اہم مضامین
قرآن مجید کی حقانیت
سورۃ الزمر کے آغاز میں کہا گیا کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے۔ اس میں انسانوں کے لیے ہدایت ہی ہدایت ہے۔
عبادت الی اللہ کا حکم
اس سورت میں خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔
لوگوں کے طرز عمل کی نفی
اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے طرز عمل کی نفی کی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو ولی بنا لیتے ہیں اور پھر ان کی عبادت کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جھوٹا اور ناشکرا قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
وحدانیت الی اللہ
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے اولاد کی نفی فرمائی ہے کہ وہ اکیلا ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کی کوئی اسکی اولاد ہے۔
اللہ کی قدرت و عظمت کا بیان
اپنی قدرت و عظمت کے دلائل کو بیان فرمایا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے، وہ دن کو رات اور رات کو دن میں بدلتا ہے، اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا، وہ نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی موت و حیات کا حقیقی مالک ہے، اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا ہے اور تمھارے لیے چوپائے پیدا فرمائے، وہی تمھاری ماؤں کے پیٹوں میں مختلف مراحل سے گزار کر تمھاری تخلیق فرماتا ہے۔ وہی تمھارا رب ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔
شکر گزاری کی تلقین
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر تم اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرو تو وہ تم سے بے نیاز ہے اور اگر تم اس کا شکر ادا کرو تو وہ تمھارے اس عمل کو پسند فرمائے گا۔
مشرکین کا طرز عمل
خوشحالی اور بدحالی میں مشرک انسان کی عادت کا ذکر فرمایا ہے کہ جب ایسے انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ اسے کوئی نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اپنے رب کو بھول جاتا ہے اور اس کے ساتھ شریک بنا لیتا ہے۔ اور پھر ان خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارشی سمجھتا ہے۔
مؤمنین کا طرز عمل
مؤمنین کا یہ طرز عمل بیان کیا گیا ہے کہ وہ راتوں کی گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ اور قیام کرتے ہوئے گزارتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا، آخرت سے خوف کھانے والا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کو بجا لانے والا ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امید وار ہو سکتا ہے۔
تقویٰ کی تلقین
سورۃ الزمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیں۔ پھر نیکی کے صلہ کو بیان کی گیا ہے کہ جنھوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔
ہجرت کی اجازت
اس سورت میں اہل ایمان کو ان الفاظ کے ساتھ ہجرت کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر کہیں ان کو دین پر عمل کرنا مشکل ہو جائے تو وہ وہاں سے ہجرت کر جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے اور مشکلات کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر ہے۔
نبی کی زبانی اعلانات
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی زبانی لوگوں پر واضح کروایا گیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میں اس عبادت کروں، اسکا فرمانبردار ہوں اور اس کی توحید کا پرچار کروں۔
سفارش کا حقیقی مالک
سورۃ الزمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سفارش کی تمام صورتوں کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہیں کر سکتا۔ زمین و آسمان کی بادشاہی اسی کی ہے لہٰذا اسی کو پکارنا چاہیے۔
رجوع الی اللہ اور توبہ کی دعوت
اس سورت میں بندوں کو توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی دعوت دی گئی ہے اور ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بے شک وہ تمام گناہوں کے بخشنے والا ہے، لہٰذا اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع و فرمانبردار بن جاؤ۔
مذمت شرک
سورۃ الزمر کے آخر میں شرک کی مذمت کی گئی ہے کہ شرک بہت بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان کیا گیا ہے۔
احوال قیامت کا تذکرہ
وقوع قیامت اور صور کے پھونکنے کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ جب قیامت کو برپا فرمائے گا تو حضرت اسرافیلؑ کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ ان کے صور پھونکنے سے ہر چیز فنا ہو کر رہ جائے گی سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا۔ پھر دوبارہ صور کو پھونکا جائے گا تو تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے۔
میدان محشر
پھر تمام لوگ اپنی اپنی جگہوں سے نکل میدان محشر میں جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی۔ لوگوں میں ان کے نامہ اعمال کو تقسیم کیا جائے گا اور ان کو ان کے تمام اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
جنت و جہنم کا ذکر
اس سورت کی آخری آیات مبارکہ میں جنتیوں کو جنت اور جہنمیوں کو جہنم میں ان کے اعمال کی بنیاد پر بھیجے جانے کا ذکر ہے۔