دہم جماعت کے لیے

سورۃ الْمُؤْمِنُوْن

پارہ 18 آیات 118 رکوع 6 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الْمُؤْمِنُوْن ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 18 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الْمُؤْمِنُوْن قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 23 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

سورۃ المؤمنون کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔

آیات بینات

اس سورت کی آیات بینات کی تعداد (118) ایک سو اٹھارہ ہے۔

رکوعات

یہ سورت (06) چھ رکوعات پر مشتمل ہے۔

وجہ تسمیہ

اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنون کی صفات کا ذکر کیا ہے اس وجہ سے اس کا نام سورۃ المؤمنون رکھا گیا ہے۔

فضیلت

سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: مجھ پر دس ایسی آیات نازل ہوئی ہیں، جو ان پر عمل کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ پھر آپ نے قد افلح المؤمنون سے شروع کر کے دس آیات تلاوت فرمائیں۔

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “توحید رسالت اور قیامت سے متعلق دلائل اور اتباع رسول کی دعوت کا بیان” ہے۔

اہم مضامین

مؤمنین کی صفات کا تذکرہ
مؤمنین کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ایسے مومن کامیاب ہوں گے جو: اپنی نمازوں میں عاجزی اختیار کرتے ہیں، بے مقصد باتوں سے گریز کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، حد سے تجاوز نہیں کرتے، اپنے عہد و پیماں اور نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، یہی لوگ جنت کے وارث ہیں، یہ صفات بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو کامیابی کی ضمانت عطا فرمائی جس میں یہ صفات پائی جاتی ہیں۔
انسانی تخلیق کے مراحل
سورۃ المؤمنون میں انسان کی پیدائش اور ماں کے پیٹ میں تخلیق کے مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کو بطور دلیل بیان کر کے دوبارہ زندگی کا ذکر فرمایا، جسے کافر ناممکن خیال کرتے تھے۔
نعمت الی اللہ کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے مختلف نعمتوں آسمان سے پانی کا برسانا، کھجوروں اور انگوروں کے باغات اور دوسرے کئی میوہ جات پیدا کرنے کا ذکر فرمایا۔
جانوروں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے جانوروں و چوپاؤں کی تخلیق کا ذکر کرتے ہوئے ان سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر فرمایا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کا تذکرہ
حضرت نوحؑ کی بعثت و دعوت کا ذکر فرمایا ہے کہ جب حضرت نوحؑ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی تو انھوں نے اعتراضات شروع کر دیے۔ حضرت نوحؑ کی تبلیغ کے باوجود جب قوم اپنی سرکشی پر ڈٹی رہی تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب فرمائی، اللہ تعالیٰ نے انھیں کشتی بنانے کا حکم فرمایا، اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کی قوم پر سیلاب کا عذاب آیا۔ حضرت نوحؑ اور ان کے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا اور کافروں کو غرق کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔ حضرت نوحؑ کی قوم کے علاوہ باقی چند قوموں کا بھی ذکر آیا ہے۔
حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کی بعثت کا تذکرہ
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کی بعثت کا ذکر کیا ہے کہ انھیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا۔ فرعون اور اس کی قوم نے بھی تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت موسیٰؑ اور حضرت ہارونؑ کی بات ماننے سے انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ بھی ہلاک ہو گئے۔
حضرت عیسیٰؑ کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت عیسیٰؑ کی معجزانہ ولادت اور پھر حضرت مریمؑ کی پاک دامنی کو ایک نشانی بنایا۔ جو رب کریم کی قدرت کی زبردست دلیل ہے۔
دین اسلام کا ذکر
تمام انبیائے کرامؑ کا ذکر کر کے فرمایا کہ تمام انبیائے کرامؑ کو ایک ہی دین دیا گیا تھا، مگر ان کی امتیں انتشار کا شکار ہو گئیں اور فرقوں میں بٹ گئیں۔
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و قدرت کاملہ
سورۃ المؤمنون میں اللہ کریم کی وحدانیت و قدرت کاملہ کو دلائل سے سمجھایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آنکھ، کان اور دل عطا فرما کر تخلیق کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ زندگی و موت اور دن اور رات کو وہی بدلتا ہے۔ ہر قسم کی قوت، قدرت اور طاقت اسی کے پاس ہے۔
مشرکین سے سوال
نبی کریم کو مخاطب فرماتے ہوئے فرمایا گیا کہ مشرکین سے پوچھیے زمین اور اس میں جو کچھ بھی ہے وہ کس کا ہے؟ آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟ ہر چیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے؟ ان تمام سوالوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان منکرین کا جواب بھی نقل فرمایا ہے کہ وہ یہ ضرور کہیں گے کہ ان تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس حقیقت کو جاننے کے باوجود یہ کیوں نصیحت حاصل نہیں کرتے!
کفار کا انجام
سورۃ المؤمنون میں مشرکین کی موت اور قیامت کے احوال کا ذکر فرمایا ہے۔ کفار کو ان کے انجام سے ڈرایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جس کے برے اعمال کا پلڑا بھاری ہوا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔
مقصد تخلیق انسانی
سورۃ المؤمنون میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بھی بیان کیا ہے کہ اس نے کسی بھی انسان کو بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ سب کو اللہ کریم کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔

ذخیرہ الفاظ

اَفْلَحَفلاح پا گئے
اَیْمَانُهُمْان کی کنیزیں
الْعٰدُوْنَحد سے گزرنے والے
ابْتَغٰىتلاش کرے
هُمْوہ لوگ
اِنَّهُمْبے شک وہ لوگ
لِاَمٰنٰتِهِمْاپنی امانتیں
وَرَآءَسوائے
خٰشِعُوْنَعاجزی کرنے والے
غَیْرُ مَلُوْمِیْنَملامت زدہ نہیں ہیں
عَهْدِهِمْاپنے عہد
ذٰلِكَاس کے
اللَّغْوِفضول باتیں
مُعْرِضُوْنَمنھ موڑنے والے
رَاعُوْنَحفاظت کرنے والے
فِیْهَااس میں
الْفِرْدَوْسَجنت کا اعلیٰ ترین درجہ
حٰفِظُوْنَحفاظت کرنے والے
یُحَافِظُوْنَحفاظت کرتے ہیں
یَرِثُوْنَوارث ہوں گے
خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے

آیات و ترجمہ

آیت 1
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱)
یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے
آیت 2
الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲)
جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرنے والے ہیں۔
آیت 3
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)
اور وہ جو بیکار باتوں سے دور رہنے والے ہیں۔
آیت 4
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فَاعِلُوْنَۙ(۴)
اور وہ جو زکوٰۃ دینے والے ہیں۔
آیت 5
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ(۵)
اور وہ لوگ ہیں جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
آیت 6
اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ(۶)
سوائے اپنی بیویوں کے یا کنیزوں کے جن کے وہ مالک ہوئے تو ان پر کوئی ملامت نہیں۔
آیت 7
فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ(۷)
لہٰذا جو ان کے علاوہ چاہے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔
آیت 8
وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رَاعُوْنَۙ(۸)
اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں کی اور اپنے وعدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
آیت 9
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ(۹)
اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
آیت 10
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوَارِثُوْنَۙ(۱۰)
یہی لوگ وارث ہونے والے ہیں۔
آیت 11
الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۱۱)
جو فردوس کے وارث ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورت المؤمنون کا مرکزی موضوع ہے:
سورت المؤمنون کے آغاز میں بیان کی گئی:
اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کی قوم پر عذاب نازل فرمایا:
انسان کے تخلیقی مراحل بیان کرنے کا مقصد ہے:
سورت المؤمنون کے آخری حصے میں تذکرہ ہے:

مختصر سوالات

سورت المؤمنون میں بیان کردہ مومنین کی دو صفات تحریر کریں؟˅
سورت میں مذکور صفات مؤمنین میں سے دو صفات کہ وہ اپنی نمازوں میں عاجزی اختیار کرتے ہیں اور بے مقصد باتوں سے گریز کرتے ہیں۔
سورت المؤمنون میں بیان کردہ انسانی پیدائش کے مراحل بیان کریں؟˅
سورۃ المؤمنون میں انسان کی پیدائش اور ماں کے پیٹ میں تخلیق کے مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کو بطور دلیل بیان کر کے دوبارہ زندگی کا ذکر فرمایا، جسے کافر ناممکن خیال کرتے تھے۔
سورت المؤمنون میں مومنین کو کس کا وارث قرار دیا گیا ہے؟˅
سورت المؤمنون میں مومنین کو جنت کا وارث قرار دیا گیا ہے۔
سورت المؤمنون میں کفار مکہ کے انکار کی کیا وجہ بیان کی گئی ہے؟˅
سورۃ المؤمنون میں کفار مکہ کے انکار کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے کہا جب ہم مر جائیں گے تو کیا پھر اٹھائے جائیں گے؟ کفار کو مر کے دوبارہ جی اٹھنے پر یقین نہ تھا اس لیے وہ دعوت دین کا انکار کرتے تھے۔
سورت المؤمنون کی ابتدائی دس آیات سے متعلق حدیث کا ترجمہ لکھیں؟˅
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا! مجھ پر دس آیات ایسی نازل ہوئیں جو ان پر عمل کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔

دعائیں

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(۲۹)
اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔
منزل پر پہنچنے کی دعا
وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(۹۸) حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ(۹۹)
اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں۔ یہاں تک کہ جب اُن میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے۔
بُرے خواب اور شیطانی وسوسوں سے بچنے کی دعا