دہم جماعت کے لیے

سورۃ الْمُؤْمِن

پارہ 24 آیات 85 رکوع 9 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الْمُؤْمِن ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 24 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الْمُؤْمِن قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 40 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

اس سورت کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔

آیات بینات

اس سورت کی آیات بینات (85) پچاسی ہیں۔

رکوعات

اس سورت کے رکوعات کی تعداد (09) نو ہے۔

اضافی نام

اس سورت کے دو مشہور نام ہیں ایک نام سورۃ المؤمن ہے اور دوسرا سورۃ الغافر ہے۔

حوامیم

سورۃ المؤمن سے قرآن مجید کی سورتوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو رہا جن کا آغاز حم کے حروف سے ہو رہا ہے۔ انھیں "ال حم" یا حوامیم کہا جاتا ہے۔ حوامیم کا یہ سلسلہ سورۃ المؤمن سے سورۃ الاحقاف تک جا پہنچتا ہے۔ ان سورتوں میں بلاغت اور ادبی حسن پایا جاتا ہے۔

وجہ تسمیہ

اس سورت کا نام المؤمن اس سورت کی آیت نمبر 28 "وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ" سے ماخوذ ہے جبکہ دوسرا نام اس سورت کی آیت نمبر 3 "غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ" سے لیا گیا ہے۔

فضیلت

اس سورت کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا: جس شخص نے صبح اٹھ کر آیۃ الکرسی اور حم سے لے کر إِلَيْهِ الْمَصِيرُ (سورۃ المؤمن 3) تک پڑھا، اس کی شام تک حفاظت کی جائے گی اور جس نے شام میں پڑھا اس کی صبح تک حفاظت کی جائے گی۔

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “توحید، رسالت اور آخرت کا بیان ہے”۔

اہم مضامین

ذکر کتاب اللہ
سورت کے آغاز میں قرآن مجید کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔
صفات باری تعالیٰ
اس سورت کی ابتدائی دو آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ قرآن مجید کو نازل کرنے والا ہے۔ وہ غالب ہے، وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور گناہوں کو بخشنے والا ہے۔ شدید سزا دینے والا ہے اور بڑے فضل والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ سب نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
سابقہ اقوام کا ذکر
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ کتاب عظیم میں صرف وہی لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو کافر ہیں۔ انکی خوشحالی کو دیکھ کر کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ انھیں ان کے اعمال کی سزا نہیں مل رہی۔
پکڑ الی اللہ کا ذکر
حضرت نوحؑ اور دیگر انبیائے کرامؑ کی اقوام نے اپنے اپنے انبیائے کرامؑ کو جھٹلایا، اپنے رسولوں کے ساتھ ناحق جھگڑا کیا اور اپنے انبیائے کرامؑ کو گرفتار کرنے، انھیں مغلوب کرنے اور شکست دینے کی کوششیں کیں جن کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی پکڑ آ گئی۔
اہل ایمان کا تذکرہ
اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان کا عالم یہ ہے کہ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ کے وہ مقرب فرشتے دعائیں کرتے ہیں جنھوں نے عرشِ الٰہی کو اٹھایا ہوا ہے۔ اور وہ جو عرش کے ارد گرد ہوتے ہیں۔
حضرت موسیٰؑ و فرعون کا قصہ
جب حضرت موسیٰؑ نے توحید کی دعوت دی تو فرعون نے دعوت قبول کرنے کے بجائے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت موسیٰؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کر دیا جائے۔ اس پر حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی دعا کو قبول کرتے ہوئے ان کی حمایت میں ایک ایسا شخص کھڑا کر دیا جو فرعون کی قوم میں سے ہی تھا۔ وہ حضرت موسیٰؑ پر ایمان لا چکا تھا مگر اپنا ایمان چھپا رکھا تھا، اس نے کہا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے حالاں کہ وہ تمھارے پاس دلائل لے کر آیا ہے۔ اس مردِ مؤمن نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے تمام فطری دلائل ذکر کیے انھیں سمجھانے کی کوشش کی اور انھیں گزشتہ اقوام کی مثال دے کر عذاب الٰہی سے ڈرایا۔
دلائل توحید
سورت کے آخر میں توحید کے دلائل کے ساتھ قیامت کے مضامین کا بیان ہے کہ وہی اللہ تعالیٰ ہے جو آسمان سے رزق اتارتا ہے، بلند و بالا ہے، عرش کا مالک ہے اور وہی اللہ ہے جس نے تمھارے آرام کے لیے رات بنائی، دن کو روشن بنایا، اس تمھارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ بنایا، آسمان کو چھت بنایا، تمھیں اچھی شکل و صورت عطا فرمائی اور تمھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا فرمایا، چناں چہ جب یہ تمام نعمتیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں تو تعریف اور عبادت بھی اسی اکیلے اللہ تعالیٰ کا حق بنتا ہے۔
کاذبینِ وحی کا انجام
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور انبیائے کرامؑ پر بھیجی ہوئی وحی کو جھٹلاتے تھے عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جب طوق اور زنجیریں ان کے گلوں میں ہوں گیں اور ان کو گھسیٹا جائے گا، دوزخ میں جب انھیں پیاس لگے گی تو فرشتے انھیں گھسیٹتے ہوئے اس جگہ لے کر جائیں گے جہاں شدید گرم پانی ابل رہا ہو گا وہاں گرم پانی پلا کر پھر انھیں ان کی اصل جگہ آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

