سورت کا نمبر: سورۃ التوبہ کا سورتوں کی ترتیب توقیفی کے لحاظ سے نواں (09) نمبر ہے۔
سورت کے اضافی نام: اس سورت کے مفسرین کرام نے اور بھی نام لکھے ہیں لیکن دو مشہور نام "سورۃ التوبۃ" اور "سورۃ البراءۃ" ہیں۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کو سورۃ التوبہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان صحابہ کرام کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے جو کسی معقول وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تھے اور بعد میں انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سچی توبہ کی جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا تھا۔
اس سورت کو سورۃ البراءۃ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ براءت کے معنی کسی سے بری، بے زار اور قطع تعلق ہونے اور دست بردار ہونا ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ مشرکین سے بے نیاز اور قطع تعلق ہیں۔
زمانہ نزول: سورۃ التوبہ مدنی سورت ہے۔ یہ سورت نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی اور مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا۔
سورۃ التوبہ کی خصوصیات: سورۃ التوبہ وہ واحد سورت ہے جس کی ابتداء میں مسلمانوں کو منافقین سے نجات دینے کی بات کی گئی ہے۔ کیوں کہ اس سورت میں منافقین کی سزا کے متعلق آیت نازل ہوئی، جسکے نتیجے میں نبی کریم ﷺ نے کئی منافقین کا نام لے کر مسجد نبوی ﷺ سے نکال دیا۔ اور قبر کے عذاب سے پہلے ہی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔
بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ: سورۃ التوبہ ایسی واحد سورت ہے جس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ درج نہیں ہے۔ مفسرین کرام نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے آغاز میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھوائی۔ جب سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی نئے سرے سے تدوین کروائی تو انھیں نے بھی نبی کریم ﷺ کے طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھوائی۔
بسم اللہ نہ لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ سورۃ التوبہ کا آغاز میں مشرکین کیلئے امان اٹھانے سے ہوا ہے اور بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ امان کی تعلیم دیتی ہے اس لیے اسی مناسبت سے بھی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھوائی گئی۔
سورۃ التوبہ کی تلاوت کا قاعدہ: علماء کرام نے اس سورت کی تلاوت کا یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ جو شخص پیچھے سے سورۃ الانفال کی تلاوت کرتا آ رہا ہو، اسے یہاں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں پڑھنا چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو، تو اسے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھ لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر اس کے درمیان سے بھی تلاوت کرنی ہو تو بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھ لینی چاہیے۔ (آسان ترجمۃ القرآن)
غزوہ تبوک میں شرکت سے رہ جانے والے صحابہ کرام: غزوہ تبوک میں سیدنا کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم وقتی غفلت اور سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے رہ گئے تھے مگر کوئی نفاق یا بد نیتی نہیں تھی۔ یہ نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابہ تھے۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم ﷺ کے پوچھنے پر جب منافقین جھوٹے بہانے تراش رہے تھے تو ان صحابہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا اور اس پر آپ ﷺ سے معافی طلب فرمائی۔
