اس سورت کا نام سورۃ حٰمٓ السَّجْدَة ہے۔
اس سورت کا پارہ نمبر 24 ہے۔
سورۃ حٰمٓ السَّجْدَة قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 41 نمبر کی سورت ہے۔
اس سورت کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔
اس سورت کی آیات بینات کی تعداد (54) چون ہے۔
اس سورت کے رکوعات کی تعداد (06) چھ ہے۔
سورۃ حم السجدۃ مجموعہ حوامیم کی دوسری سورت ہے۔
سورۃ حم السجدۃ سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبول اسلام کے بعد اور حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے نازل ہوئی۔
اس سورت کا مشہور نام سورۃ حم السجدۃ ہے۔ حم حروف مقطعات میں سے ہے اور اس سورت کا آغاز حم سے ہو رہا ہے اور السجدۃ کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت کی آیت نمبر اڑتیس (38) آیتِ سجدہ ہے۔اس لیے اس سورت کو حم السجدۃ کہتے ہیں
آیت سجدہ سے مراد ایسی آیت ہے کہ اس کے پڑھنے اور سننے سے آیت سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔
اس سورت کا اضافی نام سورۃ فصلت ہے جو کہ اس سورت کی آیت نمبر كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ کی بناء پر رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ اس سورت کو "سورۃ المصابیح" اور "سورۃ الا قوات "بھی کہا جاتا ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش نے عتبہ بن ربیعہ کو نبی کریم کے ساتھ بحث مباحثہ کے لیے بھیجا۔ اس نے آکر آپ ﷺ سے گفتگو کی اور آپ ﷺ کو دعوت دین سے رک جانے کے بدلے مال و دولت، سرداری اور شادی کی پیشکش کی۔ جب اس کی بات ختم ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے سورۃ حم السجدۃ کی ابتدائی تیرہ آیات کی تلاوت فرمائی۔
اس سورت کا مرکزی موضوع “عقیدہ توحید کا اثبات، شرک کی تردید، قرآن مجید کی حفاظت اور ایمان بالآخرت ” ہے۔