دہم جماعت کے لیے

سورۃ الْكَهْف

پارہ 15 آیات 110 رکوع 12 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الْكَهْف ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 15 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الْكَهْف قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 18 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

سورۃ الکھف کا مقام نزول مکہ مکرمہ ہے۔

آیات بینات

سورۃ الکھف کی آیات بینات کی تعداد (110) ایک سو دس ہے۔

رکوعات

رکوعات کی تعداد (12) بارہ ہے۔

وجہ تسمیہ

اس سورت میں اصحاب کہف کا ذکر آیا ہے اور الکھف کا لفظ آیا ہے جس کے معنی "غار" کے ہیں اسی مناسبت سے اس سورت کو سورۃ الکھف کہا جاتا ہے۔

اہل مکہ کے نبی سے سوالات

اہل مکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ واصحابہ وسلم سے روح، ذوالقرنین اور اصحاب کہف کے بارے میں سوالات کیے۔

اہل مکہ کے سوالات کے جوابات

سورۃ الکھف میں ذوالقرنین اور اصحاب کہف کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے گئے اور روح سے متعلق سورۃ بنی اسرائیل میں جواب دیا گیا ہے۔

شان نزول

یہ سورت اس وقت نازل ہوئی جب اعلانیہ دعوت اسلام کا اعلان ہو چکا تھا اس ابتدائی زمانے میں کفار کے ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کو اصحاب کہف کا واقعہ سنا کر حوصلہ دیا گیا کہ دعوت اسلام کے عظیم کام میں ہر دور میں داعیانِ اسلام کو تکالیف اٹھانا پڑی ہیں۔

فضیلت

نبی ﷺ نے فرمایا "جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھے گا اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن کر دیا جائے گا۔ جس نے سورۃ الکھف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لیں اسے دجال کے فتنہ سے محفوظ کر لیا گیا"۔

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “انسان کو اس بات کا شعور دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر نعمت میں انسان کی آزمائش ہوتی ہے، اور آزمائش میں پورا اترنے والا ہی حقیقی معنوں میں بندہ مؤمن کہلاتا ہے”۔

اہم مضامین

نبی کریم کو تسلی
سورۃ الکہف کا پہلا رکوع مقدمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں نبی کریم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان مشرکین کی وجہ سے خود کو غم میں مبتلا نہ کریں۔
اصحاب کہف کا واقعہ
راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے اصحاب کہف کا واقعہ سنایا گیا ہے۔ یہ صاحب ایمان لوگ تھے۔ بادشاہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جان بچانے کے لیے انھوں نے ایک غار میں جا کر پناہ لی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری فرما دی۔ اس کے بعد ان کو اٹھایا گیا جو 309 سال کا عرصہ ایک غار میں سوئے رہے۔
دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل
اصحاب کہف کا واقعہ ان لوگوں کے لیے دلیل تھا جو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کر رہے تھے۔ اصحاب کہف کا ذکر کر کے ان کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھیں اور غافل لوگوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی اہمیت
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی اہمیت کو مثال دے کر واضح کیا گیا ہے۔ سورہ الکہف میں دنیا کی بے ثباتی اور عارضی ہونے کو مثال دے کر بیان کیا گیا ہے۔
حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ کا تذکرہ
سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰؑ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے حضرت خضرؑ کی ملاقات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے حضرت خضرؑ سے ملاقات کی، کچھ وقت ان کے ساتھ گزارا اور حضرت خضرؑ کے کچھ امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنا، بچے کو قتل کرنا اور دیوار مرمت کرنا دیکھے تو اپنی تشویش کا اظہار کیا جس پر حضرت خضرؑ نے تمام باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے توجیہ بیان فرما دی اور فرمایا کہ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے حکم کی تعمیل میں انجام دیے گئے ہیں۔
ذوالقرنین کا تذکرہ
سورۃ الکہف میں ذوالقرنین کا تذکرہ ہے ذوالقرنین کا معنیٰ ہے "دو کناروں والا" ہے۔ ذوالقرنین عدل کرنے والا اور اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا حکمران تھا۔
یاجوج ماجوج
ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کو زمین میں قتل و غارت کرنے اور فساد پھیلاتے ہوئے دیکھا تو انھیں پہاڑوں کے درمیان لوہے اور تانبے سے ایک مضبوط دیوار بنا کر قید کر دیا۔ قرب قیامت میں یہی یاجوج ماجوج آزاد ہوں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے۔ یہ فساد قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ (یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں)
دنیا خسارے کی جگہ
سورۃ الکہف کے آخر میں نبی کریم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو بتا دیں کہ سب سے زیادہ خسارے والا وہ ہے جو دنیا کے پیچھے پڑا، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملاقات یعنی آخرت کا منکر ہو گیا۔
ایمان والوں کو جزاء
جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان کے لیے جنت الفردوس کی نعمتیں ہوں گی جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

