وجہ تسمیہ: اس سورت کی پہلی آیت میں لفظ "انفال" آیا ہے۔ انفال نفل کی جمع ہے، نفل زائد چیز کو کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الانفال رکھا گیا ہے۔ دوسرا اس سورت میں مال غنیمت کی تقسیم کے احکامات کو بیان کیا گیا ہے اس وجہ سے بھی اس کو سورۃ الانفال کہا جاتا ہے۔ مال غنیمت کو نفل اس لیے کہا جاتا ہے جو اصل مقصود سے زائد ہوتا ہے۔ جہاد کا اصل مقصد اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا و آخرت کا اجر ہے۔ مال کا مل جانا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی دین اور عطیہ ہے، اس لیے اس مال کو نفل کہا جاتا ہے۔
زمانہ نزول: سورۃ الانفال مدینہ منورہ میں دو ہجری میں غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ کیونکہ اس کے اکثر مضامین میں غزوہ بدر کے واقعات و مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کے درمیان پہلی باقاعدہ جنگ تھی جس میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح سے نوازا اور قریش مکہ بدترین ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے۔
یوم الفرقان: سورۃ الانفال میں غزوہ بدر کے دن کو "یوم الفرقان" کا نام دیا گیا ہے جس کے معانی ہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنا۔ یوم بدر میں مسلمانوں کو اللہ کریم نے اپنی شان سے عظیم کامیابی سے نوازا اور مشرکین مکہ ذلیل و رسوا ہوئے جس سے اسلام اور باطل میں فرق واضح ہوا۔
شان نزول: ظہور اسلام سے پہلے ہونے والی جنگوں میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ میدان جنگ میں جو مال جس کے ہاتھ آگیا وہ اسی کی ملکیت ہے۔ اس زمانے میں لوگ مال یا دولت کی خاطر جنگوں میں حصہ لیتے تھے۔ سورۃ الانفال میں اس جاہلانہ تصور کی نفی کی گئی ہے۔ اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جہاد کا صرف اور صرف مقصد رضا الی اللہ ہے۔
مال غنیمت کی تقسیم کا حکم: اس سورت میں مال غنیمت کی تقسیم کے حوالے سے بھی تفصیل سے احکامات کا بیان آیا ہے۔ غزوہ بدر کے بعد جب صحابہ کرام کی طرف سے نبی کریم ﷺ سے مال غنیمت کی تقسیم کے معاملے پر سوال کیا گیا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے سورۃ الانفال کو نازل فرمایا۔ اس سورت میں حکم دیا گیا ہے کہ مال غنیمت کو اللہ کے نبی ﷺ کے حوالے کر دیا جائے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے مجاہدین بدر میں اس مال کو تقسیم فرمایا۔
غزوہ بدر کا پس منظر: سورۃ الانفال کے زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے واقعات سے متعلق ہیں اس لیے ان کو باقاعدہ طور پر سمجھنے اور جاننے کیلئے اس جنگ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات کا جاننا از حد ضروری ہے تاکہ اس سے متعلق آیات بینات کے درست مناظر کو سمجھا جا سکے۔
نبی کریم ﷺ کا مکہ مکرمہ میں قیام: اعلان نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مقیم رہے۔ اسی دوران مشرکین مکہ نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو مختلف طریقوں سے تکالیف دینے سے کسی قسم کی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔
نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ: یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت سے کچھ قبل انہوں نے نبی کریم ﷺ کو شہید کرنے کی بھی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ بالآخر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔
مشرکین مکہ کی عبداللہ بن اُبی کو دھمکی: جب مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کر کے آ گئے تو مشرکین مکہ نے عبداللہ بن اُبی کو خط لکھا کہ تم لوگوں نے حضرت محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مدینہ منورہ میں پناہ دے رکھی ہے، اب یا تو تم انھیں پناہ دینے سے باز آجاؤ ورنہ ہم تم پر حملہ کر دیں گے۔
