گیارہویں جماعت کے لیے

سُوْرَةُ آلِ عِمْرَان

پارہ 03 آیات 200 رکوع 20 مدنی

تعارف

زمانہ نزول: یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تھے، مگر یہاں کے کفار و منافقین کے ہاتھوں انھیں بہت سی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں سب سے پہلے غزوہ بدر پیش آیا، جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غیر معمولی فتح عطا فرمائی۔ جس میں کفار کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اسی شکست کا بدلہ لینے کیلئے اگلے سال انھوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا اور غزوہ احد پیش آیا۔ اس سورت میں ان دونوں غزوات کا ذکر تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اور ان غزوات سے متعلق مسائل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیمتی آراء سے بھی نوازا گیا ہے۔ غزوہ احد کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ عیسائیوں کے وفد بنو نجران کے ساتھ مباہلہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

شان نزول: مفسرین نے لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد مدینہ منورہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو ساٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مناظرہ کرنے لگے تو ان کے عقائد باطلہ کے رد میں سورۃ آل عمران کی ابتدائی اَسی (80) سورتیں نازل ہوئی ہیں۔

وجہ تسمیہ: "آل عمران" کا مطلب ہے "عمران کا خاندان" عمران حضرت مریم علیہ السلام کے والد کا نام ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں جو نہایت فضیلت والی خاتون ہیں۔ اس سورت کی آیت نمبر تینتیس تا سینتیس میں اس خاندان کا ذکر آیا ہے، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام آل عمران رکھا گیا ہے۔

اضافی نام: سورت آل عمران کے اس علاوہ دو اور نام بھی ہیں جو کہ "زہرا" اور "امان" ہیں۔

سورۃ آل عمران کی فضیلت: سورۃ آل عمران کا آغاز حروف مقطعات سے ہوا ہے، حروف مقطعات وہ حروف ہیں جن کے معانی اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور نبی محمد ﷺ جانتے ہیں۔

فرمان رسول ﷺ: "دو روشن سورتوں سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کو پڑھا کرو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل ہوں یا جیسے پرندوں کی دو صف بستہ جماعتیں ہوں۔ یہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کریں گی"۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں جو شخص سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران کا عالم ہوتا تھا اسے بہت اہمیت اور عزت دی جاتی تھی"۔

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں "میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سورۃ البقرۃ سیکھو، اس کی تعلیم حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے، باطل اس پر غالب نہیں آسکتا، پھر آپ ﷺ کچھ دیر کیلئے ٹھہر گئے اور پھر فرمایا سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران سیکھو یہ دونوں چمک دار اور خوب صورت ہیں، یہ روز قیامت اپنے پڑھنے والوں کو اس طرح ڈھانپ لیں گی جیسے دو بادل ہوں یا دو سایہ دار چیزیں پر پھیلائے ہوئے پرندوں کی دو غول کی طرح ہوں"۔

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "جو شخص سورۃ آل عمران کی آخری آیات پڑھے گا تو اس کیلئے پوری رات عبادت کرنے کا ثواب لکھا جائے گا"۔

حضرت مکحول رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں "جو شخص جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کرتا ہے تو رات تک فرشتے اس کیلئے دعائیں کرتے ہیں"۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا "اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے" وَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ لَّا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (۱۶۳) اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ (۲) (سنن ابوداؤد: 1496)

