نہم جماعت کے لیے

سورۃ ص

پارہ 23 آیات 88 رکوع 5 مکی

تعارف

مقام نزول: یہ مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (88) اٹھاسی آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (05) پانچ رکوع ہیں۔

سورة (ص) نام کا معنی: ایک حرف

وجہ تسمیہ: اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے ص سے ہوتا ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت ص ہے۔

زمانہ نزول: اس سورت کا نزول نبیؐ کی مکہ معظمہ میں اعلانیہ دعوت کے آغاز میں ہوا۔

شانِ نزول: اس سورت کے نازل ہونے کا ایک خاص واقعہ ہے۔ "ایک مرتبہ قریش کے سردار حضرت محمد ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس ایک وفد کی شکل میں آئے اور کہا: اگر محمد ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو ہم انہیں ان کے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ چنانچہ جب حضرت محمد ﷺ کو مجلس میں بلا کر یہ تجویز سامنے رکھی گئی تو آپؐ نے اپنے چچا سے فرمایا؛ چچا جان کیا میں انھیں اس چیز کی دعوت نہ دوں جو ان کے لیے بہتر ہے؟ جس کے ذریعے پورا عرب ان کے سامنے جھک جائے گا اور یہ عجم کے مالک ہو جائیں گے۔ اس کے بعد آپ نے کلمہ توحید پڑھا یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے؛ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اختیار کر لیں؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ اس موقع پر سورت ص کی آیات نازل ہوئیں"۔

مرکزی خیال

اس سورت کا خلاصہ ‘عقیدہ رسالت کا بیان’ ہے۔

اہم مضامین

مشرکین کے اعتراضات کا جواب
اس سورت میں حضرت محمد ﷺ اور آپ کی دعوت پر مشرکین کے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
انبیاء کرامؑ کو جھٹلانے والوں کا انجام
اس سورت میں سابقہ انبیاء کرام کو جھٹلانے والی قوموں کا انجام بیان کیا گیا ہے۔
انبیاء کرامؑ کا تذکرہ
اس سورت کے اختتام تک مختلف انبیاء کرامؑ کا تذکرہ ہے، جن میں حضرت داؤدؑ، ان کے فرزند حضرت سلیمانؑ کے واقعات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
چشمہ شفا کا جاری ہونا
اس سورت میں حضرت ایوبؑ کے پاؤں مارنے سے چشمہ شفا جاری ہونے کا ذکر ہے۔
حضرت آدمؑ کا تذکرہ
اس سورت کے آخر میں حضرت آدمؑ کا ذکر ہے۔ ان کی بے ادبی کرنے کی وجہ سے شیطان لعنت کا حق دار بنا۔ وہ انسان کا ابدی دشمن ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے منتخب بندوں کے سامنے بے بس رہے گا۔
اختتام
سورۃ ص کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، قیامت، اور نیک و بدکار لوگوں کے انجام کی یاد دہانی ہے۔ نبی ﷺ کو ہدایت دی گئی کہ وہ صبر اور استقامت سے دین پہنچائیں، کیونکہ ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پائے گا۔ یہ اختتام توحید، صبر اور آخرت کی تیاری کی تلقین کرتا ہے۔

علمی و عملی نکات

قرآن نصیحت ہے
قرآن مجید سراسر نصیحت ہے، جبکہ اس کا انکار کرنے والے محض تکبر اور مخالفت میں پڑے ہیں۔ (سورۃ ص: 1-2)
دین کی راہ میں مشکلات
اللہ تعالیٰ کی راہ میں انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی ستایا گیا۔ ہمیں بھی دین کی راہ میں آنے والی تکالیف برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ (سورۃ ص: 4)
انبیاء کو جھٹلانا
انبیاء کرام علیہم السلام کے دعویٰ کو جھٹلانے والوں کا دنیا اور آخرت میں برا انجام ہوتا ہے۔ (سورۃ ص: 12-14)
کائنات کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کسی چیز کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ ہمیں بھی اپنے مقصد زندگی یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ (سورۃ ص: 27)
قرآن کو سمجھنا
قرآن مجید کو سمجھنے کے دو درجے ہیں۔ ایک تدبّر یعنی قرآن مجید کی آیات پر غور و فکر کرنا اور دوسرا تذکر یعنی قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنا۔ (سورۃ ص: 29)
مشکلات میں اللہ کو پکارنا
ہمیں مشکلات اور بیماریوں میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا چاہیے۔ وہی مشکلات کو دور فرمانے والا اور شفاء عطاء فرمانے والا ہے۔ (سورۃ ص: 41-44)
جنت کی نعمتیں
اصل اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں جنت میں ہوں گی۔ (سورۃ ص: 52)
غافل رہنما
قیامت کے دن دین سے غافل رہنما اور ان کے پیروکار جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے اور ایک دوسرے کے لیے زیادہ عذاب کے بد دعا کریں گے۔ (سورۃ ص: 59-32)

کثیرالانتخابی سوالات

قرآن مجید کے مطابق دشمنوں کی تمام تر کوششوں کے بعد غالب آنا ہے
حضرت محمد ﷺ کے چچا کا نام ہے
قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنا کہلاتا ہے
اصل اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہیں
سورت ص کے آخر میں کس پیغمبر کا ذکر ہے

مختصر سوالات

سورت ص کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے ص سے ہوتا ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت ص ہے۔
سورت ص کا خلاصہ کیا ہے؟˅
اس سورت کا خلاصہ "عقیدہ رسالت کا بیان" ہے۔
سورت ص کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭اصل اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں جنت میں ہوں گی۔ ٭ہمیں مشکلات اور بیماریوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے۔
سورت ص کے نازل ہونے کا واقعہ بیان کریں؟˅
اس سورت کے نازل ہونے کا ایک خاص واقعہ ہے۔ "ایک مرتبہ قریش کے سردار حضرت محمد ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس ایک وفد کی شکل میں آئے اور کہا: اگر محمد ہمارے بتوں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو ہم انہیں ان کے دین پر عمل کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ چنانچہ جب حضرت محمد ﷺ کو مجلس میں بلا کر یہ تجویز سامنے رکھی گئی تو آپؐ نے اپنے چچا سے فرمایا؛ چچا جان کیا میں انھیں اس چیز کی دعوت نہ دوں جو ان کے لیے بہتر ہے؟ جس کے ذریعے پورا عرب ان کے سامنے جھک جائے گا اور یہ عجم کے مالک ہو جائیں گے۔ اس کے بعد آپ نے کلمہ توحید پڑھا یہ سن کر تمام لوگ کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے؛ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اختیار کر لیں؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ اس موقع پر سورت ص کی آیات نازل ہوئیں"۔