گیارہویں جماعت کے لیے

سُوْرَةُ التَّوْبَة

پارہ 10 آیات 129 رکوع 16 مدنی

تعارف

سورت کا نمبر: سورۃ التوبہ کا سورتوں کی ترتیب توقیفی کے لحاظ سے نواں (09) نمبر ہے۔

سورت کے اضافی نام: اس سورت کے مفسرین کرام نے اور بھی نام لکھے ہیں لیکن دو مشہور نام "سورۃ التوبۃ" اور "سورۃ البراءۃ" ہیں۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کو سورۃ التوبہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان صحابہ کرام کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے جو کسی معقول وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے تھے اور بعد میں انھوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے سچی توبہ کی جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا تھا۔

اس سورت کو سورۃ البراءۃ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ براءت کے معنی کسی سے بری، بے زار اور قطع تعلق ہونے اور دست بردار ہونا ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بری الذمہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ مشرکین سے بے نیاز اور قطع تعلق ہیں۔

زمانہ نزول: سورۃ التوبہ مدنی سورت ہے۔ یہ سورت نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کے آخری دور میں غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی اور مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا۔

سورۃ التوبہ کی خصوصیات: سورۃ التوبہ وہ واحد سورت ہے جس کی ابتداء میں مسلمانوں کو منافقین سے نجات دینے کی بات کی گئی ہے۔ کیوں کہ اس سورت میں منافقین کی سزا کے متعلق آیت نازل ہوئی، جسکے نتیجے میں نبی کریم ﷺ نے کئی منافقین کا نام لے کر مسجد نبوی ﷺ سے نکال دیا۔ اور قبر کے عذاب سے پہلے ہی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔

بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ: سورۃ التوبہ ایسی واحد سورت ہے جس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ درج نہیں ہے۔ مفسرین کرام نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے آغاز میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھوائی۔ جب سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی نئے سرے سے تدوین کروائی تو انھیں نے بھی نبی کریم ﷺ کے طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے اس سورت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھوائی۔

بسم اللہ نہ لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ سورۃ التوبہ کا آغاز میں مشرکین کیلئے امان اٹھانے سے ہوا ہے اور بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ امان کی تعلیم دیتی ہے اس لیے اسی مناسبت سے بھی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھوائی گئی۔

سورۃ التوبہ کی تلاوت کا قاعدہ: علماء کرام نے اس سورت کی تلاوت کا یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ جو شخص پیچھے سے سورۃ الانفال کی تلاوت کرتا آ رہا ہو، اسے یہاں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں پڑھنا چاہیے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو، تو اسے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھ لینی چاہیے۔ اسی طرح اگر اس کے درمیان سے بھی تلاوت کرنی ہو تو بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھ لینی چاہیے۔ (آسان ترجمۃ القرآن)

غزوہ تبوک میں شرکت سے رہ جانے والے صحابہ کرام: غزوہ تبوک میں سیدنا کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم وقتی غفلت اور سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شرکت کرنے سے رہ گئے تھے مگر کوئی نفاق یا بد نیتی نہیں تھی۔ یہ نبی کریم ﷺ کے جلیل القدر صحابہ تھے۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر نبی کریم ﷺ کے پوچھنے پر جب منافقین جھوٹے بہانے تراش رہے تھے تو ان صحابہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی کوتاہی کا اعتراف کیا اور اس پر آپ ﷺ سے معافی طلب فرمائی۔

صحابہ کرام کی توبہ کی قبولیت: آپ ﷺ نے ان کے بیانات کو قبول فرما کر ان کی توبہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور صحابہ کرام کو ان سے بات چیت کرنے سے منع فرما دیا۔ اس معاشرتی مقاطعے کو پچاس دن گزر گئے جو ان کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی طرف وحی نازل فرما کر ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔

صحابہ کرام کی مبارکباد: جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ پر ان کی قبولیت توبہ کی وحی نازل ہوئی تو باقی صحابہ کرام حضرت کعب بن مالک کو مبارک دے رہے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کی توبہ کو قبول فرمایا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا حضرت کعب بن مالک کو فرمان: حضرت کعب بن مالک نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مسجد نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا "تمہیں آج کا دن مبارک ہو یہ دن ان تمام دنوں سے بہتر ہے جو تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک تم پے گزرے ہیں"۔ حضرت کعب بن مالک نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ یہ معافی آپ کی طرف سے ہے یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ معافی اللہ کی طرف سے ہے"۔

حضرت کعب بن مالک کا عہد: حضرت کعب بن مالک نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ کی وجہ سے نجات دی ہے اس لیے میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ سچ بولوں گا۔

اہم مضامین

مرکزی مضمون
سورۃ التوبہ کا مرکزی مضمون "مشرکین سے اعلان براءت یعنی لاتعلقی کا اظہار، کفار کا حرم شریف سے نکالا جانا اور منافقین کی رسوائی ہے"۔
خاص خصوصیت
سورۃ التوبہ قرآن مجید کی وہ واحد سورت ہے جس کی ابتداء میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نہیں لکھی گئی۔
تعلیم امان
اس سورت کا نزول امان کے اٹھا لینے سے ہوا ہے جبکہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ امان کی تعلیم دیتی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس سورت کے آغاز میں بِسْمِ اللّٰهِ نہیں لکھوائی تھی اور بعد میں آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے یہی سلسلہ جاری ہے۔
مشرکین سے بے زاری کا اعلان
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور نبی کریم ﷺ کی طرف سے مشرکین سے بے زاری کا اعلان فرمایا ہے اور آئندہ انھیں بیت اللہ شریف کے قریب نہ آنے دینے کا حکم صادر فرمایا ہے۔
تعمیر مسجد کیلئے شرط
سورت مبارکہ میں مسجد کی تعمیر کیلئے کامل ایمان کا ہونا شرط اول قرار دیا گیا ہے۔
ہجرت کی فضیلت
ہجرت کرنے والے مؤمنین کو اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا کیلئے اللہ کے راستے میں اپنا مال و جان پیش کیا ان کو جنت کی بشارت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا اعلان سنایا گیا ہے۔
غزوہ حنین کا تذکرہ
سورۃ التوبۃ میں مؤمنوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ جب غزوہ حنین میں تم نے اپنی کثرت تعداد پر ناز کیا تو وہ تمہارے کوئی کام نہ آسکی۔
مال و زر جمع کرنے پر وعید
سورت مبارکہ میں مال و دولت کو جمع کرنے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ نہ کرنے والوں کیلئے سخت قسم کی وعید کو بیان کیا گیا ہے کہ اسی مال کو آگ بنا کر ان کے جسموں کو داغا جائے گا جو وہ دنیا میں جمع کر کے رکھتے ہیں۔
یہود و نصاریٰ کے عقائد شرکیہ کا تذکرہ
سورۃ التوبہ میں یہود و نصاریٰ کے شرکیہ عقائد کو نہایت واضح اور تنقیدی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ خاص طور پر آیت نمبر اکتیس میں اس کو بیان کیا گیا ہے۔ اپنے علماء اور راہبوں کو رب بنانا، مسیح ابن مریم کو معبود بنانا اور شرک کی نفی کی گئی ہے۔
حرمت والے مہینوں میں تحریف
سورۃ التوبہ میں مشرکین کے اس عمل کی شدید مذمت کی گئی ہے کہ وہ حرمت والے مہینوں (اشہر حرم یعنی، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب المرجب) میں اپنی مرضی سے تبدیلی کرتے تھے۔ تاکہ اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق جنگ یا دیگر ممنوعہ کام کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو "کفر میں زیادتی" قرار دیا گیا ہے۔ (نسی کی رسم، حرمت والے مہینوں کو ردوبدل کر کے ان میں جنگ کرنا) بیان کیا گیا ہے۔
قتال فی سبیل اللہ کی ترغیب
اس سورت میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مشرکین و کفار سے جہاد کی ترغیب دی گئی ہے۔
منافقین کی سرزنش
سورۃ التوبہ میں منافقین کی بھرپور سرزنش کی گئی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے منافقین کو مسجد نبوی ﷺ سے نکالا گیا تو ذلت و رسوائی ان سب کا مقدر بنی اور وہ سب لوگوں کے سامنے بے نقاب ہو کر رہ گئے۔
سیدنا صدیق اکبر کی رفاقت کا تذکرہ
سورۃ التوبہ میں حضرت ابو بکر صدیق کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ دوران ہجرت کی رفاقت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
مصارف زکوٰۃ کا بیان
سورۃ التوبہ میں مصارف زکوٰۃ کو بیان کیا گیا ہے۔ مصارف زکوٰۃ سے مراد وہ مستحق افراد ہیں جن کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ جو کہ تعداد میں آٹھ ہیں۔ 1: فقراء (نہایت غریب) 2: مساکین (بنیادی ضروریات سے محروم) 3: عاملین زکوٰۃ (زکوٰۃ جمع کرنے والے) 4: مؤلفۃ القلوب (نو مسلم) 5: فی الرقاب (غلاموں یا قیدیوں کی رہائی کیلئے) 6: غارمین (قرض دار) 7: فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں) 8: ابن السبیل (مسافر جو مالی امداد کا محتاج ہو)۔
مؤمن مجاہدین کی تعریف
سورۃ التوبہ میں مؤمن مجاہدین کی بلند صفات اور فضیلتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ترجمہ "جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کیا، وہ اللہ کے ہاں سب سے بلند درجے پر ہیں، اور یہی لوگ کامیاب و کامران ہیں، اللہ نے ان کو اپنی رحمت، رضا اور ایسی جنتوں کی خوشخبری دی ہے کہ جن میں دائمی نعمتیں ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کے ہاں ان کیلئے بڑا اجر ہے"
منافقین کے کردار کا بیان
اس سورت میں منافقین کی چالاکیوں، سازشوں اور نفاق سے بھری حرکات کو بہت ہی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ظاہری ایمان لاتے ہیں۔ حقیقت میں وہ کافر ہیں، جہاد سے گریز اور بہانے کرنے والے ہیں، طنز، تمسخر اور فتنے کی کوشش میں شامل رہتے ہیں، مسجد ضرار کی تعمیر، جھوٹی قسمیں اور دوغلا پن کرتے ہیں، اسلام اور رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس جیسے تمام کرداروں کو بیان کیا گیا ہے۔
صحابہ کرام کی توبہ کا تذکرہ
سورت میں ان صحابہ کرام کی توبہ کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے لیکن جب منافقین طرح طرح کے بہانے بنا رہے تھے تو ان کی سچائی، ندامت اور ایمانی اخلاص کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا۔ توبہ کی قبولیت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی ایک عظیم مثال ہے۔
جہاد کی فضیلت
اس سورت مبارکہ میں جہاد کی فضیلت بیان کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کیلئے دنیا و آخرت میں بلند مقام اور دائمی کامیابی کی خوشخبری ہے۔
علم کی فضیلت
اس سورت میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علم کے حامل افراد کی عظمت اور اہمیت کو بیان فرمایا ہے اور ان لوگوں کو میدان جہاد میں مجاہدین کے ساتھ برابر کا شریک قرار دیا ہے۔ جنہوں نے علم حاصل کیا اور اسے اللہ کی رضا کیلئے استعمال کیا۔
نبی کریم ﷺ کی صفات عالیہ کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ نے آخری رسول حضرت محمد ﷺ کا ایک رحمت، ہمدرد اور دین کا کامل رہنما کے طور پر ذکر کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا رحمت للعالمین ہونا، مؤمنوں کیلئے ہمدرد، رہنمائی کی عظمت، جدوجہد و قربانی، نبی کریم ﷺ کا امت سے قریبی تعلق، امت کی تکلیف پر دلگیر ہونا، امت کی بھلائی کی شدید خواہش، مؤمنوں کیلئے شدید شفقت و مہربانی، جیسی عظیم صفات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔

علمی و عملی نکات

دشمنوں سے سلوک
دشمنوں میں بھی اگر کچھ لوگ عہد پر قائم ہوں تو ان کا لحاظ کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ عہد شکنی کرنے والوں جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔
حقوق میں برابری
حالت کفر سے اسلام میں آجانے والے مسلمانوں کے بھائی ہو جاتے ہیں اور وہ حقوق میں دوسرے مسلمانوں کے برابر حقوق رکھتے ہیں۔
سچے اہل ایمان
سچے اہل ایمان اللہ تعالی کا ہی خوف رکھتے ہیں۔ وہ باطل لوگوں اور مخلوق سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔ جو اللہ تعالی سے ڈرتا اللہ تعالی اسے مخلوق سے بے خوف کر دیتے ہیں۔
اہل ایمان کا بھروسہ
اہل ایمان کا کامل بھروسہ اللہ تعالی پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے جو بھی فیصلہ ہو وہ اس پر راضی ہوتے ہیں۔
وعید عذاب
وہ لوگ جو دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب کی وعید کی گئی ہے۔
منافقانہ طرز عمل
اللہ تعالی کے نزدیک یہ منافقانہ طرز عمل ہے کہ بندہ حصول مال اور رزق کی فراوانی کے لیے تو اللہ سے دعائیں کرے مگر جب اللہ سے یہ سب عطاء کر دے تو یہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرے۔
محبوب الی اللہ
اللہ تعالی اپنے محبوب بندوں کی خود نگہبانی کرتا ہے۔ اللہ تعالی کے محبوب بندوں کو جب کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالی ان کی حفاظت کرتا ہے۔
منافق
منافق جہاد اور نیکی کے کاموں میں پیچھے رہنا پسند کرتے ہیں۔

