دہم جماعت کے لیے

سورۃ الرَّعْد

پارہ 13 آیات 43 رکوع 6 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الرَّعْد ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 13 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الرَّعْد قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 13 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

یہ سورت مکی سورت ہے۔

آیات بینات

اس سورت میں (43) تینتالیس آیات ہیں۔

رکوعات

اس سورت میں (06) چھ رکوعات ہیں۔

وجہ تسمیہ

سورت الرعد کا نام اس کی آیت نمبر تیرہ سے ماخوذ ہے۔ رعد سے مراد "بادلوں کی گرج" ہے، جو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے تسبیح کرتے ہیں۔

مرکزی خیال

اس سورت مبارکہ کا مرکزی موضوع “اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، کامل علم اور رسالت کے تقاضوں کا بیان” ہے۔

اہم مضامین

اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان
اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا۔ سورج اور چاند انسان کے لیے مسخر کر دیے۔ زمین کو بچھونا بنایا، اس کے اندر پہاڑوں اور نہروں کا حسین امتزاج رکھا۔ ہر چیز کا جوڑا جوڑا بنایا، ایک ہی زمین اور ایک ہی طرح کے پانی کے باوجود ہر درخت کا پھل، ذائقہ اور تاثیر جدا جدا بنائی۔
انسانوں کو نصیحت
انسانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اس کائنات میں غور و فکر کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔
اللہ تعالیٰ کے کامل علم کا بیان
اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے کامل علم کا بیان دیا گیا ہے۔ ہر چیز کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ وہ ہر باطن اور ظاہر کو جاننے والا ہے۔ تم کوئی بات چھپاؤ یا ظاہر کرو سب اس کے علم میں ہے۔
فرشتوں کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے آگے اور پیچھے پہرے دار مقرر کیے ہیں جو اللہ کے حکم سے انسانوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان فرشتوں کو مُعَقِّبَاتٌ کہا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا "فرشتے آگے اور پیچھے زمین پر آتے جاتے رہتے ہیں، کچھ فرشتے رات کے ہیں اور کچھ دن کے اور یہ سب فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہو جاتے ہیں۔
صاحب ایمان و بصیرت لوگوں کی صفات
1): یہ لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ 2): وعدہ پورا کرتے ہیں۔ 3): صلہ رحمی کرتے ہیں۔ 4): خوف الٰہی رکھتے ہیں۔ 5): آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ 6): صبر کرتے ہیں۔ 7): نماز قائم کرتے ہیں۔ 8): انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ 9): نیکی کی اتباع کرتے ہیں۔
اہل ایمان کے لیے انعام
اہل ایمان کے لیے آخرت کا دن سکون و راحت کا دن ہو گا۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہیں۔ ان کو جنت میں فرشتوں کی طرف سے سلامی پیش کی جائے گی۔ اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
ذکر کی فضیلت و اہمیت
اہل ایمان کے لیے اللہ کے ذکر کی اہمیت و فضیلت کا بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر میں دلوں کا سکون اور چین ہے۔
نبی کریم ﷺ کو تسلی
اس سورت کے آخری حصہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کو جھٹلایا گیا اور جھٹلانے والوں کا انجام بہت برا ہوا۔ اے نبی آپ سے پہلے بھی منافقین نے انبیاء کرامؑ کے ساتھ مکر و فریب کیا۔ آپ ﷺ واضح کر دیں کہ تمام تدابیر صرف اللہ کے پاس ہیں اور کفار عنقریب اپنے بُرے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ آپ ﷺ اعلان کر دیں کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، میں اسی کو پکارتا ہوں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ قرآن مجید کو ہم نے نازل کیا اور آپ ﷺ اس کی اتباع کریں۔
مشرکین کے اعتراضات کے جوابات
اس سورت میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے اور ان شبہات کو رفع کیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان لوگوں کے دلوں میں پائے جاتے تھے یا مخالفین کی طرف سے ڈالے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ شادیاں کرتے تھے اور صاحب اولاد تھے۔ یہ ساری باتیں علم الٰہی میں محفوظ ہیں اور لوحِ محفوظ پر جس چیز کو اللہ چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔

کثیرالانتخابی سوالات

مُعَقِّبَاتٌ کا معنی ہے
انفاق فی سبیل اللہ سے مراد خرچ کرنا ہے
منافقین نے ہر دور میں انبیاء کے ساتھ کیا
رعد سے کیا مراد ہے
سورت الرعد کے آغاز میں بیان ہے

مختصر سوالات

رعد سے کیا مراد ہے؟˅
رعد سے مراد "بادلوں کی گرج" ہے، جو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے تسبیح کرتے ہیں۔
سورت رعد کے کتنے رکوع اور آیات ہیں؟˅
اس سورت میں چھ رکوع اور تینتالیس آیات ہیں۔
سورت رعد کا مرکزی موضوع کیا ہے؟˅
اس سورت مبارکہ کا مرکزی موضوع "اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ، کامل علم اور رسالت کے تقاضوں کا بیان" ہے۔
اہل ایمان کی دو صفات بیان کریں؟˅
اہل ایمان کی دو صفات صبر کرتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔
اللہ نے نبی کریم کی زبان سے جو اعلان کروائے ان میں سے کوئی سے تین لکھیں؟˅
میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا، میں اسی کو پکارتا ہوں، مجھے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

دعائیں

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ(۱۰)
تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوں تو میرا بدلہ لے
بے بسی کے وقت کی دعا
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآىٕفًا یَّتَرَقَّبُ ﳑ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(۲۱)
تو اس شہر سے نکلا ڈرتا ہوا اس انتظار میں کہ اب کیا ہوتا ہے عرض کی اے میرے رب مجھے ستم گاروں سے بچا لے
ظالموں سے نجات کی دعا