دہم جماعت کے لیے

سورۃ الشُّورٰى

پارہ 25 آیات 53 رکوع 5 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الشُّورٰى ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 25 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الشُّورٰى قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 42 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

سورت کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔

آیات بینات

سورت کی آیات کی تعداد (53) ترپن ہے۔

رکوعات

سورت کے رکوعات کی تعداد (05) ہے۔

وجہ تسمیہ

اس سورت کی آیت نمبر (38) اڑتیس کے الفاظ "وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ وہ اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں" سے لیا گیا ہے۔

دورِ نزول

سورت الشوریٰ اس وقت نازل ہوئی جب اہل مکہ کی مخالفت اور بغض و عناد عروج پر تھا۔ یہ سورت حم کے لفظ سے شروع ہونے والی تیسری سورت ہے۔ حوامیم سورتوں کا زمانہ نزول قریب قریب ہے اور ان کے مضامین میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے۔

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “عقیدہ توحید و رسالت اور آخرت کا اثبات نیز باہمی اتحاد و اتفاق کا بیان ہے”۔

اہم مضامین

نبی کریم ﷺ سے ارشاد
سورۃ الشوریٰ میں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی تعلیم اس سے پہلے تمام انبیائے کرامؑ کو دی اور اسی پر قائم رہنے اور اختلاف نہ کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ جن لوگوں نے اس کے باوجود اختلاف کیا اور الگ الگ گروہ اور فرقے بنا لیے تو ان کے اختلاف کا سبب لاعلمی یا جہالت نہیں بلکہ ضد اور عناد ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلے کا ایک دن مقرر نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔ نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ آپ اسی دینِ برحق کی دعوت دیں اور اسی پر قائم رہیں۔
مشرکین کا انجام
مشرکین کے شرکاء کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ اگر انھوں نے کچھ ایسے شریک بنا لیے ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین میں کوئی ایسی طریقہ ایجاد کر لی ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی تو یہ دین اور یہ شرکاء قیامت کے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ قیامت کے دن یہ مشرکین سخت خوف زدہ ہوں گے۔
کامیاب لوگوں کا ذکر
اس دن کامیابی ایمان اور عملِ صالح اختیار کرنے والوں کا مقدر ہو گی۔
اہل ایمان کے اوصاف
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں، ہر قسم کی بے حیائی سے بچتے ہیں، غصہ کی حالت میں انتقام کی جگہ معاف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی اطاعت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو رزق انھیں دیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور ان کی سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ آپس کے معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کرتے ہیں۔
اہمیت مشاورت
مشاورت انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہے۔ مشاورت کی وجہ سے بہترین رائے اور نتیجے تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کو مشاورت کا حکم
نبی کریم ﷺ کو بھی مشاورت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چناں چہ نبی کریم ﷺ بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشاورت فرمایا کرتے تھے۔
منکرین کو تنبیہ
سورت کے آخر میں منکرین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی بھی مددگار نہیں ہوتا۔
منکرین کو دعوت اسلام
منکرین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کر لیں اور اپنی عاقبت کو سنواریں۔
نبی کریم ﷺ کو تسلی
نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے تو آپ کو پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔
انسان کے ساتھ کلام الٰہی کی صورتیں
سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کے انسان کے ساتھ کلام کرنے کی مختلف صورتوں کو بیان کیا گیا ہے، کفار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ہم سے کلام کیوں نہیں فرماتا؟ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے انسانوں سے کلام کرنے کے تین طریقے ہیں۔ ایک وحی کے ذریعے سے، دوسرا پردے کے پیچھے سے اور تیسرا فرشتہ بھیج کر اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے۔

ذخیرہ الفاظ

الْمَوَدَّةَمحبت
الْقُرْبٰىۙقرابت
یَجْتَنِبُوْنَوہ بچتے ہیں
اَمْرُهُمْان کے معاملات
شُوْرٰىمشورے سے
اسْتَجَابُوْاوہ حکم مانتے ہیں

آیات و ترجمہ

آیت 23
ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ-وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ(۲۳)
یہ ہے وہ جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے آپ ﷺ فرما دیں میں تم سے اس پر قرابت کی محبت کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کر دیں گے بے شک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت قدر دان ہے۔
آیت 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ(۳۷)
اور وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔
آیت 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ(۳۸)
اور جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، معاملات آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورت الشوریٰ کا مرکزی موضوع ہے:
سورت الشوریٰ کے نام سے اہمیت واضح ہوتی ہے:
نبی کریم ﷺ کی ذمہ داری ہے:
سورت الشوریٰ کے مطابق نبی کریم ﷺ کی پریشانی کا سبب تھا:
سورت الشوریٰ میں باہمی معاملات سے متعلق مسلمانوں کو نصیحت کی گئی:

مختصر سوالات

سورت الشوریٰ کا زمانہ نزول تحریر کریں؟˅
سورت الشوریٰ اس وقت نازل ہوئی جب اہل مکہ کی مخالفت اور بغض و عناد عروج پر تھا۔ یہ سورت حم کے لفظ سے شروع ہونے والی تیسری سورت ہے۔ حوامیم سورتوں کا زمانہ نزول قریب قریب ہے اور ان کے مضامین میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے۔
سورت الشوریٰ میں اہل ایمان کے کون سے نمایاں اوصاف بیان کیے گئے ہیں؟˅
کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں، ہر قسم کی بے حیائی سے بچتے ہیں، غصہ کی حالت میں انتقام کی جگہ معاف کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی اطاعت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جو رزق انھیں دیا ہے اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور ان کی سب سے نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ آپس کے معاملات کو باہمی مشاورت سے حل کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کس طرح بندے سے کلام کرتا ہے؟˅
سورۃ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کے انسان کے ساتھ کلام کرنے کی مختلف صورتوں کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انسانوں سے کلام کرنے کے تین طریقے ہیں۔ ایک وحی کے ذریعے سے، دوسرا پردے کے پیچھے سے اور تیسرا فرشتہ بھیج کر اپنا پیغام پہنچا دیتا ہے۔
مشاورت کی اہمیت بیان کریں؟˅
مشاورت انتہائی اہمیت کا حامل عمل ہے۔ مشاورت کی وجہ سے بہترین رائے اور نتیجے تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے۔
سورت الشوریٰ میں نبی کریم ﷺ کو مشرکین کے حوالے سے کیا ارشاد فرمایا؟˅
منکرین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت کو قبول کر لیں اور اپنی عاقبت کو سنواریں۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کی دعوت قبول نہیں کرتے تو آپ کو پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ آپ نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔

دعائیں

قُلْ لَّاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰىؕ (سورة الشورى: 23)
ترجمہ: آپ ﷺ فرما دیجیے میں تم میں سے اس (تبلیغ رسالت) پر قرابت کی محبت کے سوا کوئی اجر نہیں مانگتا۔

حدیث نبوی ﷺ

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ ﷺ فِیْ حَجَّتِهٖ یَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلٰى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ یَخْطُبُ، فَسَمِعْتُهٗ یَقُوْلُ: یَا اَیُّهَا النَّاسُ، اِنِّیْ قَدْ تَرَكْتُ فِیْكُمْ مَّا اِنْ اَخَذْتُمْ بِهٖ لَنْ تَضِلُّوْا: كِتَابَ اللّٰهِ، وَعِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ۔ (جامع ترمذی: 3786)
ترجمہ : حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے دن اپنی اونٹنی قصواء پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب، اور میرے اہل بیت ہیں۔