اس سورت کا نام سورۃ الْحِجْر ہے۔
اس سورت کا پارہ نمبر 13 ہے۔
سورۃ الْحِجْر قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 15 نمبر کی سورت ہے۔
اس سورت کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔
اس سورت میں (99) ننانوے آیات ہیں۔
اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔
اس سورت کی آیت نمبر 80 میں أَصْحَابُ الْحِجْرِ کا تذکرہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورت حجر ہے۔
حجر ایک ایسا مکان ہے جس کے گرد احاطہ اور چار دیواری بنی ہو، اس کو عربی میں حجر کہا جاتا ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان دو پہاڑوں کے وسط میں موجود علاقے کو وادی حجر کہا جاتا تھا۔ اس جگہ پر قوم ثمود آباد تھی، جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحؑ کو نبی بنا کر بھیجا، اسی قوم کو "اصحاب الحجر" یعنی حجر کی بستی کہا جاتا ہے۔
ایک شخص رسول ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: "اللہ تعالیٰ رسول ﷺ مجھے قرآن پاک پڑھا دیں! آپ ﷺ نے فرمایا ان تین سورتوں کو پڑھ لو جن کے شروع میں الر آتا ہے۔
اس سورت کا مرکزی موضوع “قدرت الٰہی کی نشانیاں قرآن مجید اور صاحب قرآن کی حقانیت کا بیان” ہے۔