اہم مضامین
قرآن مجید کی عظمت
اس سورت کی ابتداء میں قرآن کی عظمت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اس کتاب کی آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلائل سے بھرپور ہیں اور تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی صفات
سورت کے آغاز میں نبی کریم کی دو صفات بشیر اور نذیر بیان ہوئی ہیں۔ بشیر سے مراد "خوش خبری سنانے والا" اور نذیر سے مراد "ڈرانے والا"
اہل مکہ کو ایمان لانے کی ترغیب
اس سورت میں سابقہ انبیاء کرام ؑ میں سے حضرت نوحؑ، حضرت ھودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت لوطؑ، حضرت شعیبؑ کا ذکر کر کے اہل مکہ کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
دعوت انبیائے کرامؑ کے مشترکہ نکات
انبیائے کرام ؑ کے تذکرے میں دعوت انبیائے کرام ؑ یعنی توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔
آپ ﷺ کے سامنے انبیاء کرامؑ کا ذکر کرنے کی وجہ
آپ ﷺ کے سامنے انبیاء کرام ؑ کا ذکر کرنے کی وجہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔
طوفان نوحؑ کا ذکر
اس سورت میں حضرت نوحؑ کی کشتی کا تذکرہ ہے جس کو دیکھ کر آپؑ کی قوم نے مذاق اڑایا لیکن جب طوفان آیا تو تنور بھی ابل پڑے۔
مومن اور کافروں کی مثال
اس سورت میں حق کو نہ ماننے والوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے اندھا اور بہرا ہو اور حق کو ماننے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے دیکھنے اور سننے والا۔
قوم عاد کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت ھودؑ اور ان کی قوم (عاد) کا ذکر ہے۔ حضرت ھودؑ نے قوم کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور توبہ کرنے کا حکم دیا جس کے بدلے میں نعمتوں کے نزول اور رزق میں اضافے کی خوش خبری سنائی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم دی۔ قوم نے حضرت ھودؑ کی نافرمانی کی اور عذاب الٰہی کا شکار ہوئی۔
قوم ثمود کا تذکرہ
حضرت صالحؑ نے قوم ثمود کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ حضرت صالحؑ نے پہاڑ سے اونٹنی کے برآمد ہونے کا مطالبہ کیا، لیکن یہ قوم مطالبہ پورا ہونے پر مکر گئی اور ایک سخت چنگھاڑ سے ہلاک کر دی گئی۔
قوم لوط کا تذکرہ
اس سورت میں قوم لوط کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ ان کی نافرمانی پر ان کی پوری بستی کو الٹ دیا گیا اور پتھروں کی بارش ہوئی جس سے قوم تباہ و برباد ہو گئی۔
حضرت شعیبؑ کی قوم کا تذکرہ
حضرت شعیبؑ کی قوم ناپ تول میں کمی کرتی تھی، حضرت شعیبؑ نے ان کو اس سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے عذاب سے ڈرایا گیا مگر اس کے باوجود انھوں نے آپؑ کو پتھر مار کر شہید کرنے کی دھمکی دی اور آخر کار ان کو ان کی سرکشی کی وجہ سے برباد کر دیا گیا۔
حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف بھیجا گیا لیکن نافرمانی کرنے پر فرعون کو اس کے لشکر کے سمیت سمندر میں ڈبو دیا گیا۔
کفار کو تنبیہ
اس سورت میں اہل مکہ کو تمام واقعات بتا کر ان پر غور کرنے اور عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کفار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ عذاب کے آنے میں جو تاخیر ہو رہی ہے یہ دراصل ایک مہلت ہے جو اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے نواز رہا ہے۔ رحمت صرف اس کے حصے میں آتی ہے جو راہ راست پر آگیا۔
نبی کریم کو مشکلات پر صبر کرنے کی تلقین
سورت ھود کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو مشکلات پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ استقامت سے تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں، اللہ کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسا رکھیں۔