اہم مضامین

مرکزی موضوع
سورۃ آل عمران کا مرکزی موضوع "اہل کتاب کی غلطیوں کا پردہ چاک کرنا اور اہل اسلام کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے"۔
اُمت مسلمہ کا اتحاد
اس سورت میں انسانوں کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ انسانوں کی تمام بکھری ہوئی جماعتوں اور گروہوں کا اگر اتفاق و اتحاد اگر ممکن ہو سکتا ہے تو صرف اور صرف اسلام کے جھنڈے تلے نبی کریم ﷺ کی قیادت میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔
دو گروہوں سے خصوصی خطاب
سورۃ آل عمران میں خصوصیت کے ساتھ دو گروہوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ ایک اہل کتاب یعنی یہودی اور مسیحی دوسرے وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔
اہل کتاب کو تنبیہ
اہل کتاب کو اسی طرز پر مزید تبلیغ کی گئی ہے جس کا آغاز سورۃ البقرۃ میں کیا گیا تھا جس میں ان کو اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں پر تنبیہ کیا گیا ہے۔ ان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس دین کی دعوت نبی کریم ﷺ دے رہے ہیں اسی دین کی دعوت شروع سے تمام انبیاء کرام علیہ السلام دیتے آرہے ہیں۔
بہترین امت
دوسرا گروہ جو کہ مؤمنین کا گروہ ہے جسے بہترین امت قرار دیا گیا ہے، اس کو حق کا علم بردار ہونے کی حیثیت سے دنیا کی اصلاح کا ذمہ دار بنایا گیا ہے۔
مؤمنین کو تاکید
مؤمنین کو مزید تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ پچھلی اُمتوں کے مذہبی اور اخلاقی زوال سے عبرت کو حاصل کریں اور ان کے جیسی روش کو اختیار کرنے سے باز رہیں۔ نیز انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ایک مصلح جماعت ہونے کے ناطے سے وہ کس طرح سے کام کریں۔
اہل کتاب کے عقائد کی اصلاح
اس سورت میں اہل کتاب کے غلط عقائد کی اصلاح کی گئی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے "بے شک عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک آدم علیہ السلام کی مثال کی طرح ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں مٹی سے بنایا پھر ان سے فرمایا ہو جاؤ تو وہ ہو گئے"
قدرت الی اللہ کا بیان
اس سورت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار قدرتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اس کے واحد اور قادر مطلق ہونے کی کماحقہ دلیلیں ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ "وہی رات کو دن اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے اور تو مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے"۔
انفاق سبیل اللہ کی ترغیب
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی اہمیت کے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا "تم اس وقت تک کامل نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اس میں سے خرچ نہ کرو جو تم محبوب رکھتے ہو اور تم کسی چیز میں سے جو خرچ کرتے ہو تو بے شک اللہ اسے خوب جانتا ہے"
حرمت سُود
سورت مبارکہ میں سود کی حرمت کا بیان ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے "اے ایمان والو! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ"
بیت اللہ کی فضیلت
اہل کتاب کے قبلہ اول سے متعلق نظریہ کو رد کرتے ہوئے بیت اللہ کی فضیلت و اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "بے شک عبادت کیلئے پہلا گھر جو بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے جو تمام جہان والوں کیلئے برکت والا ہے اور ہدایت کا مرکز ہے"
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تلقین
لوگوں کو نیکی کا حکم اور بدی سے روکنے کیلئے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی تلقین کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے "اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں"
بہترین اُمت
امت مسلمہ کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے پر تمام اُمتوں میں سے بہترین امت قرار دیا گیا ہے۔
باہمی اتحاد کا حکم
امت مسلمہ کو آپس میں اتفاق و اتحاد کا حکم دیا گیا ہے جو ان کی فلاح و بہبود کیلئے سب سے بڑی و بنیادی ضرورت ہے۔
خاص غزوات کا ذکر
سورۃ آل عمران میں غزوہ بدر کا مختصر اور غزوہ احد کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں غزوات میں فرشتوں کی امداد کا تذکرہ، مؤمنوں کیلئے تسلی اور منافقین کی سرزنش کی گئی ہے۔
جہاد کی ترغیب
کافروں سے مرعوب نہ ہونے، جہاد اور میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور مسلمانوں! ہمت نہ ہارو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے مؤمن ہو"
بخل کی وعید
بخل پر وعید کی گئی ہے کہ روز قیامت بخل کرنے والوں کو ایک طوق پہنایا جائے گا۔
صبر کی ترغیب
مؤمنین کو مؤثر انداز میں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "بلاشبہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"۔
فلاح و کامیابی کے اصول
سورۃ آل عمران کے اختتام پر فلاح و کامیابی کے رہنما اصول فرمائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "اے ایمان والو صبر کرو اور دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہو، سرحدوں کی حفاظت کیلئے مستعد رہو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ"۔

