دہم جماعت کے لیے

سورۃ بَنِي إِسْرَائِيل

پارہ 15 آیات 111 رکوع 12 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ بَنِي إِسْرَائِيل ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 15 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ بَنِي إِسْرَائِيل قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 17 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

اس سورت کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔

آیات بینات

سورۃ بنی اسرائیل کی آیات کی تعداد (111) ایک سو گیارہ ہے۔

رکوعات کی تعداد

سورۃ بنی اسرائیل کے (12) بارہ رکوع ہیں۔

اضافی نام

سورت بنی اسرائیل کے اضافی نام "سُوْرَةُ سُبْحَانَ" اور "سُوْرَةُ الْإِسْرَاءِ" ہیں۔

وجہ تسمیہ

سورت کے آغاز میں نبی کریم کے سفر معراج کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے جس میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر ہے جسے "اسراء" کہتے ہیں، اسی وجہ سے اس کا نام سُوْرَةُ الْإِسْرَاءِ ہے۔ اسراء کے معانی "رات کو سیر کرانا ہے"۔ سورت کا آغاز کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح سے ہوتا ہے اس وجہ سے اس کو سُوْرَةُ سُبْحَانَ کہا جاتا ہے۔

مدنی دور سے مماثلت

اپنے مضامین کی نوعیت کے اعتبار سے مدنی مضامین کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے کیونکہ ان مضامین میں عقائد کے ساتھ ساتھ عبادات اور اسلامی و معاشرتی اخلاق کے تقاضے بیان ہوئے ہیں۔

فضیلت

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ "نبی کریم جب تک سُوْرَةُ بَنِي إِسْرَائِيل اور سُوْرَةُ الْإِسْرَاءِ پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے"۔

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “آپ کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دکھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد و عبادات اور معاشرتی آداب کا بیان” ہے۔

اہم مضامین

نبی کا عظیم معجزہ
سورت بنی اسرائیل کا آغاز نبی کریم کے عظیم معجزہ معراج سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے رات کے انتہائی قلیل وقت میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ، سدرۃ المنتہیٰ سے لامکاں کی سیر کروائی۔ معراج کا معنی "بلندی" اور اسراء کا معنی "سیر" ہے۔ سفر معراج میں نبی کریم کی مختلف انبیائے کرامؑ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے انبیائے کرامؑ کی امامت کرائی، جنت و جہنم اور عرش کرسی کو دیکھا اور آپ کو اچھے اور برے لوگوں کے انجام سے آگاہ کیا گیا۔
احسان بالوالدین کا حکم
سورت میں والدین کے حقوق کو بیان کرتے ہوئے ان کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ احسان کا مطلب ہے "حق سے بڑھ کر ادا کرنا"۔
والدین کے چند حقوق
حق سے بڑھ کر ان کی خدمت کرنا۔ ان کے ساتھ کلمہ اف یا کوئی ایسی بات بھی نا کرنا جس سے انہیں تکلیف ہو۔ نام سے پکارنے کی ممانعت، عزت والے کلمات سے پکارنے کا حکم، والدین کے آگے نہ چلنا، کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرنا، ان کے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھنا، جب وہ کھڑے ہوں تو کھڑے ہو جانا، غصہ کی نہیں بلکہ پیار کی نگاہ سے دیکھنا کیونکہ اس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ والدین کے قرابت داروں سے حسن سلوک سے پیش آنا، ان کے وصال کے بعد انکی دعائے مغفرت کرنا، ان کے دوستوں اور چاہنے والوں کا خیال رکھنا، ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے والدین کا ہر ایک حکم مانیں۔
قوم بنی اسرائیل کے احوال کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے قوم بنی اسرائیل پر بہت سے انعامات کر رکھے تھے مگر پھر بھی وہ زمین میں ناشکری اور فساد کے مرتکب ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی سختیوں کو مسلط کر دیا۔ اس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ یہ مصیبتیں ان کے اپنے اعمال کی نحوست کی وجہ ہیں۔
معاشرتی زندگی کے متعلق نصیحتیں
قریبی رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق دینے کا حکم ہے، یتیم کے مال کی حفاظت، ناپ تول اور وعدہ کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اچھی بات کو احسن طریقے سے کرنے کا حکم، مال کے خرچ کرنے میں اعتدال کا حکم، اسراف سے ممانعت کیونکہ اس کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے، بغیر علم کے بحث و مباحثہ سے نفرت دلائی گئی ہے، زمین پر اکڑ کر چلنے سے منع کیا گیا ہے اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ سب اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں۔
قرآن مجید کا تذکرہ
اس سورت میں قرآن مجید فرقان حمید کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اس وجہ سے نازل کیا گیا تاکہ اس کے سمجھنے میں آسانی ہو، یہ قرآن ہدایت بھی دیتا ہے اور مؤمنین کو خوشخبری بھی دیتا ہے، یہ کتاب نصیحت ہے۔
تلاوتِ قرآن پر مؤمنین کا جذبہ
جب اہل ایمان اس کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کے ایمان اور بھی بڑھ جاتے ہیں، ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف زیادہ ہو جاتا ہے، وہ سجدے میں گر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔
تلاوت قرآن پر مشرکین کا ردعمل
جب مشرکین قرآن سنتے ہیں تو ان کی نفرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب آپ تلاوت کرتے ہیں تو یہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ایمان لانے کی بجائے یہ حیل و حجت سے کام لیتے ہیں اور ایمان نہ لانے کے بہانے بناتے ہوئے مختلف شرطیں رکھتے ہیں۔
وضاحتِ الی اللہ
اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
انسان کے منفی رویوں کی اصلاح
انسان کے مختلف منفی رویوں مثلاً تنگ دلی، جلد بازی، ناشکری اور مایوسی جیسے منفی رویوں کی اصلاح کی تعلیم دی گئی ہے۔
وحدانیت الی اللہ اور اسماء الحسنیٰ کا ذکر
اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں وہ اکیلا پروردگار ہے۔ وہ تمام مخلوقات کا تن و تنہا مالک و خالق ہے۔ اس کی بادشاہی میں کوئی بھی کسی لحاظ سے شریک نہیں ہے۔ اس کے اچھے اچھے نام ہیں تم جس نام سے بھی پکارو سبھی نام اسی ذات کل کے ہیں۔