آیات و ترجمہ

آیت 24
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۤؤُكُمْ وَاَبْنَاۤؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالٌ ۨاقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۗ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ ﴿۲۴﴾
تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان اور یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے اور اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا۔
آیت 38
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ ۗ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ ﴿۳۸﴾
ایمان والو تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ راہ خدا میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہو (۸۸) کیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا کا اسباب آخرت کے سامنے تھوڑا ہے (۸۹)
آیت 39
اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا ۙ وَّيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوْهُ شَيْـًٔا ۗ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿۳۹﴾
اگر نہ کوچ کرو گے تو (ف۹۰) تمہیں سخت سزا دے گا اور تمہاری جگہ اور لوگ لے آئے گا (ف۹۱) اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے اور اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
آیت 40
اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۗ وَكَلِمَةُ اللّٰهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿۴۰﴾
اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بےشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ اتارا اور ان فوجوں سے اس کی مدد کی جو تم نے نہ دیکھیں اور کافروں کی بات نیچے ڈالی اللہ ہی کا بول بالا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
آیت 41
اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۗ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿۴۱﴾
کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے (ف۹۸) اور اللہ کی راہ میں لڑو اپنے مال اور جان سے یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر جانو (ف۹۹) آیت (41)
آیت 60
اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۤءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۗ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ ﴿۶۰﴾
زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لیے ہے محتاج اور نادار اور جو اسے تحصیل کر لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی گئی اور گردنیں چھڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
آیت 71
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۤءُ بَعْضٍ ۘ يَامُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيْعُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۗ اُولٰۤىِٕكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ ۗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿۷۱﴾
اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں (ف۱۶۹) بھلائی کا حکم دیں (ف۱۷۰) اور برائی سے منع کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور اللہ و رسول کا حکم مانیں یہ ہیں جن پر عنقریب اللہ رحم کرے گا بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے۔
آیت 72
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا وَمَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ ۗ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ ۗ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ﴿۷۲﴾
اللہ نے مسلمان مردوں و مسلمان عورتوں کو باغوں کا وعدہ دیا ہے جن کے نیچے نہریں رواں ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ مکانوں کا بسنے کے باغوں میں اور اللہ کی رضا سب سے بڑی یہی ہے بڑی مراد پانی۔
آیت 100
وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۗ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ﴿۱۰۰﴾
اور سب میں اگلے پہلے مہاجر (ف۲۲۶) اور انصار (ف۲۲۷) اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے (ف۲۲۸) اللہ ان سے راضی (ف۲۲۹) اور وہ اللہ سے راضی (ف۲۳۰) اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔
آیت 119
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ﴿۱۱۹﴾
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو (ف۲۸۰) اور سچوں کے ساتھ ہو (ف۲۸۱)
آیت 128
لَقَدْ جَاۤءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ﴿۱۲۸﴾
بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔
آیت 129
فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۗ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ ﴿۱۲۹﴾
پھر اگر وہ منہ پھیریں (ف۳۰۹) تو تم فرما دو کہ مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے (ف۳۱۰)۔

ذخیرہ الفاظ

اقْتَرَفْتُمُوْهَاتم نے انہیں کمایا
كَسَادَهَااس کا خسارہ
انْفِرُوْاتم نکلو
اثَّاقَلْتُمْتو بوجھل ہو جاتے ہو
مَتَاعُفائدہ
يَسْتَبْدِلْوہ بدل کر لے آئے گا
ثَانِيَ اثْنَيْنِدو میں سے دوسرے
تَحْزَنْغم نہ کر
اَيَّدَهٗاس کی مدد فرمائی
جُنُوْدٍلشکروں
كَلِمَةَبات
السُّفْلٰىپست
الْعُلْيَااونچی
خِفَافًاہلکا
ثِقَالًابوجھل
اَوْلِيَاۤءُدوست
يَامُرُوْنَوہ حکم دیتے ہیں
يَنْهَوْنَوہ روکتے ہیں
سَيَرْحَمُهُمُان پر ضرور رحم فرمائے گا
مَسٰكِنَمکان
السّٰبِقُوْنَسبقت کرنے والے
اتَّبَعُوْهُمْان کی پیروی کی
رَّضِيَراضی ہو
اَعَدَّاس نے تیار کیے
اَبَدًاہمیشہ
عَزِيْزٌ عَلَيْهِان پر بہت گراں گزرتا ہے
مَا عَنِتُّمْتمہارا مشقت میں پڑنا
حَرِيْصٌخواہش مند ہیں
فَاِنْ تَوَلَّوْاپھر اگر وہ منھ موڑ لیں
حَسْبِيَ اللّٰهُمیرے لیے اللہ ہی کافی ہے

کثیرالانتخابی سوالات

سورت التوبہ میں آیات کی تعداد ہے:
سورت التوبہ کا دوسرا نام ہے:
غزوہ تبوک میں مسلمانوں کا مقابلہ تھا:
سورت کے شروع میں بسم اللہ نہیں ہے:
سورت التوبہ نازل ہوئی:
غزوہ تبوک میں مسلمانوں کا ہدف تھا:
مسجد کی تعمیر اور نگرانی کے لیے شرط ہے:
سورت التوبہ میں تفصیلی تذکرہ ہے:
سورت التوبہ میں ذکر ہے:
سورت التوبہ میں سازشیں بے نقاب ہوئیں:

مختصر سوالات

سورت التوبہ کو سورۃ البراءۃ کیوں کہا جاتا ہے؟˅
سورت التوبہ کو سورت البراءۃ اس لیے کہا جاتا ہے کیوں کہ اس کا مطلب ہے "کسی سے بری ،بے زار،قطع تعلق اور دست بردار ہونا"۔ اس سورت کے شروع ہی میں اللہ تعالی نے مشرکین سے بری ہونے کا اعلان فرمایا تھا کہ "اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ مشرکین سے بری اور قطع تعلق ہیں"۔
غزوہ تبوک میں منافقین کا کیا کردار تھا؟˅
غزوہ تبوک میں منافقین نے منفی کردار ادا کیا اور وہ اپنے رویے کی وجہ سے بالکل نمایاں ہوگئے۔
غزوہ تبوک کا سبب کیا تھا؟˅
غزوہ تبوک کا سبب یہ تھا کہ رومیوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے ارادے سے بہت ساری فوج اکٹھی کر لی تھی اور جب اس بات کا علم نبی کریم ﷺ کو ہوا تو انہوں نے ان کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا۔
غزوہ تبوک میں مسلمانوں کا مقابلہ کس سے تھا؟˅
غزوہ تبوک میں مسلمانوں کا مقابلہ قیصر روم اور اس کی افواج سے تھا۔
غزوہ تبوک سے کیا نتائج حاصل ہوئے؟˅
غزوہ تبوک کیلئے مسلمانوں کی جنگی مہم جوئی نے اسلامی ریاست کو بہت قوت دی، مسلمانوں کا عزم اور ہمت دیکھ کر کافروں کے حوصلے پست ہو گئے۔ یہ دیکھ کر روم کا بادشاہ ہرقل بہت مرعوب ہوا اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ تمام حکماء نے جزیہ دینے اور حضرت محمد ﷺ کے زیر سایہ رہنے پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ مسلمانوں کی بہت بڑی فتح تھی۔
سورت التوبہ کا مرکزی موضوع کیا ہے؟˅
سورت التوبہ کا مرکزی مضمون "مشرکین سے اعلان براءت یعنی لا تعلقی کا اظہار کفار کا حرم شریف سے نکالا جانا اور منافقین کی رسوائی" ہے۔
سورت التوبہ کے شروع میں تسمیہ کیوں نہیں ہے؟˅
سورت التوبہ قرآن مجید کی وہ واحد سورت ہے جس کے شروع میں تسمیہ نہیں ہے کیوں کہ اس سورت میں امان اٹھا لینے کا حکم ہے جبکہ تسمیہ میں امان کا حکم دیا گیا ہے۔
سورت التوبہ میں مسجد کی نگرانی اور تعمیر کے لیے کس چیز کو ضروری قرار دیا گیا ہے؟˅
سورت التوبہ میں مسجد کی نگرانی اور تعمیر کے لیے ایمان کامل کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
سورت التوبہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کیا فضیلت ہے؟˅
سورت توبہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یہ فضیلت ہے کہ اس سورت میں ان کو "غار کا ساتھی" کہا گیا ہے۔
سورت التوبہ میں کس طرز کو منافقانہ عمل قرار دیا گیا ہے؟˅
سورت التوبہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ منافقانہ طرز عمل ہے کہ بندہ مال کے حصول اور رزق کی فراوانی کے لیے تو دعائیں کرے لیکن جب یہ سب اس کو حاصل ہو جائے تو وہ یہ مال اللہ تعالی کی راہ میں خرچ نہ کرے۔

