وجہ ہے:
سورۃ الصف کی آیات ہیں:
سورۃ الصف کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ عمل کا تذکرہ ہے:
سورۃ الصف میں رکوع ہیں:

مختصر سوالات

سورۃ صف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کس بشارت کا ذکر ہے؟˅
سورۃ الصف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا ذکر ہے کہ میرے بعد نبی مبعوث ہو گا جس کا نام احمد ہو گا اس بشارت سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "میں ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت ہوں"۔ اس بشارت کی تصدیق کرتے ہوئے مسیحی بادشاہ شاہ حبشہ اصحمہ نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گفتگو سن کر کہا کہ یہ وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے دی تھی۔
سورۃ صف کا مرکزی موضوع تحریر کریں۔˅
سورۃ الصف کا مرکزی موضوع "جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی حقانیت کا بیان" ہے۔
سورۃ الصف کی ابتدائی دو آیات کا شان نزول تحریر کریں۔˅
سورۃ الصف کی ابتدائی آیات کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ باتیں کر رہے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے تو ہم اس پر عمل کرتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الصف کی پہلی دو آیات نازل فرمائیں۔
سورۃ الصف میں دوسروں کو نیکی کا حکم دینے کا کیا اصول بیان کیا گیا ہے؟˅
سورۃ الصف میں دوسروں کو نیکی کا حکم دینے کا کیا اصول بیان کیا گیا ہے کہ جب دوسروں کو نیکی کا حکم دیا جائے تو اس پر خود بھی عمل کیا جائے۔
حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی گفتگو شاہ نجاشی نے کیا کہا؟˅
شاہ حبشہ اصحمہ نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گفتگو سن کر کہا کہ یہ وہی رسول ہیں جن کی بشارت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے دی تھی۔