ذخیرہ الفاظ

اَعْلَمُخوب جانتا ہے
مَغْلُوْلَةًبندھا ہوا
اَوْ كِلٰهُمَاوہ دونوں ہی
مَحْسُوْرًاتھکا ماندہ ہوا
مَرَحًااکڑتے ہوئے
لَا تَنْهَرْهُمَاانھیں مت جھڑکنا
مَنْصُوْرًامدد دیا ہوا
اِخْفِضْتو جھکائے رکھ
الْفُؤَادَدل
الْكِبَرَبڑھاپا
ابْنِ السَّبِیْلِمسافر
الْقِسْطَاسِترازو
صَغِیْرًابچپن میں
اَشُدَّهٗاپنی جوانی کو
یَدَكَتیرا ہاتھ
لَا تُبَذِّرْفضول خرچی مت کرنا
السَّمْعَکان
مَیْسُوْرًاآسان
الْبَصَرَآنکھیں
اِیَّاكُمْتمھیں بھی
رَبَّیٰنِیْانھوں نے میری پرورش کی

آیات و ترجمہ

آیت 23
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)
اور آپ کے رب نے حکم فرمایا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تمھارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تو انھیں اف تک نہ کہنا اور نہ ہی انہیں جھڑکنا اور ان سے ادب سے بات کرنا۔
آیت 24
وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
اور شفقت کرتے ہوئے ان کے سامنے عاجزی سے جھکے رہو، اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انھوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا۔
آیت 25
رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْؕ-اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا(۲۵)
تمھارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے اگر تم نیک ہو جاؤ تو بے شک وہ رجوع کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے۔
آیت 26
وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶)
اور رشتہ دار کو اس کا حق ادا کرو اور مسکین اور مسافر کا حق بھی اور فضول خرچی نہ کرو۔
آیت 27
اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)
بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔
آیت 28
وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا(۲۸)
اور اگر تمھیں منھ پھیرنا پڑے ان سے اپنے رب کی رحمت کے انتظار میں جس کی تمھیں امید ہے تو ان سے نرمی کی بات کہہ دیا کرو۔
آیت 29
وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹)
اور اپنا ہاتھ نہ اپنی گردن سے باندھا ہوا رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھول دو ورنہ ملامت زدہ تھکے ہارے رہ جاؤ گے۔
آیت 30
اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًاۢ بَصِیْرًا۠(۳۰)
بے شک تمھارا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے نپا تلا کر دیتا ہے بے شک وہ اپنے بندوں سے بہت باخبر خوب دیکھنے والا ہے۔
آیت 31
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْؕ-اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا(۳۱)
اور اپنی اولاد کو تنگ دستی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم انھیں رزق عطا فرماتے ہیں اور تمھیں بھی بے شک ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے۔
آیت 32
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)
اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ وہ ایک کھلی بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔
آیت 33
وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِؕ-اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا(۳۳)
اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور جسے ظلم سے قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے تو چاہیے کہ قتل میں حد سے آگے نہ بڑھے بے شک اس کی مدد کی گئی ہے۔
آیت 34
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّه۪ٗ-وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا(۳۴)
اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو بے شک تم سے اس عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
آیت 35
وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا(۳۵)
اور ناپ کو پورا کرو جب بھی ناپو اور سیدھی ترازو کے ساتھ وزن کرو یہ طریقہ بہتر ہے اور اس کا انجام بھی بہت اچھا ہے۔
آیت 36
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا(۳۶)
اور ایسی چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کا تم کو علم نہیں بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
آیت 37
وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًاۚ-اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷)
اور زمین میں اکڑ کر مت چلو بے شک نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو۔
آیت 38
كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸)
ان سب باتوں کا برا پہلو تمھارے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
آیت 39
ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِؕ-وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا(۳۹)
یہ حکمت ان باتوں میں سے ہیں جو آپ کے رب نے آپ پر وحی فرمائی ہیں اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ ورنہ تو ملامت کیا ہوا دھتکارا ہوا جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
آیت 40
اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ اِنَاثًاؕ-اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠(۴۰)
کیا تمھارے رب نے تمھیں بیٹوں کے لیے چن لیا ہے اور اپنے لیے اس نے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے؟ یقیناً تم ضرور بڑی بات کہہ رہے ہو۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورت بنی اسرائیل کا دوسرا نام ہے:
سفر اسراء سے مراد ہے:
واقعہ معراج کا ذکر ہے:
لفظ اف کہنے سے منع کیا گیا ہے:
اسراء کا معنی ہے:

مختصر سوالات

سورت بنی اسرائیل کی روشنی میں والدین کے ساتھ کیسے آنا پیش چاہیے؟˅
حق سے بڑھ کر ان کی خدمت کرنا۔ ان کے ساتھ کلمہ اف یا کوئی ایسی بات بھی نہ کرنا جس سے انہیں تکلیف ہو۔ نام سے پکارنے کی ممانعت، عزت والے کلمہ سے پکارنے کا حکم، والدین کے آگے نہ چلنا، کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرنا، ان کے بیٹھنے کی جگہ پر نہ بیٹھنا، جب وہ کھڑے ہوں تو کھڑے ہو جانا، غصہ کی نہیں بلکہ پیار کی نگاہ سے دیکھنا کیونکہ اس سے اللہ راضی ہوتا ہے۔ والدین کے قرابت داروں سے حسن سلوک سے پیش آنا، ان کے وصال کے بعد ان کی دعائے مغفرت کرنا، ان کے دوستوں اور چاہنے والوں کا خیال رکھنا، ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے والدین کا ہر ایک حکم مانیں۔
سورت بنی اسرائیل کی فضیلت میں ایک حدیث کا ترجمہ لکھیں؟˅
ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ "نبی کریم جب تک سورت بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے"۔
واقعہ معراج کے بارے میں مختصر بیان کریں؟˅
سورت بنی اسرائیل کا آغاز نبی کریم کے عظیم معجزہ معراج سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کے انتہائی قلیل وقت میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ، سدرۃ المنتہیٰ سے لامکاں کی سیر کروائی۔ معراج کا معنی "بلندی" اور اسراء کا معنی "سیر" ہے۔ سفر معراج میں نبی کریم کی مختلف انبیائے کرامؑ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے انبیائے کرامؑ کی امامت کرائی، جنت و جہنم اور عرش کرسی کو دیکھا اور آپ کو اچھے اور برے لوگوں کے انجام سے آگاہ کیا گیا۔
قرآن مجید کی کوئی سی دو صفات بیان کریں؟˅
اس سورت میں قرآن مجید فرقان حمید کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اس وجہ سے نازل کیا گیا تاکہ اس کے سمجھنے میں آسانی ہو، یہ قرآن ہدایت بھی دیتا ہے اور مؤمنین کو خوشخبری بھی دیتا ہے، یہ کتاب نصیحت ہے۔
سورت بنی اسرائیل میں بیان کئے گئے کوئی سے دو شرعی احکام بیان کریں؟˅
قریبی رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کو ان کے حقوق دینے کا حکم ہے، یتیم کے مال کی حفاظت، ناپ تول اور وعدہ کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اچھی بات کو احسن طریقے سے کرنے کا حکم، مال کے خرچ کرنے میں اعتدال کا حکم، اسراف سے ممانعت کیونکہ اس کو شیطانی عمل قرار دیا گیا ہے، بغیر علم کے بحث و مباحثہ سے نفرت دلائی گئی ہے، زمین پر اکڑ کر چلنے سے منع کیا گیا ہے اس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ سب اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ ہیں۔

دعائیں

رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)
اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے بچپن (چھوٹی عمر) میں پالا
والدین کیلئے رحمت کی دعا
رَبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا(۸۰)
اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا (ف۱۷۵) اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے۔
آغاز اور انجام کے خیر ہونے اور نصرت الٰہی کی دعا