علمی و عملی نکات

دائمی زندگی
دنیاوی زیب و زینت اور مال و اسباب عارضی ہیں اور فانی ہیں۔ آخرت کی زندگی دائمی ہے۔
اہل جنت کی نشانیاں
صبر کرنا، سچائی اختیار کرنا فرماں برداروں کا رویہ اپنانا، اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرنا اور تہجد کے وقت استغفار کرنا جنت والوں کی نشانیاں ہیں۔
محرومی ہدایت
حق کی مخالفت میں ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کرنا انسان کے لیے ہدایت سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔
محبت الی اللہ کا حصول
اللہ تعالی کی محبت کے حصول کے لیے نبی کریم ﷺ کی اتباع کرنا ضروری ہے۔
ذکر الی اللہ
صبح و شام کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کرنا چاہیے۔
اصول دعوتِ دین
دین کی دعوت کا اصول یہ ہے کہ ان امور پر بات کی جائے جن پر سننے والوں کا اتفاق ہو۔
محبت و تعلق کی اصل دلیل
کسی شخصیت سے محبت اور تعلق کی اصل دلیل اس کی پیروی کرنا ہے۔
تقاضائے عدل
کسی برے شخص میں بھی کوئی اچھی بات اور کسی برے گروہ میں بھی کوئی اچھا شخص ہو سکتا ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی شخص میں کوئی بات نظر آئے تو اس کا اعتراف کیا جائے۔
اللہ کے ہاں قابلِ قبول نظامِ زندگی
تمام انبیاء کرام اسلام دین کی ہی تعلیم لے کر آئے۔ دین اسلام کے سوا کوئی اور نظام زندگی اللہ تعالی کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہے۔
اہل ایمان کو نصیحت
اہل ایمان کو چاہیے کہ ہر وقت اللہ تعالی کو یاد رکھیں، گناہوں سے بچتے رہیں اور ایسے زندگی گزاریں کہ جب بھی موت آئے تو اسلام کی حالت میں آئے۔
شیوہ اہل ایمان
خوش حالی اور تنگی کی حالت میں خرچ کرنا، غصہ پی جانا، لوگوں کے قصور معاف کرنا، دوسروں کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا، گناہوں پر توبہ کرنا اور ہٹ دھرمی اختیار نہ کرنا ایمان والوں کا شیوہ ہے۔
حکمت مصائب و غم
غموں اور مصائب کی حکمت یہ ہے کہ ایمان والوں کی تربیت ہو اور وہ کسی نقصان پر مستقل پریشانی کا شکار نہ ہوں۔
حکم توبہ
ایک غلطی سے دوسری غلطی جنم لیتی ہے۔ گناہ کا ارتکاب ہونے پر توبہ کر لینی چاہیے۔
کامیاب انسان
ہر زندہ شے کو ایک دن موت آنی ہے۔ دنیا کی زندگی عارضی اور دھوکے کا سامان ہے۔ کامیاب وہ ہے جو جہنم کی آگ سے بچایا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا۔
عقل مندی
عقل مند وہ ہیں جو ہر حال میں اللہ تعالی کو یاد رکھتے ہیں۔ کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ بے کار نہیں ہے پھر اس نتیجے پر آتے ہیں کہ ہماری تخلیق بھی بے کار نہیں۔
دنیا و آخرت کی کامیابی
اہل ایمان کو صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرحدوں کی حفاظت کے لیے کمر بستہ ہونا چاہیے اور اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ ان باتوں کو اختیار کرنے سے دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل ہوگی۔

