اہم مضامین
جانوروں کی تخلیق کا فائدہ
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ جانوروں کو انسانوں کے فائدے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے انسان ان سے مختلف فائدے حاصل کرتے ہیں جیسا کہ گوشت، چمڑا، دودھ، اور بوجھ اٹھانے والے جانوروں کا بیان ہے۔
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں
جانوروں کی تخلیق، بارش کا برسانا، درختوں کا اگنا، پھلوں کا لگنا، سمندروں میں مچھلیاں اور ان سے گوشت کا حصول، زمین پر پہاڑوں کا جمانا، زمین پر نہروں اور راستوں کا بننا، ستاروں کی تخلیق، پرندوں کا اڑنا، پانی پر کشتیوں کا تیرنا، سب رب تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔
انسانی رشتے
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مختلف رشتے بنائے ہیں جیسا کہ میاں بیوی، بیٹے، اور پوتے کہ انسان ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کرتے ہوئے اس کو بانٹ سکے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا عالیشان مظہر ہے۔
مذکور انسانی اعضاء
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ایک دوسرے کے دکھ درد کو محسوس کرنے کے لیے انسان کو مختلف جسمانی اعضاء عطا کیے مثلاً کان، آنکھ اور دل کا عطا فرمانا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں۔
انسانی زندگی کے تخلیقی مدارج
انسان کی پیدائش، پیدائش سے بڑھاپا، بڑھاپے سے موت کا ذکر فرمایا ہے۔
معاشی حالت
ایک انسان کی دوسرے انسان سے مختلف معاشی حالت کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کو بتایا گیا ہے۔
ذکر قیامت
سورت النحل کا آغاز قیامت کے ذکر سے ہوتا ہے۔ قیامت کا آنا یقینی بات ہے۔ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کو منکر اور متکبر کہا گیا ہے۔
شرک کی مذمت
اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہ ہے فرشتے اللہ تعالیٰ کی نورانی مخلوق ہیں نہ کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی ذمہ داریاں سونپ رکھی ہیں۔
سابقہ انبیاءؑ کا تذکرہ
نبی کریم کے سامنے سابقہ انبیاء کرامؑ کا بطور نمونہ ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کیے گئے تھے اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا۔
طاغوت
ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی یاد سے انسان کو غافل کر دے وہ طاغوت ہے۔ جس سے تمام نبیوں نے منع فرمایا ہے۔
نبی کو تسلی دینا
نبی کریم کو تسلی دی گئی کہ یہ لوگ ایمان لائیں یا نہ لائیں آپ کا کام راستہ دکھانا ہے ہدایت دینا نہ دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
قرآن مجید کا ذکر
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔ اس سورت میں قرآن کو "ذکر" سے تعبیر کیا گیا ہے۔
دو گروہوں کا تذکرہ
دنیا و آخرت کے لحاظ سے انسانوں کے دو گروہوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
منکرین آخرت
ایک گروہ منکرین آخرت کا ہے جو شرک کرتے ہیں، آخرت پر یقین نہیں رکھتے، حالانکہ آخرت پلک جھپکنے کی دیر میں برپا ہو جائے، قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے کی جگہ اس کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہتے ہیں، ناشکرے ہیں، ان کا انجام دنیا میں مختلف عذاب بھیج کر ہلاک کر دیا جائے گا، منکرینِ حق کا انجام بد ذکر کرنے کے بعد ان کا اخروی عذاب بیان کیا گیا ہے، جب ان کی روح قبض ہونے کا وقت آئے گا تو اس لمحے بھی وہ ظلم کر رہے ہوں گے اور انھیں اس کا ادراک بھی نہیں ہو گا، قیامت کے دن ان کی نافرمانیوں پر گواہ لائے جائیں گے، انھیں خود بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اہل ایمان
دوسرا گروہ اہل ایمان کا ہے جو تقویٰ و پرہیزگاری کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کا مقام جنت ہے جو رہنے کی سب سے بہترین جگہ ہے جس میں باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
عدل و احسان کا حکم
سورت کے آخر میں عدل و احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ عدل کا معنی ہے "جس کا جتنا حق ہے اس کو اتنا دیا جائے" اور احسان "حق سے بڑھ کر ادا کرنا" ہے۔
ممانعتِ بت پرستی
بت پرستی کو ایک مثال سے بتایا گیا ہے کہ لکڑی اور پتھر سے بنے ہوئے بت اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جن کو تم نے اپنا خالق بنایا ہوا ہے، خالق و مخلوق برابر نہیں ہو سکتے۔ ویسے ہی جیسے غلام اور آقا برابر نہیں ہو سکتے۔
قدرت الی اللہ
اللہ تعالیٰ ایسا خالقِ کل ہے کہ وہ چیزوں کو نہ ہونے سے ہونے کی حالت میں لاتا ہے یعنی کہ عدم سے وجود بخشتا ہے۔
نبی کریم کی فضیلت
قیامت کے دن ہر ایک امت میں سے ایک گروہ بنایا جائے گا اور نبی کو ان تمام پر گواہ بنایا جائے گا۔
عظمت قرآن
نزول قرآن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ قرآن پاک میں ہر ایک چیز کا واضح بیان ہے اور قرآن مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت اور خوش خبری ہے۔
معاشرت کے احکام
مسلمانوں کو عدل و احسان اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بے حیائی، برائی اور ظلم و سرکشی سے منع فرمایا گیا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کا تذکرہ
سورت میں حضرت ابراہیمؑ کا اسوہ حسنہ اور ان کی صفات کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور یک سو تھے اور شرک نہیں کرتے تھے۔
شکر ادا کرنے والوں کی صفات
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے والوں کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے نبی کو حضرت ابراہیمؑ کے اسوہ حسنہ کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے
دعوت الی اللہ کے اصول
نبی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیں اور اگر بحث کی ضرورت پیش آئے تو ایسے طریقے سے بحث کی جائے جو بہترین ہو۔