صحابہ کرام کی توبہ کی قبولیت: آپ ﷺ نے ان کے بیانات کو قبول فرما کر ان کی توبہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور صحابہ کرام کو ان سے بات چیت کرنے سے منع فرما دیا۔ اس معاشرتی مقاطعے کو پچاس دن گزر گئے جو ان کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی طرف وحی نازل فرما کر ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔
صحابہ کرام کی مبارکباد: جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر ان کی قبولیت توبہ کی وحی نازل ہوئی تو باقی صحابہ کرام حضرت کعب بن مالک کو مبارک دے رہے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کی توبہ کو قبول فرمایا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا حضرت کعب بن مالک کو فرمان: حضرت کعب بن مالک نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا "تمہیں آج کا دن مبارک ہو یہ دن ان تمام دنوں سے بہتر ہے جو تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک تم پے گزرے ہیں"۔ حضرت کعب بن مالک نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ یہ معافی آپ کی طرف سے ہے یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ معافی اللہ کی طرف سے ہے"۔
حضرت کعب بن مالک کا عہد: حضرت کعب بن مالک نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ کی وجہ سے نجات دی ہے اس لیے میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ سچ بولوں گا۔
غزوہ تبوک: غزوہ تبوک نو ہجری میں ماہ رجب المرجب میں ہوا۔
نبی کریم ﷺ کا آخری غزوہ: غزوہ تبوک نبی کریم ﷺ کا آخری غزوہ ہے۔
وجہ تسمیہ: تبوک ایک مشہور مقام کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے دمشق کے راستے میں واقع ہے۔ اس علاقے میں موجود پانی کے ایک چشمے کا نام تبوک تھا۔ اسی مناسبت سے اس غزوہ کا نام “غزوہ تبوک” پڑ گیا۔
غزوہ تبوک کا پس منظر: فتح مکہ اور غزوہ حنین کے بعد اسلام دنیا کے خطے میں بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ہر طرف سے لوگ جوق در جوق نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام کے دائرے میں آنے لگے تھے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے اسلام دشمن طاقتوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں محسوس کیا۔ جس پر سرحدی قبائل کے لوگوں نے اسلام کا راستہ روکنے کیلئے فیصلہ کیا اور اس کے لیے روم کے بادشاہ ہرقل سے مدد طلب کی۔
غزوہ تبوک کے اسباب: غزوہ موتہ میں تین ہزار کے اسلامی لشکر نے دو لاکھ عیسائی فوج کو شکست دی۔ ہرقل قیصر روم نے اسلام کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور غسانی قبائل جو شام میں رومیوں کے زیر اثر تھے اور مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ہرقل نے شام کے عیسائی خاندان کو اس کی مہم جوئی کی ذمہ داری سونپی۔ ہرقل نے چالیس ہزار کا ایک لشکر اس مقصد کی غرض سے روم سے بھیجا۔ جس میں ارد گرد کے عیسائی قبائل بھی شامل تھے۔
لشکر روم کے حملے کی خبر: ملک شام کی طرف آنے والے ایک تجارتی قافلے نے نبی کریم ﷺ کو یہ خبر دی کہ رومیوں نے شام میں مسلمانوں کے مقابلے کیلئے ایک بہت بڑے لشکر کو ترتیب دیا ہے جسے قیصر روم ہرقل کی حمایت حاصل ہے اور وہ مدینہ منورہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا جنگ کی تیاری کا حکم: اس خبر کو سننے کے بعد نبی کریم ﷺ نے رومیوں کے خلاف جنگ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔
مسلمانوں کیلئے آزمائش: مسلمانوں کیلئے یہ وقت ایک سخت آزمائش کا تھا۔ یہ سخت، تنگی اور قحط سالی اور شدید گرمی کا موسم تھا۔ فصلوں اور کھجوروں کے پکنے کا عین وقت تھا۔ مسافت کی دوری اور راستے کی دشواری بھی پریشان کن امر تھی۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کا گھروں سے نکلنا سخت دشوار تھا۔
نبی کریم ﷺ کا اعلان جہاد: ان تمام حالات میں نبی کریم ﷺ نے جب غزوہ تبوک کا اعلان فرمایا اور حکم دیا کہ ملک شام جا کر قیصر روم کی افواج کے ساتھ جنگ کرنی ہے تو تمام صحابہ کرام نہایت جوش و خروش، ہمت و جذبے کے ساتھ غزوہ کی تیاری میں لگ گئے۔