کثیرالانتخابی سوالات

فرعون قتل کروا دیتا تھا:
سورۃ المؤمن کے آغاز میں بیان ہے:
سورۃ المؤمن کے مطابق قرآن مجید کی آیات میں جھگڑا کرنے والے ہیں:
سورۃ المؤمن میں اہل جنت اور اہل دوزخ کے ذکر سے تعلیم دی جا رہی ہے:
فرعون کی قوم حضرت موسیٰؑ کی حمایت کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے قرار دیا:

مختصر سوالات

حوامیم میں کتنی سورتیں شامل ہیں؟˅
قرآن مجید میں سات ایسی سورتیں ہیں جن کا آغاز "حم" (حوامیم) سے ہوتا ہے۔ یہ تمام سورتیں مکی سورتیں ہیں اور قرآن کے 24ویں پارے سے شروع ہو کر 27(ستائیسویں) پارے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حوامیم سورتوں کے نام یہ ہیں۔ 1: حم غافر (سورۃ الغافر) 2: سورۃ فصلت (حم فصلت) 3: سورۃ الشوریٰ (حم عسق) 4: سورۃ الزخرف 5: سورۃ الدخان 6: سورۃ الجاثیہ 7: سورۃ الاحقاف
سورۃ المؤمن کے مطابق قوم نوح کی ہلاکت کے اسباب تحریر کریں۔˅
حضرت نوحؑ اور دیگر انبیاء کرامؑ کی اقوام نے اپنے انبیائے کرامؑ کو جھٹلایا، اپنے رسولوں کے ساتھ ناحق جھگڑا کیا اور انبیائے کرامؑ کو گرفتار کرنے اور انھیں مغلوب کرنے اور شکست دینے کی کوشش کی جس وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کی پکڑ آ گئی۔
سورۃ المؤمن کے مطابق اہل جہنم کو غصے میں دیکھ کر فرشتے انھیں کیا کہیں گے؟˅
سورۃ المؤمنون کے مطابق اہل جہنم کو غصے میں دیکھ کر فرشتے ان کو کہیں گے کہاں ہیں جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے اللہ کے سوا۔ وہ جواب دیں گے وہ ہم سے گم ہو گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو نہیں پوجتے تھے اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔
سورۃ المؤمن کے آغاز میں وحی کو جھٹلانے والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟˅
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور انبیائے کرامؑ پر بھیجی ہوئی وحی کو جھٹلاتے تھے عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ جب طوق اور زنجیریں ان کے گلوں میں ہوں گیں اور ان کو گھسیٹا جائے گا، دوزخ میں جب انھیں پیاس لگے گی تو فرشتے انھیں گھسیٹتے ہوئے اس جگہ لے کر جائیں گے جہاں شدید گرم پانی ابل رہا ہو گا وہاں گرم پانی پلا کر پھر انھیں ان کی اصل جگہ آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
قرآن مجید میں سابقہ اقوام کی ہلاکت کے بیان سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟˅
قرآن مجید میں سابقہ اقوام کی ہلاکت کے بیان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ اور اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔

دعائیں

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ(۹۳) رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۹۴)
تم عرض کرو کہ اے میرے رب اگر تو مجھے دکھائے۔ جو انہیں وعدہ دیا جاتا ہے تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں کے ساتھ نہ کرنا۔
عذاب الٰہی اور ظالموں سے بچنے کی دُعا: