اس سورت کا نام سورۃ یونس ہے۔
اس سورت کا پارہ نمبر 11 ہے۔
سورۃ یونس قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 10 نمبر کی سورت ہے۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔
اس سورت میں (109) ایک سو نو آیات ہیں۔
اس سورت میں (11) گیارہ رکوع ہیں۔
اس سورت کا نام آیت نمبر اٹھانوے میں حضرت یونسؑ کا نام سے مذکور ہے۔
اس سورت کی ابتداء حروف مقطعات میں سے الر سے ہوتی ہے۔ حروف مقطعات ایسے حروف جن کے معانی اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں۔
ایک شخص حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا "اللہ کے رسول مجھے قرآن پڑھا دیں! آپ نے فرمایا ان تین سورتوں کو پڑھ لو جن کے شروع میں الر ہے اس نے جواب دیا میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ میرا دل سخت اور زبان موٹی ہو گئی ہے۔ آپ نے کہا پھر حم والی تین سورتیں پڑھ لو اس نے دوبارہ وہی جواب دیا آپ نے فرمایا پھر مسبحات والی تین سورتیں پڑھ لو اس نے پھر وہی کہا اور عرض کی کہ مجھے ایک جامع سورت سکھا دیں رسول نے ان کو سورت الزلزال سکھائی جب آپ نے سکھا دی تو اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا، میں کبھی اس سے زیادہ نہیں کروں گا جب وہ آدمی واپس گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ ضعیف کامیاب ہو گیا"۔ **الر والی تین سورتیں:** سورۃ یونس، سورۃ ہود، سورۃ یوسف **حم والی تین سورتیں:** سورۃ الغافر، سورۃ فصلت، سورۃ الشوریٰ
اس سورت کا مرکزی موضوع “عقیدہ توحید، رسالت، قیامت کا دلائل کے ساتھ اثبات اور مشرکین کے عقائد باطلہ کی تردید” ہے۔