اہم مضامین
اہل مکہ کے عقائد باطل کا رد
اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ کے اعمال کو اجاگر کر کے مشرکین کے باطل عقائد کو رد کیا گیا ہے اور اسلامی عقائد کی وضاحت کی گئی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی دعاؤں کا بیان
اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ کی متعدد دعاؤں کی قبولیت کے بعد اللہ تعالیٰ کے شکر ادا کرنے کا تذکرہ ہے۔
قرآن مجید کا نزول
اس سورت میں قرآن مجید کے نازل ہونے کا ذکر ہے۔ قرآن کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
مقصد نزول قرآن
اس قرآن کا مقصد صرف انسانوں کو کفر و شرک سے نکال کر توحید و رسالت کے نور اور روشنی میں لانا ہے۔
انبیاء کرامؑ کا اسلوب دعوت
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ بتایا ہے کہ جس طرف نبی مبعوث کیا جاتا تھا وہ ان پر ان ہی کی زبان میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی وضاحت کرتا تھا۔
سابقہ امتوں کا عروج و زوال
اس سورت میں سابقہ امتوں کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ اس میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت نوحؑ اور ان کی اقوام اور قوم عاد و ثمود کا تذکرہ ہے۔
سابقہ انبیاء کرامؑ کے رویہ کا ذکر
تمام انبیاء کرامؑ نے اپنی اقوام کو توحید و رسالت، توبہ کرنے اور توکل کی دعوت دی مگر انہوں نے انہیں اپنے جیسا انسان کہہ کر ٹھکرا دیا اور شہر سے نکالنے کی دھمکیاں دیں۔
منکرین دعوت کو وعید
اس سورت میں انبیائے کرامؑ کو نہ ماننے پر جہنم کی آگ خصوصاً "مآء صدید" کا ابلتا ہوا پانی پلانے کی وعید سنائی گئی ہے جو ان کے حلق سے مشکل سے گزرے گا اور وہ موت کی کیفیت طاری ہونے کے باوجود مر نہ پائیں گے۔
مشرکین کے اعمال کی حقیقت
اس سورت میں مشرکین کے اعمال کی حقیقت کے حوالے سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہ لانے سے اور رسول اللہ کی اتباع نہ کرنے سے ضائع ہو جائیں گے اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کہ راکھ جس کو تیز آندھی اڑا لے جائے گی۔
شیطان کی دشمنی کی حقیقت
اس سورت میں شیطان کی دشمنی کی حقیقت سے واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شیطان قیامت کے دن کہے گا کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سچے ہیں اور میرے وعدے جھوٹے ہیں میں نے تمہیں بہلانے اور پھسلانے کی کوشش کی تمہیں اپنی طرف آنے کی دعوت دی اور تم نے فوراً قبول کر لی اب مجھے ملامت مت کرو نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو اور نہ میں تمہاری، میں تم سے بری الذمہ ہوں۔
ایمان و کفر کی دو مثالوں سے وضاحت
کلمہ طیبہ "توحید و رسالت کے اقرار کی مثال اچھے درخت سے دی گئی ہے جو پھلتا پھولتا ہے"۔ کلمہ خبیثہ "حق کے انکار کی مثال بے کار جڑی بوٹیوں کی سی ہے جسے اکھاڑ کے پھینک دیا جائے گا"۔
قول ثابت
اس سورت میں اہل ایمان کو قول ثابت کے ساتھ ساتھ ثابت قدم رکھنے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ قول ثابت سے مراد "کلمہ طیبہ" ہے، جیسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا "مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی مطلب ہے۔
قدرت کاملہ کے دلائل
اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ جس نے زمین و آسمان پیدا کیے، آسمان سے پانی برسایا۔ طرح طرح کے پھل پیدا کیے، کشتیوں کو پانی پر چلنے کے لیے مسخر کیا اور سورج و چاند اور دن و رات کو مسخر کیا، تمہاری دعاؤں کو سننے والا ہے۔
کافر و ظالم
نعمتوں کی ناقدری کرنے والے انسان کو ظالم یعنی بے انصاف، کافر اور ناشکرا کہا گیا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی دعاؤں کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت ابراہیمؑ کی دعاؤں کا جامع تذکرہ ہے جسے ہر مسلمان اپنی تمام نمازوں میں مانگتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی دعائیں
اے میرے رب! مجھے نماز ادا کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور سب ایمان والوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہو گا۔ اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا اور مجھے اور میری اولاد کو دور رکھیے اس سے کہ ہم بتوں کی پوجا کریں۔
قیامت کے دن مجرمین کی حالت کا بیان
اس سورت کے آخر میں قیامت کے دن مجرمین کی حالت بیان کی گئی ہے۔ جب قیامت کے دن کا ہولناک منظر دیکھیں گے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔ وہ اپنے کیے پر پچھتا رہے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ سے گزارش کر رہے ہوں گے کہ ہمیں ایک بار پھر دنیا میں بھیجا جائے۔ اب ہم دنیا میں اچھے اعمال کریں گے مگر جواب میں ان کو دنیا کی زندگی یاد دلائی جائے گی اور کہا جائے گا کہ تم حق کو جانتے تھے پھر بھی تم نے اس کا انکار کیا اور تکبر کیا۔