بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ الْمُجَادَلَة

پارہ 28 آیات 22 رکوع 3 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ المجادلة ہے۔ مقام نزول: سورۃ المجادلة کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔

آیات بینات کی تعداد: سورۃ المجادلة کی آیات بینات کی تعداد (22) بائیس ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ المجادلة کے رکوعات کی تعداد (03) تین ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ المجادلة مدینہ منورہ میں سورۃ الاحزاب کے بعد نازل ہوئی۔

وجہ تسمیہ: المجادلة کا معنی "بحث و تکرار" ہے۔ سورۃ المجادلة کی پہلی آیت میں ایک عورت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بحث و تکرار کا ذکر ہے۔ جس میں انہوں نے ظہار کے معاملے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ المجادلة ہے۔

شان نزول: حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہر نے ان سے ظہار کر لیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں جب حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی "قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ" ترجمہ "یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کر رہی تھی"۔

مرکزی موضوع: سورۃ المجادلة کا مرکزی موضوع "احکام شریعت آداب مجلس اور منافقین کے رویے کا بیان ہے"۔

مرکزی خیال

ظہار سے متعلق تفصیلی احکام: سورۃ المجادلة کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ظہار سے متعلق تفصیلی احکام سے نازل فرمائے ہیں۔ سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے صرف اتنا بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظہار کر بیٹھے ہو تمہاری مائیں نہیں بنایا۔ اس سورت میں ظہار کا پورا قانون بیان کر دیا گیا ہے۔

ظہار: ظہار سے مراد اپنی بیوی کو ماں، بہن یا کسی بھی محرم عورت جیسا کہہ کر جدا کرنا ہے، زمانہ جاہلیت میں جو جدائی ہمیشہ کے لیے ہوتی تھی یعنی ظہار والی عورت نہ کسی سے شادی کر سکتی تھی اور نہ واپس اپنے پہلے شوہر کے ساتھ رہ سکتی تھی، اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی ہے کہ مائیں وہی ہیں جنہوں نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ سو تمہاری بیویاں تمہاری مائیں نہیں بن سکتیں۔

ظہار کے کفارہ کی صورتیں: سورۃ المجادلة میں بتایا گیا ہے کہ اگر ظہار کرنے والا مرد دوبارہ بیوی کو ساتھ رکھنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ظہار کے کفارہ کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں۔۔۔

1: ایک غلام آزاد کرے۔ 2: اگر غلام نہ ملے تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ 3: اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دے۔

مسلمانوں کو سختی سے تنبیہ: سورۃ المجادلة میں مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ متنبہ کیا گیا ہے کہ اسلام کے بعد بھی جاہلیت کے طریقوں پر قائم رہنا قطعی طور پر ایمان کے منافی ہے۔ یہاں بتایا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری کرے گا اس کا ٹھکانہ جنت ہے اور جو روگردانی کرے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

منافقین کا طرز عمل: سورۃ المجادلة میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے طرز عمل کا ذکر کیا ہے کہ منافقین جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو منع کرنے کے باوجود بھی آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لیے طرح طرح کے منصوبے تلاش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ “تم جتنی بھی سرگوشیاں کر لو اللہ تعالیٰ ہر بات سننے والا ہے”۔ تقویٰ اور پرہیزگاری کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اہل ایمان کو سرگوشی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ منافقین دل ہی دل میں مسلمانوں کو برا کہتے، سلام کرنے کے لیے غلط الفاظ کا استعمال کرتے، اور سرگوشیاں کرتے تھے کہ ہمارے اس عمل پر اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب کیوں نہیں دے رہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ “ان کے لیے دوزخ کافی ہے اس میں پھینکے جائیں گے اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے”۔

شیطانی عمل: اللہ تعالیٰ نے سرگوشی کو شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ اور ویسے بھی مجلس میں سرگوشی کرنا آداب مجلس کے خلاف ہے۔

آداب مجلس: سورۃ المجادلة میں اللہ تعالیٰ نے مجلس کے آداب بیان کیے ہیں جہاں لوگ اکٹھے مل کر بیٹھے ہوں اور کھلا کھلا ہو کر بیٹھنے کا کہا جائے تو کھلا ہو کر بیٹھنا چاہیے اگر کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ جاؤ تو اٹھ جانا چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کے آداب: اس سورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے کے آداب سکھائے گئے ہیں۔

اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم: سورۃ المجادلة میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کا حکم دیا گیا ہے۔

منافقین کے رویے کا تذکرہ: سورۃ المجادلة میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی منافقانہ روش کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو بھی دوستی کا اظہار کرتے ہیں ان کے بھی دوست ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے ہیں تو قسمیں کھا کھا کر اپنی دوستی اور وفاداری کا یقین دلاتے ہیں۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے ہو جاتے ہیں۔

شیطان کا گروہ: منافقین جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ہوتے ہیں تو قسمیں کھا کھا کر اپنی دوستی کا یقین دلاتے ہیں لیکن جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں یعنی کفار کے پاس ہوتے ہیں تو انہی کے ہو جاتے ہیں ایسے منافقین کو شیطان کا گروہ قرار دیا گیا ہے۔

مؤمنین کی وفاداری کا ذکر: منافقین کے مقابلے میں مؤمنین کی وفاداری کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ یہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی مخالف کے ساتھ دوستی نہیں کرتے۔

مؤمنین کے ساتھ وعدہ خداوندی: ایسے مؤمنین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ جن میں ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ان میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کا گروہ ہیں۔

مؤمنین (صحابہ) کو لقب: اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب دیا یعنی کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔

آیات و ترجمہ

آیت 4
رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ
آیت 5
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَاۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
آیت 11
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ

کثیرالانتخابی سوالات

مجادلہ کا معنی ہے:
ظہار کے کفارہ کے لیے کھانا کھلایا جائے گا:
سورۃ المجادلة میں شیطان کا گروہ قرار دیا گیا ہے:
کفارہ ادا کرنے کے لیے اگر غلام نہ ملے تو دوسری صورت ہے:
سورۃ المجادلة کے مرکزی مضامین میں سے ہے:

مختصر سوالات

سورۃ المجادلة کی وجہ تسمیہ لکھیں۔˅
سورۃ المجادلة کی پہلی آیت میں ایک عورت حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بحث و تکرار کا ذکر ہے جس میں انہوں نے ظہار کے معاملے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی نسبت سے اس صورت کا نام سورہ المجادلة ہے۔
ظہار سے کیا مراد ہے؟˅
ظہار سے مراد اپنی بیوی کو ماں، بہن یا کسی بھی محرم عورت سے کہہ کر جدا کرنا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ جدائی ہمیشہ کے لیے ہوتی تھی، یعنی ظہار والی عورت نہ کسی سے شادی کر سکتی تھی اور نہ واپس اپنے پہلے شوہر کے ساتھ رہ سکتی تھی۔
ظہار کے کفارے کی تین صورتیں تحریر کریں۔˅
اللہ تعالیٰ نے سورۃ المجادلة میں ظہار کے کفارے کی تین صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ 1: پہلی صورت یہ کہ غلام آزاد کرے۔ 2: دوسری صورت اگر غلام نہ ملے تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ 3: تیسری صورت اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دے۔
سورۃ المجادلة کی روشنی میں مجلس کے دو آداب تحریر کریں۔˅
سورۃ المجادلة میں اللہ تعالیٰ نے مجلس کے آداب بیان کیے ہیں۔ 1: جہاں لوگ اکٹھے مل کر بیٹھتے ہیں اور کھلا کھلا ہو کر بیٹھنے کا کہا جائے تو کھلا ہو کر بیٹھنا چاہیے۔ 2: اگر کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ جاؤ تو مجلس سے اٹھ جانا چاہیے۔
سورۃ المجادلة کی روشنی میں مؤمنین کی صفات تحریر کریں۔˅
سورۃ المجادلة نے اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ: 1: یہ لوگ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔ 2: یہ کبھی بھی آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی مخالف کے ساتھ دوستی نہیں کرتے۔