حضرت سعد بن معاذ کو ابو جہل کی دھمکی: انصار میں سے ایک صحابی رسول ﷺ جن کا نام حضرت سعد بن معاذ تھا جو قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ گئے تو عین طواف کے وقت ابو جہل نے ان سے کہا کہ تم لوگوں نے ہمارے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے اگر تم ہمارے سردار کی پناہ میں نہ ہوتے تو تم یہاں سے زندہ واپس نہ جا سکتے جس کا مطلب یہ تھا آئندہ اگر مدینہ منورہ سے کوئی بندہ مکہ مکرمہ میں آیا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
حضرت سعد بن معاذ کا دلیرانہ جواب: جس کے جواب میں حضرت سعد بن معاذ نے کہا کہ اگر تم ہمیں مکہ مکرمہ سے روکو گے تو تمہارے تمام تجارتی قافلے شام تجارت کی غرض سے جانے کیلئے مدینہ منورہ کے قریب کے راستے سے گزرتے ہیں تو ہم تمہارے لیے اس سے بھی بڑی رکاوٹ کھڑی کر دیں گے۔
مسلمانوں کا تجارتی قافلہ پر حملہ: ابو سفیان جو مکہ مکرمہ کے بڑے سرداروں میں سے ایک تھا، ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ لے کر ملک شام گیا جس میں مکہ مکرمہ کے ہر مرد و عورت نے سونا چاندی جمع کر کے اس قافلے میں تجارت کی غرض سے شرکت کر رکھی تھی۔ یہ قافلہ ایک ہزار اُونٹوں پر مشتمل تھا جو کئی ہزار دینار کا منافع لے کر ملک شام سے واپس آ رہا تھا۔ اس قافلے کی حفاظت کیلئے کئی مسلح افراد کو متعین کیا گیا تھا۔
لشکر کی تیاری: جب نبی کریم ﷺ کو اس قافلے کی واپسی کا علم ہوا تھا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ کے دیے گئے چیلنج کے مطابق آپ ﷺ نے اس قافلہ پر حملہ آور ہونے کیلئے ایک مجاہدین کا لشکر تیار کیا۔
لشکر مجاہدین کی تعداد: اس لشکر میں کل مجاہدین کی تعداد (313) تین سو تیرہ تھی۔
لشکر کا جنگی سامان: اس لشکر مجاہدین کے پاس کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ اس کے علاوہ ساٹھ کی تعداد میں زرہیں تھیں۔
تجارتی قافلے کا رد عمل: قافلے کے سردار ابو سفیان کو جب مسلمانوں کے قافلے پر حملے کا علم ہوا تو اس نے ایک تیز رفتار ایلچی کو ابو جہل کے پاس بھیجا جس نے جا کر ابو جہل کو تجارتی قافلے پر مسلمانوں کے حملے کے ارادے کے آگاہ کیا۔ اور فوری امدادی لشکر کی آمد کا کہا۔
تجارتی قافلہ کی راستے کی تبدیلی: مسلمانوں کے حملے کی خبر سن کر ابو سفیان نے تجارتی قافلے کا راستہ بدل کر بحر احمر کے ساحل کی طرف راہ لی تاکہ وہ وہاں سے ہوتا ہوا تجارتی قافلہ باحفاظت حملہ سے بچ کر مکہ مکرمہ پہنچ سکے۔
مشرکین کے لشکر کی تیاری: ابو جہل نے ابو سفیان کے ایلچی کی خبر سن کر اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے جو پہلے سے ہی مسلمانوں کی مدینہ منورہ میں امن و خوشحالی سے بے چین تھا ایک بہت بڑا جنگی لشکر تیار کیا اور مدینہ منورہ کی طرف مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی نیت سے روانہ ہوا۔
فیصلہ کن معرکہ: جب نبی کریم ﷺ کو خبر ملی کہ ابو جہل بھی ایک بڑے جنگی لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مسلمانوں سے جنگ کے ارادے سے نکل چکا ہے تو حضرت محمد ﷺ نے حضرات صحابہ کرام سے مشورہ کیا جس پر سب نے یہی رائے دی کہ اب مشرکین مکہ کے ساتھ ایک فیصلہ کن معرکہ ہو جانا چاہیے۔
غزوہ بدر کا مقام: چنانچہ دونوں لشکر آپس میں دو ہجری سترہ رمضان المبارک مقام بدر پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی غیبی مدد: ظاہری طور پر مسلمانوں کی مشرکین مکہ سے تعداد و طاقت کم تھی لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی غیبی مدد و نصرت مسلمانوں کے شامل حال تھی۔ اس غزوہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے سے غیبی مدد فرمائی جو میدان بدر میں قطار اندر قطار نازل ہوئے۔
مسلمانوں کی شاندار فتح: اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد و نصرت سے مسلمانوں کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔
مشرکین مکہ کا قتل: مشرکین مکہ کے سردار ابو جہل سمیت ستر سردار اس غزوہ میں واصل جہنم ہوئے، اور باقی میدان جنگ کو چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
مشرکین کی ذلت و رسوائی: مشرکین مکہ جو کہ اپنی افرادی و مالی قوت کے لحاظ سے مسلمانوں سے اپنے آپ کو بہتر سمجھتے تھے نہایت ذلت و رسوائی سے شکست کھا چکے تھے۔ اور زمانے میں رسوا و ذلیل ہو چکے تھے اتنی طاقت کے باوجود بھی ہار کھا چکے ہیں۔