اس سورت کا نام سورۃ الأعراف ہے۔
اس سورت کا پارہ نمبر 08 ہے۔
سورۃ الأعراف قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 07 نمبر کی سورت ہے۔
یہ سورت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
اس سورت میں (206) دو سو چھ آیات ہیں۔
اس سورت میں (24) چوبیس رکوع ہیں۔
اس سورت کی آخری آیت، آیتِ سجدہ ہے۔
اس سورت کا نام اس کی آیت نمبر 46 میں لفظ الاعراف سے اخذ کیا گیا ہے۔ اعراف "جنت اور دوزخ کے درمیان ایک مقام ہے" جس پر ایسے لوگ ہوں گے جو اہل جنت اور اہل دوزخ کو ان کی علامات کی بناء پر پہچانتے ہوں گے"۔
حضرت محمد ﷺ بعض اوقات اپنی نمازوں میں اس سورت کی تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ "آپ نے مغرب کی نماز میں سورت الاعراف پڑھی تو اسے دو رکعتوں میں بانٹ دیا"۔
اس سورت کا مرکزی موضوع “عقیدہ توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، قرآن مجید کا منزل من اللہ (اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ) ہونا اور اللہ کی طرف سے حضرت محمد ﷺ کو حوصلہ اور تسلی دینا” ہے۔