دہم جماعت کے لیے

سورۃ هُود

پارہ 11 آیات 123 رکوع 10 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ هُود ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 11 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ هُود قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 11 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

سورت ھود مکی سورت ہے۔

آیات بینات

اس سورت میں (123) ایک سو تئیس آیات ہیں۔

رکوعات

اس سورت میں (10) دس رکوع ہیں۔

وجہ تسمیہ

اس سورت کی آیت نمبر 50 میں اللہ کے نبی حضرت ھودؑ کا ذکر ہے جو قوم عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام ھود رکھا گیا ہے۔

سورت کا آغاز

اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے الر سے ہوتا ہے۔

فضیلت

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا "آپ ﷺ تو بوڑھے ہو چلے، آپ ﷺ نے فرمایا مجھے سُوْرَةُ هُود، سُوْرَةُ الْوَاقِعَةِ، سُوْرَةُ الْمُرْسَلَاتِ، سُوْرَةُ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ اور سُوْرَةُ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ نے بوڑھا کر دیا ہے"۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ کے پاس آیا اور عرض کیا "اللہ کے رسول مجھے قرآن پڑھا دیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ان تین سورتوں کو پڑھ لیا کرو جن کا آغاز الر سے ہوتا ہے۔ **الر والی پہلی تین سورتیں:** سورۃ یونس، سورۃ ہود، سورۃ یوسف

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “عقائد اسلام کا بیان ہے تاریخی حقائق اور عقلی اصولوں سے واضح کیا گیا ہے”۔

اہم مضامین

قرآن مجید کی عظمت
اس سورت کی ابتداء میں قرآن کی عظمت و فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اس کتاب کی آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلائل سے بھرپور ہیں اور تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی صفات
سورت کے آغاز میں نبی کریم کی دو صفات بشیر اور نذیر بیان ہوئی ہیں۔ بشیر سے مراد "خوش خبری سنانے والا" اور نذیر سے مراد "ڈرانے والا"
اہل مکہ کو ایمان لانے کی ترغیب
اس سورت میں سابقہ انبیاء کرام ؑ میں سے حضرت نوحؑ، حضرت ھودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت لوطؑ، حضرت شعیبؑ کا ذکر کر کے اہل مکہ کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
دعوت انبیائے کرامؑ کے مشترکہ نکات
انبیائے کرام ؑ کے تذکرے میں دعوت انبیائے کرام ؑ یعنی توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان لانے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔
آپ ﷺ کے سامنے انبیاء کرامؑ کا ذکر کرنے کی وجہ
آپ ﷺ کے سامنے انبیاء کرام ؑ کا ذکر کرنے کی وجہ آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے۔
طوفان نوحؑ کا ذکر
اس سورت میں حضرت نوحؑ کی کشتی کا تذکرہ ہے جس کو دیکھ کر آپؑ کی قوم نے مذاق اڑایا لیکن جب طوفان آیا تو تنور بھی ابل پڑے۔
مومن اور کافروں کی مثال
اس سورت میں حق کو نہ ماننے والوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے اندھا اور بہرا ہو اور حق کو ماننے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے دیکھنے اور سننے والا۔
قوم عاد کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت ھودؑ اور ان کی قوم (عاد) کا ذکر ہے۔ حضرت ھودؑ نے قوم کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور توبہ کرنے کا حکم دیا جس کے بدلے میں نعمتوں کے نزول اور رزق میں اضافے کی خوش خبری سنائی اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم دی۔ قوم نے حضرت ھودؑ کی نافرمانی کی اور عذاب الٰہی کا شکار ہوئی۔
قوم ثمود کا تذکرہ
حضرت صالحؑ نے قوم ثمود کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ حضرت صالحؑ نے پہاڑ سے اونٹنی کے برآمد ہونے کا مطالبہ کیا، لیکن یہ قوم مطالبہ پورا ہونے پر مکر گئی اور ایک سخت چنگھاڑ سے ہلاک کر دی گئی۔
قوم لوط کا تذکرہ
اس سورت میں قوم لوط کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ ان کی نافرمانی پر ان کی پوری بستی کو الٹ دیا گیا اور پتھروں کی بارش ہوئی جس سے قوم تباہ و برباد ہو گئی۔
حضرت شعیبؑ کی قوم کا تذکرہ
حضرت شعیبؑ کی قوم ناپ تول میں کمی کرتی تھی، حضرت شعیبؑ نے ان کو اس سے منع فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے عذاب سے ڈرایا گیا مگر اس کے باوجود انھوں نے آپؑ کو پتھر مار کر شہید کرنے کی دھمکی دی اور آخر کار ان کو ان کی سرکشی کی وجہ سے برباد کر دیا گیا۔
حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو فرعون کی طرف بھیجا گیا لیکن نافرمانی کرنے پر فرعون کو اس کے لشکر کے سمیت سمندر میں ڈبو دیا گیا۔
کفار کو تنبیہ
اس سورت میں اہل مکہ کو تمام واقعات بتا کر ان پر غور کرنے اور عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، کفار کو تنبیہ کی گئی ہے کہ عذاب کے آنے میں جو تاخیر ہو رہی ہے یہ دراصل ایک مہلت ہے جو اللہ تعالیٰ تم کو اپنے فضل سے نواز رہا ہے۔ رحمت صرف اس کے حصے میں آتی ہے جو راہ راست پر آگیا۔
نبی کریم کو مشکلات پر صبر کرنے کی تلقین
سورت ھود کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو مشکلات پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ استقامت سے تبلیغ دین کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں، اللہ کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسا رکھیں۔

