آیات و ترجمہ
آیت 1
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا(۱)
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے نازل کی اپنے بندہ پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کوئی کمزوری۔
آیت 2
قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ(۲)
بالکل سیدھی ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور مومنوں کو خوشخبری دے جو نیک عمل کرتے ہیں بے شک ان کے لیے بہترین اجر ہے۔
آیت 3
مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ(۳)
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
آیت 4
وَ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا(۴)
اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔
آیت 5
مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآىٕهِمْؕ-كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْؕ-اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا(۵)
نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا بہت بھاری بات ہے جو ان کے منھ سے نکلتی ہے وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
آیت 6
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا(۶)
تو شاید آپ ﷺ ان کے پیچھے اپنی جان دے دیں گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لے آئے اس پر افسوس کرتے ہوئے۔
آیت 7
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)
بے شک جو کچھ زمین پر ہے ہم نے اسے اس کی زینت بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں سے عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔
آیت 8
وَ اِنَّا لَجَاعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًا(۸)
اور جو کچھ اس پر ہے یقیناً ہم اسے صاف چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔
آیت 9
اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِۙ-كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا(۹)
کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ بے شک کہف اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے کوئی عجیب تھے۔
آیت 10
اِذْ اَوَی الْفِتْیَةُ اِلَی الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا(۱۰)
جب ان نوجوانوں نے غار میں پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطاء فرما اور ہمارے لیے معاملے میں رہنمائی عطا فرما۔
آیت 11
فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا(۱۱)
تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر پردہ ڈال دیا کئی سال تک۔
آیت 12
ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰی لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا(۱۲)
پھر ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ ہم ظاہر کر دیں کہ ان دو گروہوں میں سے کون صحیح شمار کر سکتا ہے اس مدت کا جو وہ (غار) میں ٹھہرے تھے۔
آیت 110
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا(۱۱۰)
آپ ﷺ فرما دیں میں تو تمھارے ہی جیسا بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