جیش العسرۃ: مسلمانوں کے پاس سواریوں اور سامان جہاد کی شدید کمی تھی۔ افرادی قوت بھی لشکر روم کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ اسی بناء پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس لشکر کو “جیش العسرۃ” یعنی (تنگی کا لشکر) ایک مشکل گھڑی والا لشکر قرار دیا ہے۔
غزوہ تبوک کیلئے عام اعلان: نبی کریم ﷺ نے اس غزوہ کے بارے میں دیگر غزوات کے برعکس اعلان جہاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے اس مہم میں ہر اس شخص کی شرکت کو لازمی قرار دیا جو صحت مند ہو اور اس کے پاس سواری کا جانور موجود ہو۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے اسلام کے زیر اثر تمام علاقوں میں قاصد بھجوائے تاکہ مسلمان پوری طاقت کے ساتھ نکلیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو سکے مال و اسباب کے ساتھ اس غزوہ میں شریک ہوں۔
شوق جہاد و جذبہ شہادت: ان تمام تر سخت اور ناگزیر حالات کے باوجود بھی مسلمانوں میں شوق جہاد اور شہادت کا جذبہ غالب رہا اور وہ اپنے مال و اسباب کے ذریعے سے دنیا کی بڑی طاقت روم کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ اہل ایمان اپنی طاقت سے بڑھ کر ایثار و قربانی دیتے ہوئے اپنی پکی فصلوں اور کھجوروں کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہونے کیلئے تیار ہو گئے۔
منافقین کا کردار: اس موقع پر منافقین کے کردار بھی عیاں ہو کر سامنے آچکے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی کو اس کے تمام منافقین ساتھیوں سمیت لشکر سے باہر نکال دیا۔ جو ان کیلئے ذلت و رسوائی کا سبب بنا اور وہ اپنے اعمال کی سزا کو پا رہے تھے۔
مال و اسباب کی تیاری: نبی کریم ﷺ نے اس غزوہ کیلئے مال و اسباب اکٹھا کرنا شروع کیے تو نبی کریم ﷺ کے حکم پر جانثار صحابہ کرام نے اپنا مال و دولت نبی کریم ﷺ کے قدموں میں بچھا دیا۔
سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت: اس موقع پر سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا سامان لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لے آئے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ سے دریافت کیا کہ: “تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا”؟ سیدنا صدیق اکبر نے جواب دیا کہ: “میں اپنے گھر والوں کیلئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت والفت کو چھوڑ آیا ہوں”۔
سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا آدھا مال نبی کریم ﷺ کو اس غزوہ کیلئے پیش کیا۔
سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک سو گھوڑے، نو سو اونٹ اور ایک ہزار دینار پیش کیے۔ آپ نے ایک تہائی لشکر کو سازوسامان مہیا کیا۔ جو کہ اکتیس ہزار مجاہدین پر محیط تھا۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے چار ہزار درہم، حضرت سیدنا عاصم بن عدی نے 90 وسق (13 ٹن یعنی 500 کلوگرام) کھجوریں پیش کیں۔
حضرت ابو عقیل نے رات بھر مزدوری کر کے نصف صاع کھجوریں کما کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔
صحابیات کا مال و اسباب میں حصہ: صحابیات نے بھی اپنے اموال رسول اللہ ﷺ کو پیش کیے۔ سیدہ اُم سنان بیان کرتی ہیں کہ “میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ کے حجرے میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک چادر بچھی ہوئی دیکھی جس میں مسلمان خواتین اپنی چوڑیاں، ہار، انگوٹھیاں، جھمکے اور دیگر زیورات پیش کر رہی تھیں”۔
صحابہ کرام کا جذبہ جہاد: سواریوں کی شدید کمی کے باعث نبی کریم ﷺ نے جب چند صحابہ کرام کو مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تو خلوص ایمانی، شوق جہاد اور شہادت کی تمنا کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
حضرت علی المرتضیٰ کی ذمہ داری: نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی کو مدینہ منورہ میں اہل بیت کی حفاظت، گھریلو اور دیگر کاموں کی انجام دہی کی ذمہ داری پر مامور فرمایا۔
