گیارہویں جماعت کے لیے

سُوْرَةُ الْاَنْفَال

پارہ 09 آیات 75 رکوع 10 مدنی

تعارف

وجہ تسمیہ: اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ "انفال" آیا ہے۔ انفال نفل کی جمع ہے، نفل زائد چیز کو کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الانفال رکھا گیا ہے۔ دوسرا اس سورت میں مال غنیمت کی تقسیم کے احکامات کو بیان کیا گیا ہے اس وجہ سے بھی اس کو سورۃ الانفال کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت کو نفل اس لیے کہا جاتا ہے جو اصل مقصود سے زائد ہوتا ہے۔ جہاد کا اصل مقصد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا و آخرت کا اجر ہے۔ مال کا مل جانا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی دین اور عطیہ ہے، اس لیے اس مال کو نفل کہا جاتا ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ الانفال مدینہ منورہ میں دو ہجری میں غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ کیونکہ اس کے اکثر مضامین میں غزوہ بدر کے واقعات و مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ تھی جس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح سے نوازا اور قریش مکہ بدترین ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے۔

یوم الفرقان: سورۃ الانفال میں غزوہ بدر کے دن کو "یوم الفرقان" کا نام دیا گیا ہے جس کے معانی ہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنا۔ یوم بدر میں مسلمانوں کو اللہ کریم نے اپنی شان سے عظیم کامیابی سے نوازا اور مشرکین مکہ ذلیل و رسوا ہوئے جس سے اسلام اور باطل میں فرق واضح ہوا۔

شان نزول: ظہور اسلام سے پہلے ہونے والی جنگوں میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ میدان جنگ میں جو مال جس کے ہاتھ آگیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔ اس زمانے میں لوگ مال یا دولت کی خاطر جنگوں میں حصہ لیتے تھے۔ سورۃ الانفال میں اس جاہلانہ تصور کی نفی کی گئی ہے۔ اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاد کا صرف اور صرف مقصد رضا الی اللہ ہے۔

مال غنیمت کی تقسیم کا حکم: اس سورت میں مال غنیمت کی تقسیم کے حوالے سے بھی تفصیل سے احکامات کا بیان آیا ہے۔ غزوہ بدر کے بعد جب صحابہ کرام کی طرف سے نبی کریم ﷺ سے مال غنیمت کی تقسیم کے معاملے پر سوال کیا گیا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ الانفال کو نازل فرمایا۔ اس سورت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال غنیمت کو اللہ کے نبی ﷺ کے حوالے کر دیا جائے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے مجاہدین بدر میں اس مال کو تقسیم فرمایا۔

غزوہ بدر کا پس منظر: سورۃ الانفال کے زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے واقعات سے متعلق ہیں اس لیے ان کو باقاعدہ طور پر سمجھنے اور جاننے کیلئے اس جنگ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات کا جاننا از حد ضروری ہے تاکہ اس سے متعلق آیات بینات کے درست مناظر کو سمجھا جا سکے۔

نبی کریم ﷺ کا مکہ مکرمہ میں قیام: اعلان نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مقیم رہے۔ اسی دوران مشرکین مکہ نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو مختلف طریقوں سے تکالیف دینے سے کسی قسم کی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔

نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ: یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت سے کچھ قبل انہوں نے نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ بالآخر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

مشرکین مکہ کی عبداللہ بن اُبی کو دھمکی: جب مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کر کے آ گئے تو مشرکین مکہ نے عبداللہ بن اُبی کو خط لکھا کہ تم لوگوں نے حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ منورہ میں پناہ دے رکھی ہے، اب یا تو تم انھیں پناہ دینے سے باز آجاؤ ورنہ ہم تم پر حملہ کر دیں گے۔

