مقام نزول: یہ مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (83) تراسی آیات ہیں۔
رکوعات کی تعداد: اس سورت میں (05) رکوعات ہیں۔
سورة (یٰس) نام کا معنی: یہ رسول کا نام ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کا آغاز حروف مقطعات میں سے یٰسٓ سے ہوتا ہے اسی لیے اس سورت کا نام سورۃ یٰس ہے۔ (امام باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام سے روایت ہے کہ طہٰ اور یٰس رسول کریمؐ کے نام ہیں)
فضیلت: یہ سورت بہت فضیلت والی سورت ہے۔ اسے قرآن کا دل قرار دیا گیا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے مُردوں کے پاس اس کو پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔
روایات: ایک روایت کے مطابق جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے یہ سورت پڑھتا ہے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن مجید کا دل یٰس ہے، جس نے اس کو پڑھا اللہ تعالیٰ اسے دس مرتبہ قرآن مجید کا اجر عطاء فرمائے گا۔
زمانہ نزول: یہ سورت نبی کریمؐ کی مکی زندگی کے آخر میں نازل ہوئی۔
شانِ نزول: سورۃ یس بنیادی طور پر نبی ﷺ کی رسالت کو مضبوط کرنے، اور مشرکین مکہ کے انکار کے جواب میں نازل ہوئی۔ یہ سورۃ اس وقت نازل ہوئی جب نبی ﷺ کو تبلیغ میں مشکلات اور مخالفت کا سامنا تھا۔ مشرکین مکہ نبی ﷺ کے پیغام کو جھٹلا رہے تھے اور یہ کہتے تھے کہ آپ تو صرف ایک عام انسان ہیں، یا آپ جادوگر ہیں۔
اس سورت کریمہ کا خلاصہ ‘جامع اور بلیغ انداز میں توحید، رسالت اور آخرت کا بیان’ ہے۔