کثیرالانتخابی سوالات

سورت ھود میں بتائی گئی نبی کریم ﷺ کی دو صفات ہیں
قوم ثمود پر نازل ہونے والا عذاب تھا
حضرت صالحؑ کی قوم کا نام تھا
حضرت نوحؑ نے اہل ایمان کو بچانے کے لیے کیا کیا؟
دو بیٹوں کی خوش خبری دی گئی ہے

مختصر سوالات

سورت ھود کی فضیلت میں ایک حدیث کا ترجمہ لکھیں؟˅
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا "آپ ﷺ تو بوڑھے ہو چلے، آپ ﷺ نے فرمایا مجھے سُوْرَةُ هُود، سُوْرَةُ الْوَاقِعَةِ، سُوْرَةُ الْمُرْسَلَاتِ، سُوْرَةُ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ اور سُوْرَةُ اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ نے بوڑھا کر دیا ہے۔"
سورت ھود کتنے رکوع اور آیات پر مشتمل ہے؟˅
اس سورت میں دس رکوع ہیں۔ اس سورت میں ایک سو تئیس آیات ہیں۔
سورت ھود میں بیان کیے گئے دو احکام بتائیں؟˅
اس سورت مبارکہ میں کئی احکامات کو بیان کیا گیا ہے جن میں سے دو یہ ہیں ایک نماز قائم کریں دوسرا صبر کریں
سورت ھود کا مرکزی موضوع بتائیں؟˅
اس سورت کا مرکزی موضوع "عقائد اسلام کا بیان ہے تاریخی حقائق، عقلی اصولوں سے واضح کیا گیا" ہے۔
سورت ھود میں مومن اور کافر کو کس مثال سے واضح کیا گیا ہے؟˅
اس سورت میں حق کو نہ ماننے والوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے اندھا اور بہرا اور حق کو ماننے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے دیکھنے اور سننے والا۔

حدیث نبوی ﷺ

مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْعُو بِدُعَاءٍ إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ، أَوْ كَفَّ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهُ
جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کر کے مانگتا ہے اللہ اسے یا تو اسکی مانگی ہوئی چیز دے دیتا ہے یا اس دعا کے نتیجے میں اس دعا کے مثل اس پر آئی ہوئی مصیبت دور کر دیتا ہے۔ (جامع ترمذی: 3381)