آیات و ترجمہ

آیت 26
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۤءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۤءُ ۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۤءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۤءُ ۗ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۗ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿۲۶﴾
اے اللہ ملک کے مالک تو جسے چاہے سلطنت دے اور جسے چاہے سلطنت چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے بے شک تو سب کچھ کر سکتا ہے۔
آیت 27
تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاۤءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿۲۷﴾
تو رات کا حصہ دن میں ڈالے اور دن کا حصہ رات میں ڈالے (ف۵۸) اور مُردہ سے زندہ نکالے اور زندہ سے مردہ نکالے (ف۵۹) اور جسے چاہے بے گنتی دے (آیت ۲۷)
آیت 102
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿۱۰۲﴾
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں۔
آیت 103
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۖ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاۤءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖٓ اِخْوَانًا ۚ وَكُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ﴿۱۰۳﴾
اور اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں بٹ نہ جانا) (ف۱۸۷) اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا (دشمنی تھی) اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کر دیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہو گئے اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا دیا اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ۔
آیت 104
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ وَاُولٰۤىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿۱۰۴﴾
اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ہو جو خیر کی طرف بلائے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں
آیت 123
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿۱۲۳﴾
اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بے سر و سامان تھے تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو
آیت 124
اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۤىِٕكَةِ مُنْزَلِيْنَ ﴿۱۲۴﴾
جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر
آیت 125
بَلٰى ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۤىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ ﴿۱۲۵﴾
ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آ پڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا (ف۲۳۰)
آیت 134
الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّۤاءِ وَالضَّرَّۤاءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ﴿۱۳۴﴾
وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں (۲۴۰) اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔
آیت 190
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ﴿۱۹۰﴾
بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں (ف۳۷۵) عقلمندوں کے لیے (ف۳۷۶)
آیت 191
الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾
جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
آیت 192
رَبَّنَآ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَيْتَهٗ ۗ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ﴿۱۹۲﴾
اے رب بے شک جسے تو دوزخ میں لے جائے اُسے ضرور تو نے رسوائی دی اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
آیت 193
رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُّنَادِيْ لِلْاِيْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا ۖ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ﴿۱۹۳﴾
اے رب ہم نے ایک منادی کو سنا کہ ایمان کے لیے ندا ہے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لائے اے رب تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرما اور ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر
آیت 194
رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۗ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ﴿۱۹۴﴾
اے رب ہمارے اور ہمیں دے وہ (۳۸۲) جس کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے اپنے رسولوں کی معرفت اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر بے شک تو وعدہ خلاف نہیں کرتا

ذخیرہ الفاظ

تُؤْتِيتو عطا فرماتا ہے
تَنْزِعُتو چھین لیتا ہے
تُعِزُّتو عزت عطا فرماتا ہے
تُذِلُّتو ذلیل کرتا ہے
تُوْلِجُتو داخل کرتا ہے
تُخْرِجُتو نکالتا ہے
اَنْ يُّمِدَّكُمْکہ تمہاری مدد فرمائے
مُسَوِّمِيْنَنشان زدہ
خَلْقِتخلیق
لِّاُولِي الْاَلْبَابِعقل مندوں کے لیے
قِيَامًاکھڑے کھڑے
قُعُوْدًابیٹھے بیٹھے
عَلٰى جُنُوْبِهِمْلیٹے ہوئے
سُبْحٰنَكَتو پاک ہے
فَقِنَاتو ہمیں بچا لے
اَخْزَيْتَهٗتو اسے رسوا کر دیا
اَنْصَارٍمددگار
مُنَادِيًاپکارنے والا
ذُنُوْبَنَاہمارے گناہ
سَيِّاٰتِنَاہماری برائیاں
الْاَبْرَارِنیک لوگ
لَا تُخْزِنَاہمیں رسوا مت کرنا
لَا تُخْلِفُتو خلاف نہیں کرتا
الْمِيْعَادَوعدہ