حضرت سعد بن معاذ کو ابو جہل کی دھمکی: انصار میں سے ایک صحابی رسول ﷺ جن کا نام حضرت سعد بن معاذ تھا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ گئے تو عین طواف کے وقت ابو جہل نے ان سے کہا کہ تم لوگوں نے ہمارے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے اگر تم ہمارے سردار کی پناہ میں نہ ہوتے تو تم یہاں سے زندہ واپس نہ جا سکتے جس کا مطلب یہ تھا آئندہ اگر مدینہ منورہ سے کوئی بندہ مکہ مکرمہ میں آیا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

حضرت سعد بن معاذ کا دلیرانہ جواب: جس کے جواب میں حضرت سعد بن معاذ نے کہا کہ اگر تم ہمیں مکہ مکرمہ سے روکو گے تو تمہارے تمام تجارتی قافلے شام تجارت کی غرض سے جانے کیلئے مدینہ منورہ کے قریب کے راستے سے گزرتے ہیں تو ہم تمہارے لیے اس سے بھی بڑی رکاوٹ کھڑی کر دیں گے۔

مسلمانوں کا تجارتی قافلہ پر حملہ: ابو سفیان جو مکہ مکرمہ کے بڑے سرداروں میں سے ایک تھا، ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر ملک شام گیا جس میں مکہ مکرمہ کے ہر مرد و عورت نے سونا چاندی جمع کر کے اس قافلے میں تجارت کی غرض سے شرکت کر رکھی تھی۔ یہ قافلہ ایک ہزار اُونٹوں پر مشتمل تھا جو کئی ہزار دینار کا منافع لے کر ملک شام سے واپس آ رہا تھا۔ اس قافلے کی حفاظت کیلئے کئی مسلح افراد کو متعین کیا گیا تھا۔

لشکر کی تیاری: جب نبی کریم ﷺ کو اس قافلے کی واپسی کا علم ہوا تھا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ کے دیے گئے چیلنج کے مطابق آپ ﷺ نے اس قافلہ پر حملہ آور ہونے کیلئے ایک مجاہدین کا لشکر تیار کیا۔

لشکر مجاہدین کی تعداد: اس لشکر میں کل مجاہدین کی تعداد (313) تین سو تیرہ تھی۔

لشکر کا جنگی سامان: اس لشکر مجاہدین کے پاس کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ اس کے علاوہ ساٹھ کی تعداد میں زرہیں تھیں۔

تجارتی قافلے کا رد عمل: قافلے کے سردار ابو سفیان کو جب مسلمانوں کے قافلے پر حملے کا علم ہوا تو اس نے ایک تیز رفتار ایلچی کو ابو جہل کے پاس بھیجا جس نے جا کر ابو جہل کو تجارتی قافلے پر مسلمانوں کے حملے کے ارادے کے آگاہ کیا۔ اور فوری امدادی لشکر کی آمد کا کہا۔

تجارتی قافلہ کی راستے کی تبدیلی: مسلمانوں کے حملے کی خبر سن کر ابو سفیان نے تجارتی قافلے کا راستہ بدل کر بحر احمر کے ساحل کی طرف راہ لی تاکہ وہ وہاں سے ہوتا ہوا تجارتی قافلہ باحفاظت حملہ سے بچ کر مکہ مکرمہ پہنچ سکے۔

مشرکین کے لشکر کی تیاری: ابو جہل نے ابو سفیان کے ایلچی کی خبر سن کر اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جو پہلے سے ہی مسلمانوں کی مدینہ منورہ میں امن و خوشحالی سے بے چین تھا ایک بہت بڑا جنگی لشکر تیار کیا اور مدینہ منورہ کی طرف مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی نیت سے روانہ ہوا۔

فیصلہ کن معرکہ: جب نبی کریم ﷺ کو خبر ملی کہ ابو جہل بھی ایک بڑے جنگی لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مسلمانوں سے جنگ کے ارادے سے نکل چکا ہے تو حضرت محمد ﷺ نے حضرات صحابہ کرام سے مشورہ کیا جس پر سب نے یہی رائے دی کہ اب مشرکین مکہ کے ساتھ ایک فیصلہ کن معرکہ ہو جانا چاہیے۔

