نہم جماعت کے لیے

سورۃ الصّٰفّٰت

پارہ 23 آیات 182 رکوع 5 مکی

تعارف

مقام نزول: یہ مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (182) ایک سو بیاسی آیات ہیں۔

رکوعات کی تعداد: اس سورت میں (05) رکوع ہیں۔

سورة (صٰفّٰت) نام کا معنی: صافات کا معنی صف بستہ ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کا آغاز میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے مختلف اوصاف بیان فرمائے ہیں اس مناسبت سے اس سورت کا نام سورت الصّٰفّٰت ہے۔

زمانہ نزول: یہ سورت نبی کریمؐ کی مکی زندگی کے درمیانی حصہ میں نازل ہوئی۔

شانِ نزول: سورۃ الصّٰفّٰت بنیادی طور پر نبی ﷺ کی رسالت کی تصدیق اور مشرکین مکہ کی مخالفت کے جواب میں نازل ہوئی۔ اس وقت مکہ میں لوگ شرک و بت پرستی میں غرق تھے اور نبی ﷺ کی دعوت کو جھٹلا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے ذریعے مشرکین کی توہین و تکذیب، اور مومنین کی ہمت و حوصلے کو بڑھایا۔

مرکزی خیال

اس سورت کا خلاصہ ‘توحید، رسالت اور آخرت کا بیان اور مشرکین کے غلط عقائد کا رد’ ہے۔

اہم مضامین

عقیدہ بالملائکہ کا بیان
اس سورت میں مشرکین کے اس عقیدے کو غلط قرار دیا گیا ہے جس کی رو سے وہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت کا آغاز فرشتوں کے اوصاف سے کیا گیا ہے۔
آخرت کے احوال
اس سورت میں آخرت میں پیش آنے والے حالات کی منظر کشی کی گئی ہے۔ کفار کو کفر کے ہولناک انجام سے ڈرایا گیا ہے
کفار کو تنبیہ
کفار کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ان کی تمام تر مخالفت کے باوجود اس دنیا میں اسلام ہی غالب آئے گا۔
انبیاء کرامؑ کا تذکرہ
اس سورت میں حضرت نوحؑ، حضرت لوطؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت الیاسؑ اور حضرت یونسؑ کے واقعات مختصر انداز میں بیان کیے گئے ہیں، جبکہ حضرت ابراہیمؑ کا تذکرہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کا ذکر
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کا جو حکم دیا تھا اور انھوں نے قربانی کے جذبے سے اس حکم کی تعمیل کی تھی، اس کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کا بھی ذکر آیا ہے۔
جنات و فرشتوں کا مقام
اس سورت کے آخر میں جنات اور فرشتوں کے اصل مقام کا بیان ہے کہ وہ ہر دم اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مشغول ہیں۔
نبی کریمؐ کو تسلی
سورت کے آخر میں نبی مصطفیٰؐ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ کے دین کو ہی غلبہ حاصل ہو گا۔
عظمتِ الٰہی اللہ کا بیان
اس سورت کے اختتام میں اللہ کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ وہ قادرِ مطلق ذات ہے۔
اختتام
سورۃ الصّٰفّٰت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، وحدانیت اور عدل و انصاف کو واضح کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے گا، نیک اعمال کرنے والوں کے لیے جنت اور برے اعمال کرنے والوں کے لیے عذاب۔ سب کو شرک سے بچنے اور توکل علی اللہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

علمی و عملی نکات

فرشتوں کی فرمانبرداری
فرشتے اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی کرتے ہیں اور ہمیشہ اس کے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 1-3)
کفار کا انجام
کافر سردار اور ان کی پیروی کرنے والے قیامت کے دن آپس میں جھگڑیں گے اور اپنی گمراہی کا الزام ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 27-29)
برے لوگوں کی دوستی
برے لوگوں سے دوستیاں تباہی اور ہلاکت کا ذریعہ ہیں۔ اس لیے ہمیں برے لوگوں کی دوستی سے بچنا چاہیے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 50-57)
آخرت کا انکار
مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور حساب کتاب کا انکار کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم میں ہو گا۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 53-55)
اللہ کا بہترین بدلہ
اللہ تعالیٰ صاحب ایمان اور نیک بندوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 79-81)
جھوٹے معبودوں کی بے بسی
بت جھوٹے معبود اپنے آپ کو نقصان سے نہیں بچا سکتے تو مشرکین کو کیا بچائیں گے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 85-98)
اللہ کی راہ میں قربانی
ہمیں اپنے محبوب ترین چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں نثار کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 99-111)
اللہ کا ذکر
اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کے ذکر سے انسان کی پریشانیاں دور اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 141-145)
اللہ کی مدد
اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور فرمانبردار بندوں کو اکیلا نہیں چھوڑتا، ان کی ضرور مدد فرماتا ہے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 171-172)
انبیاء پر سلامتی
تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا وعدہ ہے۔ (سورۃ الصّٰفّٰت: 181)

کثیرالانتخابی سوالات

سورت الصّٰفّٰت کے شروع میں اوصاف بیان کیے گئے
حضرت اسماعیلؑ کے بھائی تھے
سورت الصّٰفّٰت میں تفصیلی تذکرہ ہے
مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے
کن لوگوں سے دوستیاں تباہی اور ہلاکت کا سبب ہیں

مختصر سوالات

سورت الصّٰفّٰت کو یہ کیوں دیا گیا؟˅
صٰفّٰت کا معنی "صف باندھے کھڑے ہونے والے فرشتے"۔ اس سورت کا آغاز اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے مختلف اوصاف بیان فرما کر کیا ہے اس وجہ سے اس سورت کا نام سورت الصّٰفّٰت ہے۔
سورت الصّٰفّٰت کا خلاصہ کیا ہے؟˅
اس سورت کا خلاصہ "توحید، رسالت اور آخرت کا بیان اور مشرکین کے غلط عقائد کا رد" ہے۔
سورت الصّٰفّٰت کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭برے لوگوں کی دوستیاں تباہی اور ہلاکت کا باعث ہیں۔ ٭ہمیں اپنی محبوب ترین چیزوں کو اللہ کی راہ میں جان نثار کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
سورت الصّٰفّٰت میں حضرت ابراہیمؑ کا ذکر کس طور پر آیا ہے؟˅
اس سورت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے کا جو حکم دیا تھا اور انھوں نے قربانی کے جذبے سے اس حکم کی تعمیل کی تھی، اس کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کا بھی ذکر آیا ہے۔