کثیرالانتخابی سوالات

آل عمران کا معنی ہے:
سورت آل عمران کی آیات تعداد ہے:
حضرت عمران نانا ہیں:
سورت آل عمران کی آیت اکسٹھ کہلاتی ہے:
نجران کا وفد مدینہ منورہ آیا تھا:
سورۃ آل عمران میں جن دو جنگوں کا ذکر آیا ہے:
غزوہ احد میں مشرکین مکہ کے لشکر کی قیادت کی:
غزوہ احد میں شہید ہونے والے صحابی ہیں:
غزوہ احد میں مسلمان شہداء کی تعداد ہے؟
سورت آل عمران میں خصوصیت کی ساتھ خطاب ہے:
سورت آل عمران میں بہترین امت قرار دیا گیا ہے:
امت مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت ہے:
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے:
اہل کتاب کی غلطیوں کا پردہ چاک کرنا اور اہل اسلام کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا مرکزی موضوع ہے:
مسلمان کو اللہ تعالی کی راہ میں مال خرچ کرنا چاہیے:

مختصر سوالات

آل عمران سے کون مراد ہیں؟˅
آل عمران سے مراد حضرت عمران کے خاندان کے لوگ ہیں۔
سورۃ آل عمران میں کن دو غزوات کا ذکر ہے؟˅
سورۃ آل عمران میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کا ذکر آیا ہے۔
سورۃ آل عمران کی فضیلت میں ایک حدیث نبوی تحریر کریں؟˅
حضرت محمد ﷺ نے سورت آل عمران کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا "دو روشن سورتوں سورت البقرۃ اور سورت آل عمران کو پڑھا کرو کیوں کہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے بادل ہوں یا جیسے پرندوں کی دو صف بستہ جماعتیں ہوں۔ اور یہ اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کریں گی"۔
غزوہ اُحد کب اور کہاں پیش آیا؟˅
غزوہ احد سات شوال المکرم بروز ہفتہ کو احد کے پہاڑ پر پیش آیا تھا۔
غزوہ اُحد سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟˅
غزوہ احد سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے حکم کو فراموش کرنے اور نظم و ضبط کو ترک کرنا کسی بھی لحاظ سے نقصان سے خالی نہیں ہے۔
سورۃ آل عمران کا مرکزی مضمون کیا ہے؟˅
سورۃ آل عمران کا مرکزی موضوع "اہل کتاب کی غلطیوں کا پردہ چاک کرنا اور اہل اسلام کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے"۔
سورت آل عمران میں کن دو گروہوں سے خطاب ہے؟˅
سورت آل عمران میں دو گروہوں کو خصوصیت کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے: 1): ایک اہل کتاب یعنی یہودی اور مسیحی۔ 2): دوسرے وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے۔
سورۃ آل عمران میں کس امت کو بہترین قرار دیا گیا ہے؟˅
سورۃ آل عمران میں بہترین امت "اُمت مسلمہ" کو قرار دیا گیا ہے۔
غموں اور مصائب کی کیا حکمت ہے؟˅
غموں اور مصائب کی ایک اہم حکمت یہ ہے کہ ایمان والوں کی تربیت ہو اور وہ کسی نقصان پر مستقل پریشانی کا شکار نہ ہوں۔
سورت آل عمران مین کن لوگوں کو عقل مند قرار دیا گیا ہے؟˅
سورت آل عمران میں جن لوگوں کو عقل مند قرار دیا گیا ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو ہر حال میں اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، کائنات پر غور و فکر کرتے ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ بے کار پیدا نہیں کیا گیا ہے۔ پھر اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہماری تخلیق بھی بے کار نہیں ہوئی۔