غزوہ بدر کا مقام: چنانچہ دونوں لشکر آپس میں دو ہجری سترہ رمضان المبارک مقام بدر پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی غیبی مدد: ظاہری طور پر مسلمانوں کی مشرکین مکہ سے تعداد و طاقت کم تھی لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی غیبی مدد و نصرت مسلمانوں کے شامل حال تھی۔ اس غزوہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے سے غیبی مدد فرمائی جو میدان بدر میں قطار اندر قطار نازل ہوئے۔

مسلمانوں کی شاندار فتح: اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد و نصرت سے مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔

مشرکین مکہ کا قتل: مشرکین مکہ کے سردار ابو جہل سمیت ستر سردار اس غزوہ میں واصل جہنم ہوئے، اور باقی میدان جنگ کو چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

مشرکین کی ذلت و رسوائی: مشرکین مکہ جو کہ اپنی افرادی و مالی قوت کے لحاظ سے مسلمانوں سے اپنے آپ کو بہتر سمجھتے تھے نہایت ذلت و رسوائی سے شکست کھا چکے تھے۔ اور زمانے میں رسوا و ذلیل ہو چکے تھے اتنی طاقت کے باوجود بھی ہار کھا چکے ہیں۔

اہم مضامین

مرکزی موضوع
سورۃ الانفال کا مرکزی موضوع "اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے آداب و فضائل کا بیان اور صلح و جنگ کے احکام کی وضاحت ہے"۔
اللہ تعالیٰ کے انعامات کی یاد آوری
اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مسلمانوں پر اپنے نازل کردہ انعامات کو بھی یاد کروایا ہے۔
مسلمانوں کی حوصلہ افزائی
اس سورت میں مسلمانوں نے جس طرح سے افرادی قوت اور سازوسامان کی کمی ہوتے ہوئے جس ہمت و جذبہ کے ساتھ مشرکین کے ساتھ لڑائی کی اس پر مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
مسلمانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی
اس سورت میں مسلمانوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو اس جنگ میں سامنے آئیں تھیں۔ پھر ان کی اصلاح کی گئی ہے۔
مسلمانوں کو ہدایات
مسلمانوں کو آئندہ کیلئے وہ ہدایات بھی کی گئی ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کی فتح و کامرانی کا سبب بن سکتی ہیں۔
مال غنیمت کی تقسیم کے احکامات
اسلام سے پہلے جنگ میں مال غنیمت کا یہ تصور تھا کہ جس کے ہاتھ میں جو مال لگ جاتا وہ اسی کا ہو جاتا۔ سورۃ الانفال میں اس جاہلانہ تصور کی تردید کی گئی ہے کہ جہاد کا اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔
مسلمانوں کو تقویٰ و توکل کی تعلیم
اس سورت مبارکہ میں مسلمانوں کو تقویٰ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کی تلقین کی گئی ہے۔
اہل ایمان کی صفات کا بیان
سورت مبارکہ کے آغاز اور آخر میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سچے مسلمانوں کے اوصاف کو بیان کیا ہے کہ مؤمن تو وہ ہیں جن کے دل اللہ کے ذکر سے ڈرتے ہیں، آیات کی تلاوت پر ان کے ایمان تازہ ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرتے ہیں۔ نماز کو قائم کرنے والے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں۔
عنایات الی اللہ کا وعدہ
سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مؤمنین کیلئے کئی عنایات کا وعدہ فرمایا گیا ہے جیسا کہ فتح و نصرت کا وعدہ، دلوں کو سکون اور اطمینان کا وعدہ اور کامیابی کا وعدہ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
