دہم جماعت کے لیے

سورۃ الزُّمَر

پارہ 23 آیات 75 رکوع 8 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الزُّمَر ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 23 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الزُّمَر قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 39 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

اس سورت کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔

آیات بینات

اس سورت کی آیات کی تعداد (75) پچھتر ہے۔

رکوعات

اس سورت میں رکوعات کی تعداد (08) آٹھ ہے۔

زُمَر کے معانی

اس کے معانی گروہ کے ہیں۔ زمر، زمرۃ کی جمع ہے۔

شان نزول

یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمان مکہ میں کفار کے ہاتھوں سخت تکالیف اور اذیتوں کو جھیل رہے تھے۔

حکم ہجرت

اس سورت کی آیت نمبر 10 میں مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سر زمین بہت وسیع ہے، مسلمان کسی ایسی جگہ ہجرت کر جائیں جہاں وہ آزادی اور اطمینان کے ساتھ اپنی زندگیوں کو رب کائنات کی عبادت میں بسر کر سکیں۔

وجہ تسمیہ

سورت میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کفار کو گروہوں کی شکل میں دوزخ میں لے جایا جائے گا اور کس طرح سے مسلمانوں کو گروہوں کی شکل میں جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ اسی مناسبت سے اس کا نام سورت زمر رکھا گیا۔

فضیلت

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ "نبی کریم اس وقت تک سوتے نہیں تھے جب تک سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر کی تلاوت نہ فرما لیتے"۔

مرکزی خیال

سورت زمر کا مرکزی موضوع “مشرکین کے عقائد باطلہ کی تردید، توحید باری تعالیٰ اور قیامت کے دلائل کا بیان” ہے۔

اہم مضامین

قرآن مجید کی حقانیت
سورۃ الزمر کے آغاز میں کہا گیا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔ اس میں انسانوں کے لیے ہدایت ہی ہدایت ہے۔
عبادت الی اللہ کا حکم
اس سورت میں خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔
لوگوں کے طرز عمل کی نفی
اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے طرز عمل کی نفی کی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو ولی بنا لیتے ہیں اور پھر ان کی عبادت کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جھوٹا اور ناشکرا قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
وحدانیت الی اللہ
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے کہ وہ اکیلا ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اسکی اولاد ہے۔
اللہ کی قدرت و عظمت کا بیان
اپنی قدرت و عظمت کے دلائل کو بیان فرمایا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے، وہ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتا ہے، اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا، وہ نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی موت و حیات کا حقیقی مالک ہے، اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے اور تمھارے لیے چوپائے پیدا فرمائے، وہی تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں مختلف مراحل سے گزار کر تمھاری تخلیق فرماتا ہے۔ وہی تمھارا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
شکر گزاری کی تلقین
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر تم اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرو تو وہ تم سے بے نیاز ہے اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو تو وہ تمھارے اس عمل کو پسند فرمائے گا۔
مشرکین کا طرز عمل
خوشحالی اور بدحالی میں مشرک انسان کی عادت کا ذکر فرمایا ہے کہ جب ایسے انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ اسے کوئی نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے اور اس کے ساتھ شریک بنا لیتا ہے۔ اور پھر ان خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتا ہے۔
مؤمنین کا طرز عمل
مؤمنین کا یہ طرز عمل بیان کیا گیا ہے کہ وہ راتوں کی گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ اور قیام کرتے ہوئے گزارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا، آخرت سے خوف کھانے والا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کو بجا لانے والا ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار ہو سکتا ہے۔
تقویٰ کی تلقین
سورۃ الزمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیں۔ پھر نیکی کے صلہ کو بیان کی گیا ہے کہ جنھوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔
ہجرت کی اجازت
اس سورت میں اہل ایمان کو ان الفاظ کے ساتھ ہجرت کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر کہیں ان کو دین پر عمل کرنا مشکل ہو جائے تو وہ وہاں سے ہجرت کر جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے اور مشکلات کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر ہے۔
نبی کی زبانی اعلانات
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی زبانی لوگوں پر واضح کروایا گیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میں اس عبادت کروں، اسکا فرمانبردار ہوں اور اس کی توحید کا پرچار کروں۔
سفارش کا حقیقی مالک
سورۃ الزمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سفارش کی تمام صورتوں کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کر سکتا۔ زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے لہٰذا اسی کو پکارنا چاہیے۔
رجوع الی اللہ اور توبہ کی دعوت
اس سورت میں بندوں کو توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی دعوت دی گئی ہے اور ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بے شک وہ تمام گناہوں کے بخشنے والا ہے، لہٰذا اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع و فرمانبردار بن جاؤ۔
مذمت شرک
سورۃ الزمر کے آخر میں شرک کی مذمت کی گئی ہے کہ شرک بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان کیا گیا ہے۔
احوال قیامت کا تذکرہ
وقوع قیامت اور صور کے پھونکنے کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ جب قیامت کو برپا فرمائے گا تو حضرت اسرافیلؑ کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ ان کے صور پھونکنے سے ہر چیز فنا ہو کر رہ جائے گی سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا۔ پھر دوبارہ صور کو پھونکا جائے گا تو تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
میدان محشر
پھر تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں سے نکل میدان محشر میں جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی۔ لوگوں میں ان کے نامہ اعمال کو تقسیم کیا جائے گا اور ان کو ان کے تمام اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
جنت و جہنم کا ذکر
اس سورت کی آخری آیات مبارکہ میں جنتیوں کو جنت اور جہنمیوں کو جہنم میں ان کے اعمال کی بنیاد پر بھیجے جانے کا ذکر ہے۔