مباہلہ کا پس منظر

مباہلہ کا پس منظر: مباہلہ کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے علاقے نجران میں نصاریٰ بڑی تعداد میں رہتے تھے۔ ان کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ آیا۔ یہ وفد ساٹھ افراد پر مشتمل تھا جن میں چودہ بڑے سردار تھے اور ان سرداروں میں بھی تین ان کے بڑے سردار تھے۔ ان کی دینی اور دنیاوی معاملات وہی تین سردار دیکھا کرتے تھے۔ یہ وفد اعلان نبوت سن کر نبی کریم ﷺ کے پاس مناظرہ کرنے کی غرض سے آیا تھا۔ اس وفد نے بارگاہ رسالت میں اپنے گمراہ کن عقائد پر دلائل دینے شروع کر دیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے تمام اعتراضات سن کر ایک ایک دلیل کو رد فرمایا جس سے وہ لاجواب ہو گئے۔

آیت مباہلہ / مباہلہ کرنے کا حکم: اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر اکسٹھ (61) میں نبی کریم ﷺ کو ان سے مباہلہ کرنے کا حکم دیا۔ مباہلہ کا معنی ہے کہ کسی عقیدہ کے بارے میں مختلف آراء رکھنے والے لوگ نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں دعا کرتے ہیں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہو اس پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی لعنت ہو۔

پادریوں کا مباہلہ کرنے سے انکار: مباہلہ کا حکم ہونے کے بعد حضرت محمد ﷺ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت سیدۃ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو لے کر نجران کے وفد کے پاس مباہلہ کیلئے تشریف لائے۔ جب پادریوں نے ان کے روشن چہروں کو دیکھا تو ان کے سردار پادریوں نے وفد کو تنبیہ کی کہ اگر تم ان سے مباہلہ کرتے ہو تو یاد رکھو تمہارا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا، جس پر انہوں نے مباہلہ سے انکار کیا اور جزیہ دینے کیلئے تیار ہو گئے۔

مباہلہ کرنے والوں کیلئے نبی ﷺ کا فرمان: “قسم ہے اس کریم ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا عذاب اہل نجران کے نزدیک آچکا تھا اگر یہ مباہلہ کرتے تو انھیں جانور بنا دیا جاتا اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑکتی کہ انھیں ملیا میٹ کر دیتی یہاں تک کہ درختوں پر پرندے بھی ہلاک ہو جاتے اور سال ختم ہونے سے پہلے سارے نصاریٰ موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے”۔

غزوہ احد

دوسرا بڑا جنگی معرکہ: غزوہ احد مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان لڑا جانے والا دوسرا بڑا معرکہ تھا۔

غزوہ احد کا محل: یہ غزوہ سات شوال المکرم تین ہجری بروز ہفتہ کو مدینہ منورہ کے قریب میں اُحد نامی پہاڑ کے پاس برپا ہوا۔

غزوہ کی قیادت: اس غزوہ میں مسلمانوں کی طرف سے نبی محمد ﷺ نے خود لشکر کی کمان سنبھالی جبکہ مشرکین مکہ کا سردار ابو سفیان تھا۔

تعداد لشکر مجاہدین: اس غزوہ میں مسلمان مجاہدین کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم تھی، لیکن ان کی ہمت و حوصلے بلند تھے۔

مشرکین جنگجوؤں کی تعداد: اس غزوہ میں مشرکین کی تعداد تین ہزار پر مشتمل تھی جو بھرپُور تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تھا۔

لشکر کی روانگی: مسلمانوں کا لشکر تین ہجری بروز جمعہ، نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں مشرکین مکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے مقام اُحد کی طرف روانہ ہوا۔

منافقین کا کردار: منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی نے مدینہ سے باہر جا کر لڑنے کو بہانہ بنا کر اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مسلمانوں کے لشکر سے الگ ہو گیا۔ جس پر اس نے یہ اعتراض کیا کہ مدینہ شہر کے اندر رہ کر جنگ کرنے کا مشورہ کو نہیں مانا گیا۔ جس پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد اور بھی کم ہو گئی۔