غیبی مدد کا تذکرہ
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے نزول کے ذریعے غیبی مدد کا بہت واضح اور طاقتور انداز میں ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ "جب تمہارا رب فرشتوں کی طرف وحی کر رہا تھا بے شک میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو" فرشتوں کا نزول جسمانی مدد کیلئے نہیں تھا بلکہ مؤمنین کو دلوں کو مضبوط کرنے اور دشمن کے دلوں پر مؤمنین کا رعب ڈالنے کیلئے بھی تھا۔
اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم
اللہ کریم اور نبی حضرت محمد ﷺ کی کامل اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے "اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس کی اطاعت سے منھ نہ پھیرو جب کہ تم احکام سن رہے ہو"
تدبیر الی اللہ کا تذکرہ
سورت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے جس طریقے سے اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی حفاظت فرمائی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
جہاد میں ثابت قدمی کا حکم
مسلمانوں کو جہاد میں ثابت قدمی کا حکم دیتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہیں، اللہ کا ذکر کریں تاکہ دل مطمئن ہو، آپس میں اتحاد رکھیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں۔
کفار کے ساتھ میل جول کے ضوابط
اس سورت میں کفار کے ساتھ میل جول اور تعلقات کے بارے میں واضح ہدایات کو بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جب مسلمان اور کافروں کے درمیان جنگ یا امن کے معاہدے کی کیفیت ہو۔ جن میں خیانت سے بچتے ہوئے معاہدے نبھانے کا حکم، امن و صلح کی پیشکش پر قبولیت، دشمن کی چالاکی سے ہوشیار رہنے اور کفار کے ساتھ تعلقات میں نرمی اور انصاف کو بیان کیا گیا ہے۔
اختلافات سے بچنے کا حکم
سورت کے احکامات میں مؤمنین کو آپس کے باہمی جھگڑوں سے بچنے اور ان کے برے نتائج کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔
اہل مکہ کے کردار کی آل فرعون سے مماثلت
کفار مکہ نے جس طرح مسلمانوں پر بے شمار ظلم ڈھائے، اور جس طریقے سے انھوں نے حق کا انکار کرنے میں ہٹ دھرمی سے کام لیا ان کے اس کردار کو آل فرعون کے کردار سے تشبیہ دی گئی ہے۔
صلح و جنگ کے قوانین
سورۃ الانفال میں صلح و جنگ کے کئی جامع قوانین اور حکمت سے بھرپور قوانین بیان کئے گئے ہیں، جو اسلامی، جنگی اخلاقیات، نظم اور عالمی تعلقات کا ایک مکمل خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ قتال صرف اللہ کیلئے، دشمن سے ڈٹ کر مقابلہ کرنا، صلح ممکن ہو تو قبول کرنا، معاہدوں کی پاسداری، قیدیوں سے نرم برتاؤ، قیادت کی مکمل اطاعت، خیانت و فریب سے بچاؤ جیسے جنگی قوانین کا بیان ہوا ہے۔
ہجرت کی تلقین
اس سورت مبارکہ میں مسلمانوں کو مدینہ منورہ کے علاوہ باقی علاقوں خصوصاً مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر مسلمانوں کو مدینہ منورہ ہجرت کی تلقین کی گئی، اور واضح کیا گیا کہ ہجرت نہ کرنے والے مسلمان دارالاسلام کی سیاسی و عسکری جماعت کا حصہ نہیں سمجھے جائیں گے۔ یہ تلقین ہجرت کو ایک انفرادی عمل نہیں بلکہ اجتماعی اسلامی نظام میں شمولیت کی شرط قرار دیتی ہے۔ حتیٰ کہ قرآن مجید میں دوسری جگہ ان مسلمانوں کو معذور قرار دیا گیا ہے جو ہجرت پر قادر نہ ہوں۔

علمی و عملی نکات

ضمانت کامیابی
ظاہری وسائل کی بجائے اللہ تعالی کی ذات پر اعتماد کرنا اور اپنے معاملات اللہ تعالی کے سپرد کرنا انسان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
جذبہ شکر
اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنے سے شکر کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
باعث فتنہ
مال اور اولاد کی محبت حد سے بڑھ جانا فتنے کا باعث ہے۔
حق و باطل کی کشمکش
حق و باطل کی کشمکش کے نتیجے میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان فرق قائم ہو جاتا ہے یوں کھرے اور کھوٹے الگ الگ کر دیے جاتے ہیں۔
مقصد جہاد
اسلام میں جہاد کا اہم مقصد فتنے کا خاتمہ اور اللہ تعالی کی زمین پر اس کے دین کا غلبہ ہے۔
دشمنی شیطان
شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور وہ ان کو برے اعمال خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
دشمنوں سے مقابلے کا حکم
اللہ تعالی نے اہل ایمان کو دشمنوں سے مقابلے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنے اور ہر دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق جنگی ساز و سامان کی تیاری اور فراہمی کا حکم دیا ہے۔
سچے ایمان والے
سچے ایمان والے وہ ہیں جو اللہ تعالی کی راہ میں ہجرت اور اس کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ وہ آپس میں خیر خواہی اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

آیات و ترجمہ

آیت 01
يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۗ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿۱﴾
اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ و رسول ہیں تو اللہ سے ڈرو (ف۴) اور اپنے آپس میں صلح رکھو اور اللہ و رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو۔
آیت 02
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ ۙ ﴿۲﴾
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب اُن پر اسکی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان بڑھے اور اپنے رب پر بھروسہ کریں (۶)۔
آیت 03
الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ﴿۳﴾
وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں۔
آیت 04
اُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۗ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۚ ﴿۴﴾
یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔
آیت 15
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ۚ ﴿۱۵﴾
اے ایمان والو جب کافروں کے لام (لشکر) سے تمہارا مقابلہ ہو تو انہیں پیٹھ نہ دو
آیت 45
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۚ ﴿۴۵﴾
اے ایمان والو جب کسی فوج سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو تاکہ تم مراد کو پاؤ۔
آیت 46
وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا ۗ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۚ ﴿۴۶﴾
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے
آیت 47
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۤءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ ﴿۴۷﴾
اور ان جیسے نہ ہونا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸۹) اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں۔
آیت 48
وَاِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيْ جَارٌ لَّكُمْ ۚ فَلَمَّا تَرَاۤءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيْهِ وَقَالَ اِنِّيْ بَرِيْۤءٌ مِّنْكُمْ اِنِّيْٓ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّيْٓ اَخَافُ اللّٰهَ ۗ وَاللّٰهُ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ﴿۴۸﴾
اور جب کہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اُلٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں (۹۱) میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا (ف۹۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں (۹۳) اور اللہ کا عذاب سخت ہے۔

ذخیرہ الفاظ

يَسْـَٔلُوْنَكَوہ آپ سے سوال کرتے ہیں
الْاَنْفَالِمال غنیمت
اَصْلِحُوْادرست رکھو
ذَاتَ بَيْنِكُمْآپس کے تعلقات
قُلُوْبُهُمْان کے دل
يَتَوَكَّلُوْنَوہ توکل کرتے ہیں
لَقِيْتُمُتمہارا مقابلہ ہو جائے
فِئَةًکوئی لشکر
لَا تَنَازَعُوْاآپس میں نہ جھگڑو
فَتَفْشَلُوْاورنہ تم کم ہمت ہو جاؤ گے
رِيْحُكُمْتمہاری ہوئی
بَطَرًااکڑتے ہوئے
رِئَاۤءَ النَّاسِلوگوں کو دکھاتے ہوئے
يَصُدُّوْنَوہ روکتے ہیں
مُحِيْطٌاحاطہ کیے ہوئے
جَارٌحمایتی
تَرَاۤءَتِآمنے سامنے ہوئیں
الْفِئَتٰنِدونوں جماعتیں
نَكَصَوہ بھاگا
عَلٰى عَقِبَيْهِالٹے قدموں پر
الْعِقَابِعذاب
وَجِلَتْکانپ اٹھتے ہیں

