اہم مضامین
نبی کریم ﷺ سے ارشاد
سورۃ الشوریٰ میں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی تعلیم اس سے پہلے تمام انبیائے کرامؑ کو دی اور اسی پر قائم رہنے اور اختلاف نہ کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ جن لوگوں نے اس کے باوجود اختلاف کیا اور الگ الگ گروہ اور فرقے بنا لیے تو ان کے اختلاف کا سبب لاعلمی یا جہالت نہیں بلکہ ضد اور عناد ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلے کا ایک دن مقرر نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔ نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ آپ اسی دینِ برحق کی دعوت دیں اور اسی پر قائم رہیں۔
مشرکین کا انجام
مشرکین کے شرکاء کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ اگر انھوں نے کچھ ایسے شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین میں کوئی ایسی طریقہ ایجاد کر لی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی تو یہ دین اور یہ شرکاء قیامت کے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ قیامت کے دن یہ مشرکین سخت خوف زدہ ہوں گے۔
کامیاب لوگوں کا ذکر
اس دن کامیابی ایمان اور عملِ صالح اختیار کرنے والوں کا مقدر ہو گی۔
اہل ایمان کے اوصاف
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں، ہر قسم کی بے حیائی سے بچتے ہیں، غصہ کی حالت میں انتقام کی جگہ معاف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی اطاعت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو رزق انھیں دیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور ان کی سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ آپس کے معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کرتے ہیں۔
اہمیت مشاورت
مشاورت انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہے۔ مشاورت کی وجہ سے بہترین رائے اور نتیجے تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کو مشاورت کا حکم
نبی کریم ﷺ کو بھی مشاورت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشاورت فرمایا کرتے تھے۔
منکرین کو تنبیہ
سورت کے آخر میں منکرین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی بھی مددگار نہیں ہوتا۔
منکرین کو دعوت اسلام
منکرین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کر لیں اور اپنی عاقبت کو سنواریں۔
نبی کریم ﷺ کو تسلی
نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے تو آپ کو پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔
انسان کے ساتھ کلام الٰہی کی صورتیں
سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کے انسان کے ساتھ کلام کرنے کی مختلف صورتوں کو بیان کیا گیا ہے، کفار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتا؟ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے انسانوں سے کلام کرنے کے تین طریقے ہیں۔ ایک وحی کے ذریعے سے، دوسرا پردے کے پیچھے سے اور تیسرا فرشتہ بھیج کر اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے۔