لشکروں کا آمنا سامنا: تین ہجری سات شوال المکرم کو دونوں لشکر جبل اُحد کے پاس آمنے سامنے ہوئے۔

تیر اندازوں کی تقرری: نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں پچاس تیر اندازوں کو اُحد کے پہاڑ کے ایک درّے پر مقرر کیا تاکہ دشمن اس طرف سے حملہ آور نہ ہو سکے۔ اور تیر انداز مجاہدین کو تاکید فرمائی کہ جب تک آپ کو حکم نہ ملے اس وقت تک آپ نے اس درّے کو خالی نہیں چھوڑنا۔

معرکہ کا آغاز: عرب کے دستور کے مطابق کفار کا عَلَم بردار طلحہ صف سے آگے آیا اور اس نے مقابلے کیلئے للکارا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کیلئے صف سے آگے نکلے اور اسے جہنم واصل کیا۔ جس پر طلحہ کا بیٹا انتقام کے جوش میں آگے بڑھا جس کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کر دیا۔

کفار کی شکست: جیسے ہی عام لڑائی شروع ہوئی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو دُجانہ رضی اللہ عنہ دشمن کی فوج میں گھس گئے اور کفار کو خوب قتل کیا، لڑائی کے شروع میں مسلمان کفار پر غالب آنے لگے جسے دیکھتے ہوئے کافر میدان جنگ کو چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ جس پر مسلمانوں نے سمجھا کہ مسلمان جنگ جیت گئے ہیں۔

مسلمانوں کا غلط گمان: جب کفار میدان کو چھوڑ کر بھاگنے لگے اور مسلمانوں نے سمجھا کہ وہ فاتح قرار پائے ہیں تو اسی صورت حال میں درّے پر موجود مجاہدین کی جماعت میں سے چند مجاہدین اس گمان سے واپس آگئے کہ اب مسلمان جنگ جیت چکے ہیں۔

دشمن کا حملہ: جب چند مجاہدین درّے کو چھوڑ آئے تو مشرکین نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مسلمانوں پر دوبارہ حملہ کر دیا۔ جس پر مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔

نبی ﷺ کی شہادت کی افواہ: مشرکین کے دوبارہ حملہ آور ہونے سے نبی کریم ﷺ کے دندان مبارک شہید ہو گئے اور آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا۔ جس پر نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلا دی گئی کہ معاذاللہ حضرت محمد ﷺ کو شہید کر دیا گیا ہے۔

مسلمانوں میں خوف و حراس: نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ سے مجاہدین اسلام میں نبی ﷺ کی شہادت کے خوف کی لہر دوڑ گئی جس سے مسلمانوں کے حوصلے کم پڑ گئے۔

مجاہدین کی ثابت قدمی: جس وقت میں نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلائی جا رہی تھی اسی اثناء میں جانثار مجاہدین نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہمت و ثابت قدمی سے مشرکین کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے۔

مسلمانوں کی ہمت و بہادری: مسلمانوں کو جب پتا چلا کہ نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ تھی تو تمام مجاہدین نے ثابت قدمی کے ساتھ دوبارہ ڈٹ کر مشرکین کا مقابلہ کیا۔

کفار کو شکست: مجاہدین کی اس ہمت و بہادری کو دیکھ کر کافروں نے لڑائی سے پیچھے ہٹ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی اور میدان جنگ کو چھوڑ کر مکہ مکرمہ واپس بھاگ گئے۔

مجاہدین شہداء کی تعداد: غزوہ اُحد میں مسلمان مجاہدین میں سے ستر (70) مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔

سید الشہداء: شہید مجاہدین میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ جنھیں نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا تھا جس پر نبی کریم ﷺ نے انھیں سید الشہداء کا خطاب دیا۔

حکم نبی کریم ﷺ کی اہمیت: اس غزوہ میں یہ بات عملی طور پر عیاں ہو گئی کہ رسول کریم ﷺ کے حکم کو فراموش کرنے اور نظم وضبط ترک کرنے سے کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