کثیرالانتخابی سوالات

سورۃ الانفال کی آیات کی تعداد ہے:
سورت الانفال نازل ہوئی:
غزوہ بدر میں مکی لشکر کا سردار تھا:
غزوہ بدر میں کافر جنگجوؤں کی تعداد تھی:
غزوہ بدر میں مسلمان مجاہدین کی تعداد تھی:
غزوہ بدر اسلام اور کفر کے درمیان جنگ تھی:
مکہ والوں کے تجارتی قافلے کا سردار تھا:
غزوہ بدر کا دوسرا نام ہے:
سورت الانفال میں احکام بیان ہوئے:
سورت الانفال میں اہل مکہ کو انجام سے ڈرایا گیا ہے:

مختصر سوالات

انفال یعنی مال غنیمت سے کیا مراد ہے؟˅
انفال "نفل" کی جمع ہے۔ نفل کا معنی ہے "زائد چیز"۔ مال غنیمت کو نفل کہا جاتا ہے اس لیے کہ وہ اصل مقصود سے زائد ہوتا ہے۔ جہاد سے مقصود ہو تو آخرت کا اجر اور اللہ کی رضا ہے۔ مال کا ملنا اللہ کا فضل اور عطیہ ہے اس لیے اس کو انفال کہا گیا ہے۔
اسلام سے پہلے مال غنیمت کے بارے میں کیا تصور تھا؟˅
اسلام سے پہلے ہونے والی جنگوں میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ میدان جنگ میں جو مال جس کے ہاتھ آگیا وہ اسی کی ملکیت ہے اس زمانے میں لوگ مال و دولت کے حصول کے لیے بھی جنگوں میں شریک ہوتے تھے۔
غزوہ بدر کو یوم الفرقان کیوں کہا جاتا ہے؟˅
غزوہ بدر کو یوم الفرقان کہا گیا ہے کیوں کہ فرقان کا معنی ہے "حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا" اور اس دن باطلوں کو شکست ہوئی تھی اور حق کو فتح اس اس کو یوم الفرقان کہا جاتا ہے۔
غزوہ بدر کب اور کہاں پیش آیا؟˅
غزوہ بدر 2 ہجری مین بدر کے مقام پر پیش آیا تھا۔
غزوہ بدر کا کیا نتیجہ نکلا؟˅
غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس سازوسامان دشمنوں کے مقابلے میں بہت کم تھا مگر اللہ تعالی کے کرم و فضل سے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس میں مسلمانوں کو ایک عظیم فتح ہوئی اور ساتھ بہت سارا مال غنیمت بھی حاصل ہوا۔
سورت الانفال کا مرکزی موضوع کیا ہے؟˅
سورت الانفال کا مرکزی موضوع "اللہ تعالی کے راستے مین جہاد کے آداب و فضائل کا بیان اور صلح و جنگ کے احکام کی وضاحت" ہے۔
سورت الانفال کے آغاز میں کس چیز کی تعلیم دی گئی ہے؟˅
سورت الانفال کے آغاز میں مسلمانوں کو کو تقوی ،اطاعت حق، ذکر الہی اور اللہ تعالی پر توکل کی تعلیم دی گئی ہے۔
سورت الانفال میں اہل مکہ کے کردار کو کس سے تشبیہ دی گئی ہے؟˅
سورت الانفال میں اہل مکہ کے کرادار کو آل فرعون کے کردار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور ان کو ان کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔
مال و اولاد کی محبت فتنہ کب بنتی ہے؟˅
مال اور اولاد کی میں حد سے بڑھ جانا فتنہ ہے۔
سورت الانفال کی روشنی میں سچے ایمان والے کون ہیں؟˅
سورت الانفال کی روشنی میں سچے ایمان والے جو اللہ تعالی کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں۔ وہ آپس میں خیر خواہی اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