لشکر مجاہدین کی روانگی: نبی کریم ﷺ ماہ رجب المرجب نو ہجری میں اکتیس ہزار مجاہدین کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔
سازوسامان لشکر: مجاہدین میں سے دس ہزار مجاہدین سوار تھے جبکہ باقی لشکر مجاہدین پیادہ تھا۔ سواریوں کی کمی کی وجہ سے ایک اونٹ پر باری باری مجاہدین سوار ہوتے تھے۔
لشکر کو درپیش مشکلات: اسلامی لشکر کو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا جن میں سے تین مشکلات یہ ہیں۔ ایک پانی کی قلت، دوسرا سواریوں کی شدید کمی جس وجہ سے مجاہدین باری باری ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے اور باقی کے پیدل سفر کرتے تھے، تیسری زاد راہ بہت کم تھا مٹھی بھر کھجوریں کئی مجاہدین میں تقسیم کی جاتی تھیں۔
اسلامی لشکر کی مسافت: اسلامی لشکر نے ان تمام تر مشکلات مصائب میں ہمت و صبر، استقامت اور جواں مردی کے ساتھ پانچ سو (500) میل کا فاصلہ طے کیا۔
رومی فوج پر مسلمانوں کی ہیبت: مسلمانوں کی جراءت مندانہ پیش قدمی کو دیکھ کر رومی فوج پر اسلامی لشکر کی ہیبت و دھاک بیٹھ گئی اور رومی فوج اسلامی لشکر کے ساتھ مقابلے کی ہمت نہ کر سکی۔ اور وہ ادھر اُدھر بکھر کر انتشار کا شکار ہو گئی۔
لشکر مجاہدین کا مقام تبوک پر قیام: مسلمانوں کی فوج نے بیس دن تک تبوک کے مقام پر قیام کیا۔ لیکن رومی فوج کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ آ کر مسلمانوں کا مقابلہ کر سکتی۔
مجاہدین کی واپسی: بیس دن کے قیام کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجاہدین کو مدینہ منورہ روانگی کا حکم دیا۔ جس پر مجاہدین اسلام بغیر لڑائی کے واپس مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔
لشکر اسلامی کا والہانہ استقبال: مدینہ منورہ واپسی پر مجاہدین اسلام کا عورتوں اور بچوں نے والہانہ استقبال کیا۔
غزوہ تبوک کے نتائج: غزوہ تبوک کیلئے مسلمانوں کی جنگی جدوجہد نے اسلام کو بہت طاقت پہنچائی۔ جسے دیکھ کر رومیوں کے حوصلے پست پڑ گئے تھے۔ اس سے روم کا بادشاہ ہرقل بہت مرعوب ہوا۔ ایلہ کے رئیس یوحنا نے جزیہ دینا قبول کیا۔
اسلامی ریاست کی طاقت میں اضافہ: غزوہ تبوک کی عظیم کامیابی کے بعد مدینہ منورہ میں موجود اسلامی ریاست کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اور تمام کفریہ طاقتیں اب ریاست اسلامی سے کسی قسم کی جنگ کرنے سے کترانے لگی تھیں۔
جزیہ کا حصول: تمام حاکمین وقت نے جزیہ دے کر نبی کریم ﷺ کے زیر سایہ رہنے پر آمادگی ظاہر کی۔ جس سے مدینہ کی ریاست اسلامی کی ریاستی آمدن میں اضافہ ہوا۔
بیرونی خطرات سے نجات: مسلمانوں کا رعب و دبدبہ پورے عالم میں پھیل گیا جس سے بیرونی و سرحدی خطرات سے نجات مل گئی۔
مسجد ضرار کو منہدم کرنا: مدینہ منورہ میں مسجد قُباء کے قریب منافقین نے تعمیر کروائی تھی۔ اس مسجد کی تعمیر کا مقصد مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا اور اسلام کے خلاف ایک سازشی مرکز قائم کرنا تھا۔ اس منصوبے کے پیچھے ابو عامر الراہب نامی ایک عیسائی تھا جو اسلام کا سخت مخالف تھا اور اسے ہرقل کی حمایت حاصل تھی۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 107 تا 108 میں نبی کریم ﷺ کو اس مسجد کی حقیقت سے آگاہ فرما دیا۔ ان آیات کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اس مسجد کو منہدم کریں چنانچہ منافقین کی سازشوں کیلئے تعمیر کی گئی مسجد ضرار کو صحابہ کرام نے جلا کر کو منہدم کر دیا گیا۔
مسلمانوں کی عظیم فتح: غزوہ تبوک کی فتح مسلمانوں کیلئے ایک اللہ کی طرف سے ایک عظیم فتح تھی۔ جس میں کامیابی پر مسلمانوں کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ روم و ایران جیسی نامور حکومتوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ساتھ کے تمام سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ پورے عرب میں مسلمانوں کی عسکری طاقت کی دھاک بیٹھ گئی۔