ذخیرہ الفاظ

لَا تَزِرُبوجھ نہیں اٹھائے گا
مَسَّپہنچتی ہے
قَانِتٌعبادت کرتا ہے
لَا تَقْنَطُوْامایوس نہ ہونا
وِزْرَبوجھ
ضُرٌّکوئی تکلیف
یَحْذَرُڈراتا ہے
الذُّنُوْبَسارے گناہ

آیات و ترجمہ

آیت 7
اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنْكُمْ ؕ وَ لَا یَرْضٰى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۚ وَ اِنْ تَشْكُرُوْا یَرْضَهُ لَكُمْ ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ؕ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (۷)
اگر تم ناشکری کرو گے تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا اور اگر تم شکر کرو وہ اس کو تمھارے لیے پسند کرتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمھیں اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے وہ تمھیں بتا دے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے بے شک وہ سینوں کے رازوں کو بھی خوب جاننے والا ہے۔
آیت 8
وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ مُنِیْبًا اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِیَ مَا كَانَ یَدْعُوْۤا اِلَیْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ ؕ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِیْلًا ۖ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ (۸)
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پھر جب وہ اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتا ہے تو وہ اس کو بھول جاتا ہے جس کیلئے پکار رہا تھا اور اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے تاکہ اس کے راستے سے گمراہ کرے آپ ﷺ فرما دیں تم اپنے کفر سے تھوڑا فائدہ اٹھا لو بے شک تم جہنم والوں میں سے ہو۔
آیت 9
اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىِٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖ ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ (۹)
یا جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے سجدے میں اور قیام میں آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید کرتا ہے آپ ﷺ فرما دیں کیا برابر ہو سکتے ہیں علم رکھنے اور نہ رکھنے والے نصیحت تو بس وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔
آیت 10
قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (۱۰)
آپ ﷺ فرما دیں اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے بے شک صبر کرنے والوں کو اب کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
آیت 11
قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ ۙ(۱۱)
آپ ﷺ فرما دیں بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اس کے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
آیت 12
وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ (۱۲)
اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔
آیت 13
قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (۱۳)
آپ ﷺ فرما دیں اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بے شک میں ڈرتا ہوں ایک بڑے دن کے عذاب سے۔
آیت 14
قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهٗ دِیْنِیْ ۙ(۱۴)
آپ ﷺ فرما دیں میں اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اپنے دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔
آیت 53
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (۵۳)
آپ ﷺ فرما دیں اے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بے اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔

کثیرالانتخابی سوالات

زمر کا معنی ہے:
سورت الزمر میں مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے:
زمین و آسمان کی بادشاہت کا مالک اللہ تعالیٰ کو سمجھنا ہے:
دوسری بار صور پھونکنے کے فوراً بعد لوگ جائیں گے:
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم سورت الزمر کی تلاوت فرماتے:

مختصر سوالات

سورت الزمر میں بیان کردہ توحید کے دو دلائل بیان کریں؟˅
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے کہ وہ اکیلا ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اسکی اولاد ہے۔
سورت الزمر میں کن دو گروہوں کا تذکرہ ہے؟˅
سورت الزمر میں دو گروہوں کا ذکر ہے ایک اہل ایمان دوسرا کفار
سورت الزمر میں مؤمنین کی کن دو صفات کا ذکر ہے؟˅
مؤمنین کا یہ طرز عمل بیان کیا گیا ہے کہ وہ راتوں کی گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ اور قیام کرتے ہوئے گزارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا، آخرت سے خوف کھانے والا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کو بجا لانے والا ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار ہو سکتا ہے۔
قیامت کے برپا ہونے کے مراحل بیان کریں؟˅
وقوع قیامت اور صور کے پھونکنے کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ جب قیامت کو برپا فرمائے گا تو حضرت اسرافیلؑ کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ ان کے صور پھونکنے سے ہر چیز فنا ہو کر رہ جائے گی سوائے اللہ تعالیٰ جسے محفوظ رکھے گا۔ پھر دوبارہ صور کو پھونکا جائے گا تو تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
سورت الزمر کی فضیلت میں ایک حدیث کا ترجمہ لکھیں؟˅
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ "نبی کریم اس وقت تک سوتے نہیں تھے جب تک سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر کی تلاوت نہ فرما لیتے"۔

دعائیں

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ(۲۶)
نوح نے عرض کی اے میرے رب میری مدد فرما اس پر کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا۔
جھوٹے الزام و مقدمہ میں فتح پانے کی دعا
وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ(۸۵)
اور مجھے ان میں کر جو چین کے باغوں کے وارث ہیں۔
حصولِ جنت کیلئے دعا