غزوہ تبوک

غزوہ تبوک: غزوہ تبوک نو ہجری میں ماہ رجب المرجب میں ہوا۔

نبی کریم ﷺ کا آخری غزوہ: غزوہ تبوک نبی کریم ﷺ کا آخری غزوہ ہے۔

وجہ تسمیہ: تبوک ایک مشہور مقام کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے دمشق کے راستے میں واقع ہے۔ اس علاقے میں موجود پانی کے ایک چشمے کا نام تبوک تھا۔ اسی مناسبت سے اس غزوہ کا نام “غزوہ تبوک” پڑ گیا۔

غزوہ تبوک کا پس منظر: فتح مکہ اور غزوہ حنین کے بعد اسلام دنیا کے خطے میں بہت تیزی سے پھیل رہا تھا۔ ہر طرف سے لوگ جوق در جوق نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام کے دائرے میں آنے لگے تھے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے اسلام دشمن طاقتوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں محسوس کیا۔ جس پر سرحدی قبائل کے لوگوں نے اسلام کا راستہ روکنے کیلئے فیصلہ کیا اور اس کے لیے روم کے بادشاہ ہرقل سے مدد طلب کی۔

غزوہ تبوک کے اسباب: غزوہ موتہ میں تین ہزار کے اسلامی لشکر نے دو لاکھ عیسائی فوج کو شکست دی۔ ہرقل قیصر روم نے اسلام کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور غسانی قبائل جو شام میں رومیوں کے زیر اثر تھے اور مسیحی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ ہرقل نے شام کے عیسائی خاندان کو اس کی مہم جوئی کی ذمہ داری سونپی۔ ہرقل نے چالیس ہزار کا ایک لشکر اس مقصد کی غرض سے روم سے بھیجا۔ جس میں ارد گرد کے عیسائی قبائل بھی شامل تھے۔

لشکر روم کے حملے کی خبر: ملک شام کی طرف آنے والے ایک تجارتی قافلے نے نبی کریم ﷺ کو یہ خبر دی کہ رومیوں نے شام میں مسلمانوں کے مقابلے کیلئے ایک بہت بڑے لشکر کو ترتیب دیا ہے جسے قیصر روم ہرقل کی حمایت حاصل ہے اور وہ مدینہ منورہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ کا جنگ کی تیاری کا حکم: اس خبر کو سننے کے بعد نبی کریم ﷺ نے رومیوں کے خلاف جنگ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔

مسلمانوں کیلئے آزمائش: مسلمانوں کیلئے یہ وقت ایک سخت آزمائش کا تھا۔ یہ سخت، تنگی اور قحط سالی اور شدید گرمی کا موسم تھا۔ فصلوں اور کھجوروں کے پکنے کا عین وقت تھا۔ مسافت کی دوری اور راستے کی دشواری بھی پریشان کن امر تھی۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کا گھروں سے نکلنا سخت دشوار تھا۔

نبی کریم ﷺ کا اعلان جہاد: ان تمام حالات میں نبی کریم ﷺ نے جب غزوہ تبوک کا اعلان فرمایا اور حکم دیا کہ ملک شام جا کر قیصر روم کی افواج کے ساتھ جنگ کرنی ہے تو تمام صحابہ کرام نہایت جوش و خروش، ہمت و جذبے کے ساتھ غزوہ کی تیاری میں لگ گئے۔

جیش العسرۃ: مسلمانوں کے پاس سواریوں اور سامان جہاد کی شدید کمی تھی۔ افرادی قوت بھی لشکر روم کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ اسی بناء پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس لشکر کو “جیش العسرۃ” یعنی (تنگی کا لشکر) ایک مشکل گھڑی والا لشکر قرار دیا ہے۔

غزوہ تبوک کیلئے عام اعلان: نبی کریم ﷺ نے اس غزوہ کے بارے میں دیگر غزوات کے برعکس اعلان جہاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے اس مہم میں ہر اس شخص کی شرکت کو لازمی قرار دیا جو صحت مند ہو اور اس کے پاس سواری کا جانور موجود ہو۔ نبی کریم ﷺ نے پہلے اسلام کے زیر اثر تمام علاقوں میں قاصد بھجوائے تاکہ مسلمان پوری طاقت کے ساتھ نکلیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو سکے مال و اسباب کے ساتھ اس غزوہ میں شریک ہوں۔

شوق جہاد و جذبہ شہادت: ان تمام تر سخت اور ناگزیر حالات کے باوجود بھی مسلمانوں میں شوق جہاد اور شہادت کا جذبہ غالب رہا اور وہ اپنے مال و اسباب کے ذریعے سے دنیا کی بڑی طاقت روم کے خلاف جہاد کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ اہل ایمان اپنی طاقت سے بڑھ کر ایثار و قربانی دیتے ہوئے اپنی پکی فصلوں اور کھجوروں کو چھوڑ کر نبی کریم ﷺ کے ساتھ روانہ ہونے کیلئے تیار ہو گئے۔

منافقین کا کردار: اس موقع پر منافقین کے کردار بھی عیاں ہو کر سامنے آچکے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی کو اس کے تمام منافقین ساتھیوں سمیت لشکر سے باہر نکال دیا۔ جو ان کیلئے ذلت و رسوائی کا سبب بنا اور وہ اپنے اعمال کی سزا کو پا رہے تھے۔

مال و اسباب کی تیاری: نبی کریم ﷺ نے اس غزوہ کیلئے مال و اسباب اکٹھا کرنا شروع کیے تو نبی کریم ﷺ کے حکم پر جانثار صحابہ کرام نے اپنا مال و دولت نبی کریم ﷺ کے قدموں میں بچھا دیا۔

سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت: اس موقع پر سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر کا سارا سامان لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لے آئے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ سے دریافت کیا کہ: “تم نے اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑا”؟ سیدنا صدیق اکبر نے جواب دیا کہ: “میں اپنے گھر والوں کیلئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت والفت کو چھوڑ آیا ہوں”۔

سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا آدھا مال نبی کریم ﷺ کو اس غزوہ کیلئے پیش کیا۔

سیدنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک سو گھوڑے، نو سو اونٹ اور ایک ہزار دینار پیش کیے۔ آپ نے ایک تہائی لشکر کو سازوسامان مہیا کیا۔ جو کہ اکتیس ہزار مجاہدین پر محیط تھا۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے چار ہزار درہم، حضرت سیدنا عاصم بن عدی نے 90 وسق (13 ٹن یعنی 500 کلوگرام) کھجوریں پیش کیں۔

حضرت ابو عقیل نے رات بھر مزدوری کر کے نصف صاع کھجوریں کما کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔

صحابیات کا مال و اسباب میں حصہ: صحابیات نے بھی اپنے اموال رسول اللہ ﷺ کو پیش کیے۔ سیدہ اُم سنان بیان کرتی ہیں کہ “میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ کے حجرے میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک چادر بچھی ہوئی دیکھی جس میں مسلمان خواتین اپنی چوڑیاں، ہار، انگوٹھیاں، جھمکے اور دیگر زیورات پیش کر رہی تھیں”۔

صحابہ کرام کا جذبہ جہاد: سواریوں کی شدید کمی کے باعث نبی کریم ﷺ نے جب چند صحابہ کرام کو مدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تو خلوص ایمانی، شوق جہاد اور شہادت کی تمنا کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

حضرت علی المرتضیٰ کی ذمہ داری: نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی کو مدینہ منورہ میں اہل بیت کی حفاظت، گھریلو اور دیگر کاموں کی انجام دہی کی ذمہ داری پر مامور فرمایا۔

لشکر مجاہدین کی روانگی: نبی کریم ﷺ ماہ رجب المرجب نو ہجری میں اکتیس ہزار مجاہدین کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔

سازوسامان لشکر: مجاہدین میں سے دس ہزار مجاہدین سوار تھے جبکہ باقی لشکر مجاہدین پیادہ تھا۔ سواریوں کی کمی کی وجہ سے ایک اونٹ پر باری باری مجاہدین سوار ہوتے تھے۔

لشکر کو درپیش مشکلات: اسلامی لشکر کو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا جن میں سے تین مشکلات یہ ہیں۔ ایک پانی کی قلت، دوسرا سواریوں کی شدید کمی جس وجہ سے مجاہدین باری باری ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے اور باقی کے پیدل سفر کرتے تھے، تیسری زاد راہ بہت کم تھا مٹھی بھر کھجوریں کئی مجاہدین میں تقسیم کی جاتی تھیں۔

اسلامی لشکر کی مسافت: اسلامی لشکر نے ان تمام تر مشکلات مصائب میں ہمت و صبر، استقامت اور جواں مردی کے ساتھ پانچ سو (500) میل کا فاصلہ طے کیا۔

رومی فوج پر مسلمانوں کی ہیبت: مسلمانوں کی جراءت مندانہ پیش قدمی کو دیکھ کر رومی فوج پر اسلامی لشکر کی ہیبت و دھاک بیٹھ گئی اور رومی فوج اسلامی لشکر کے ساتھ مقابلے کی ہمت نہ کر سکی۔ اور وہ ادھر اُدھر بکھر کر انتشار کا شکار ہو گئی۔

لشکر مجاہدین کا مقام تبوک پر قیام: مسلمانوں کی فوج نے بیس دن تک تبوک کے مقام پر قیام کیا۔ لیکن رومی فوج کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ آ کر مسلمانوں کا مقابلہ کر سکتی۔

مجاہدین کی واپسی: بیس دن کے قیام کے بعد نبی کریم ﷺ نے مجاہدین کو مدینہ منورہ روانگی کا حکم دیا۔ جس پر مجاہدین اسلام بغیر لڑائی کے واپس مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔

لشکر اسلامی کا والہانہ استقبال: مدینہ منورہ واپسی پر مجاہدین اسلام کا عورتوں اور بچوں نے والہانہ استقبال کیا۔

غزوہ تبوک کے نتائج: غزوہ تبوک کیلئے مسلمانوں کی جنگی جدوجہد نے اسلام کو بہت طاقت پہنچائی۔ جسے دیکھ کر رومیوں کے حوصلے پست پڑ گئے تھے۔ اس سے روم کا بادشاہ ہرقل بہت مرعوب ہوا۔ ایلہ کے رئیس یوحنا نے جزیہ دینا قبول کیا۔

اسلامی ریاست کی طاقت میں اضافہ: غزوہ تبوک کی عظیم کامیابی کے بعد مدینہ منورہ میں موجود اسلامی ریاست کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اور تمام کفریہ طاقتیں اب ریاست اسلامی سے کسی قسم کی جنگ کرنے سے کترانے لگی تھیں۔

جزیہ کا حصول: تمام حاکمین وقت نے جزیہ دے کر نبی کریم ﷺ کے زیر سایہ رہنے پر آمادگی ظاہر کی۔ جس سے مدینہ کی ریاست اسلامی کی ریاستی آمدن میں اضافہ ہوا۔

بیرونی خطرات سے نجات: مسلمانوں کا رعب و دبدبہ پورے عالم میں پھیل گیا جس سے بیرونی و سرحدی خطرات سے نجات مل گئی۔

مسجد ضرار کو منہدم کرنا: مدینہ منورہ میں مسجد قُباء کے قریب منافقین نے تعمیر کروائی تھی۔ اس مسجد کی تعمیر کا مقصد مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنا اور اسلام کے خلاف ایک سازشی مرکز قائم کرنا تھا۔ اس منصوبے کے پیچھے ابو عامر الراہب نامی ایک عیسائی تھا جو اسلام کا سخت مخالف تھا اور اسے ہرقل کی حمایت حاصل تھی۔ غزوہ تبوک سے واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 107 تا 108 میں نبی کریم ﷺ کو اس مسجد کی حقیقت سے آگاہ فرما دیا۔ ان آیات کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اس مسجد کو منہدم کریں چنانچہ منافقین کی سازشوں کیلئے تعمیر کی گئی مسجد ضرار کو صحابہ کرام نے جلا کر کو منہدم کر دیا گیا۔

مسلمانوں کی عظیم فتح: غزوہ تبوک کی فتح مسلمانوں کیلئے ایک اللہ کی طرف سے ایک عظیم فتح تھی۔ جس میں کامیابی پر مسلمانوں کو یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے ساتھ روم و ایران جیسی نامور حکومتوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ساتھ کے تمام سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ پورے عرب میں مسلمانوں کی عسکری طاقت کی دھاک بیٹھ گئی۔