ذخیرہ الفاظ

عِوَجًاکمزوری
قَیِّمًابالکل سیدھی
لِّیُنْذِرَتاکہ وہ ڈرائے
یُبَشِّرَتاکہ وہ خوشخبری دے
عَلٰۤى اٰذَانِهِمْان کے کانوں پر
اَسَفًاافسوس کرتے ہوئے
لِنَبْلُوَهُمْتاکہ ہم انھیں آزمائیں
اَحْسَنُزیادہ اچھا
الرَّقِیْمِۙتختی، کتبے
اَحْصٰىصحیح شمار کر سکتا ہے
الْفِتْیَةُکچھ نوجوان
هَیِّئْآسان کر دے
اَصْحٰبِ الْكَهْفِغار والے
مَّاكِثِیْنَرہیں گے

آیات و ترجمہ

آیت 1
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا(۱)
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل کی اپنے بندہ پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کوئی کمزوری۔
آیت 2
قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ(۲)
بالکل سیدھی ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور مومنوں کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں بے شک ان کے لیے بہترین اجر ہے۔
آیت 3
مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ(۳)
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
آیت 4
وَ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا(۴)
اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔
آیت 5
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآىٕهِمْؕ-كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْؕ-اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا(۵)
نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا بہت بھاری بات ہے جو ان کے منھ سے نکلتی ہے وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
آیت 6
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا(۶)
تو شاید آپ ﷺ ان کے پیچھے اپنی جان دے دیں گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے اس پر افسوس کرتے ہوئے۔
آیت 7
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)
بے شک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے اس کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔
آیت 8
وَ اِنَّا لَجَاعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًا(۸)
اور جو کچھ اس پر ہے یقیناً ہم اسے صاف چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔
آیت 9
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِۙ-كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا(۹)
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ بے شک کہف اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب تھے۔
آیت 10
اِذْ اَوَی الْفِتْیَةُ اِلَی الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(۱۰)
جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاء فرما اور ہمارے لیے معاملے میں رہنمائی عطا فرما۔
آیت 11
فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا(۱۱)
تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا کئی سال تک۔
آیت 12
ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا(۱۲)
پھر ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ ہم ظاہر کر دیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون صحیح شمار کر سکتا ہے اس مدت کا جو وہ (غار) میں ٹھہرے تھے۔
آیت 110
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا(۱۱۰)
آپ ﷺ فرما دیں میں تو تمھارے ہی جیسا بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔

کثیرالانتخابی سوالات

اصحاب کہف نے غار میں پناہ لی:
کہف کا معنی ہے:
اصحاب غار میں سوئے رہے:
ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کو دو پہاڑوں کے درمیان قید کیا:
یاجوج ماجوج حضرت نوحؑ کے کس بیٹے کی اولاد ہیں:

مختصر سوالات

سورت الکہف کا مرکزی موضوع بیان کریں؟˅
اس سورت کا مرکزی موضوع "انسان کو اس بات کا شعور دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہر نعمت میں انسان کی آزمائش ہوتی ہے، اور آزمائش میں پورا اترنے والا ہی حقیقی معنوں میں بندہ مؤمن کہلاتا ہے"۔
ذوالقرنین کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟˅
سورۃ الکہف میں ذوالقرنین کا تذکرہ ہے ذوالقرنین کا معنیٰ ہے دو کناروں والا ہے۔ ذوالقرنین عدل کرنے والا اور اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا حکمران تھا۔ ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کو زمین میں قتل و غارت کرنے اور فساد پھیلاتے ہوئے دیکھا تو انھیں پہاڑوں کے درمیان لوہے اور تانبے سے ایک مضبوط دیوار بنا کر قید کر دیا۔ قرب قیامت میں یہی یاجوج ماجوج آزاد ہوں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے۔ یہ فساد قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ (یاجوج ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں)
حضرت خضر ؑ کے تین حکمت بھرے امور لکھیں؟˅
سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰؑ اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندے حضرت خضرؑ کی ملاقات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰؑ نے حضرت خضرؑ سے ملاقات کی، کچھ وقت ان کے ساتھ گزارا اور حضرت خضرؑ کے کچھ امور یعنی کشتی میں سوراخ کرنا، بچے کو قتل کرنا اور دیوار مرمت کرنا دیکھے تو اپنی تشویش کا اظہار کیا جس پر حضرت خضرؑ نے تمام باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے توجیہ بیان فرما دی اور فرمایا کہ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے حکم کی تعمیل میں انجام دیے گئے ہیں۔
سورت الکہف میں اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کا مقصد بیان کریں؟˅
اصحاب کہف کا واقعہ ان لوگوں کے لیے دلیل تھا جو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کر رہے تھے۔ اصحاب کہف کا ذکر کر کے ان کو یہ نصیحت کی گئی ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھیں اور غافل لوگوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔
یاجوج ماجوج سے کیا مراد ہے؟˅
یاجوج ماجوج حضرت نوح ؑ کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں کو تنگ کیا کرتے تھے اور ان پر ظلم و ستم ڈھایا کرتے تھے۔ ذوالقرنین بادشاہ نے انہیں لوہے اور تانبے کی دیوار بنا کر قید کر دیا تھا۔ قرب قیامت میں یہی یاجوج ماجوج آزاد ہوں گے جو ہر طرف تباہی پھیلائیں گے جو قیامت کی ایک نشانی ہے۔

دعائیں

رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(۱۰)
اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت دے اور ہمارے کام میں ہمارے لیے راہ یابی (راہ پانے) کے سامان کر
کاموں میں آسانی اور حصولِ رحمت کی دعا