نہم جماعت کے لیے

سورۃ السباء

پارہ 22 آیات 54 رکوع 6 مکی

تعارف

مقام نزول: یہ مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (54) چون آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔

سورة (سباء) نام کا معنی: یہ ایک قوم کا نام تھا۔

قوم سباء: اس سورت کا نام قوم سبا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ قوم سبا یمن میں آباد تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر طرح کی خوشحالی سے نوازا تھا۔ لیکن انھوں نے ناشکری کی روش اختیار کی اور کفر کو فروغ دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور ان کی خوش حالی ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گئی۔

وجہ تسمیہ: اس سورت میں قوم سباء کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورت سباء ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ سبا مکی سورۃ ہے، جو ابتدائی اور درمیانی دورِ مکی میں نازل ہوئی۔ اس کا مقصد مشرکین کو توحید اور قیامت کی طرف بلانا اور ایمان والوں کو حوصلہ دینا تھا۔

عظمت باری تعالیٰ: سورۃ سبا میں اللہ کی عظمت اس میں ظاہر کی گئی ہے کہ وہ سب کا مالک اور رب ہے، قیامت میں ہر شخص کا انصاف کرے گا، اس کا کوئی شریک نہیں، اور قدرتی مظاہر اس کی کبریائی اور حکمت کے ثبوت ہیں۔

شانِ نزول: اس سورۃ کا نزول ایسے موقع پر ہوا جب بعض لوگ اللہ کی نعمتوں کو بھلا کر کفر و نافرمانی میں مبتلا تھے اور پیغمبروں کے اعلانات کو جھٹلانے لگے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی نشانیوں، حضرت سبا کی قوم کے احوال اور انعامات کے شکر نہ کرنے والے لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا۔

مرکزی خیال

اس سورت کا خلاصہ ‘اسلام کے بنیادی عقائد کا بیان اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب’ ہے۔

اہم مضامین

مشرکین کے اعتراضات کا جواب
سورۃ سبا میں مشرکین نے اللہ اور قیامت کے بارے میں کئی اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے، لیکن قیامت یا آخرت کیسے ہوگی؟ انہوں نے سوال کیا کہ اللہ چاہے تو سب کچھ بدل سکتا ہے، تو ہماری کوشش سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کچھ نے اعتراض کیا کہ مرنے کے بعد کچھ یاد نہیں رہے گا، تو آخرت کا کیا فائدہ؟ اور کچھ نے کہا کہ اللہ صرف مالدار یا طاقتور لوگوں کی مدد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب اعتراضات کا جواب دیا کہ قیامت ایک حقیقت ہے، ہر انسان کے اعمال محفوظ ہیں اور ان کا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ سب کا رب ہے، نیک عمل کرنے والے کامیاب ہوں گے چاہے وہ غریب ہوں یا امیر، اور کوئی بھی ناانصافی نہیں ہوگی۔ یہ واضح کرتا ہے کہ انسان کے اعمال کا حساب اور جزا و سزا صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اور قیامت کی تیاری ضروری ہے۔
حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کا ذکر
اس سورت میں حضرت داؤدؑ اور سلیمانؑ کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عظیم الشان سلطنت، بے شمار نعمتیں اور بہت سے معجزے عطا کیے تھے۔ اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہے اور اس کی فرماں برداری کرتے رہے۔
ناشکری کی سزا
اس سورت میں قوم سبا کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں عطا کی اور ان لوگوں نے ناشکری کی طرز کو اپنایا جس کی وجہ سے دنیا میں بھی سخت عذاب کا شکار بنے اور آخرت میں بھی سزا کے حق دار بنے۔
یاد الٰہی سے غفلت پر سزا
ان دونوں مثالوں کا ذکر فرما کر سبق دیا گیا ہے کہ دنیا میں ملنے والے اقتدار یا خوش حالی میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کو بھول جانا تباہی کو دعوت دینا ہے۔
توحید و آخرت پر ایمان لانے کا بیان
اس سورت کے آخر میں رسالت کا ذکر اور آخرت پر ایمان لانے کا بیان ہے۔
نافرمانوں کا انجام
سورۃ میں نافرمانوں کو قیامت میں شدید عذاب، اور دنیاوی مال و اولاد کی بے کار حیثیت سے ڈرایا گیا ہے، تاکہ وہ اللہ کی نافرمانی ترک کریں اور ایمان لائیں۔
اختتام
سورۃ سبا کے اختتام میں ایمان والوں اور کافروں کے انجام، اللہ کی قدرت، اور قیامت کی حقیقت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ حصہ سورت کے مرکزی پیغام توحید، اللہ کی قدرت، اور نیکی و بدکاری کے نتائج کو مکمل کرتا ہے۔

علمی و عملی نکات

اللہ کا علم
اللہ تعالیٰ کائنات کے ایک ایک ذرہ، اس سے بڑی یا اس سے چھوٹی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ (سورۃ السباء: 3)
محنت میں عظمت
محنت میں عظمت ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے لوہے کی زرہیں اور زنجیریں بناتے تھے۔ (سورۃ السباء: 11)
ناشکری کا انجام
اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر نعمت چھین لی جاتی ہے۔ (سورۃ السباء: 16-17)
اعمال کی ذمہ داری
ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ قیامت کے دن کسی شخص سے کسی دوسرے کے جرائم کے بارے میں باز پُرس نہیں کی جائے گی۔ (سورۃ السباء: 25)
دنیا کی غفلت
انبیاء کرامؑ کا انکار کرنے والے اکثر لوگ خوشحال اور کھاتے پیتے لوگ تھے، جو دنیا کی نعمتوں میں کھو کر آخرت سے غافل ہو چکے تھے۔ (سورۃ السباء: 34-35)
مال و اولاد
مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی رضا کی نشانی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی کا امتحان ہیں۔ (سورۃ السباء: 37)
شرک سے ممانعت
قرآن مجید کی واضح آیات انسان کو شرک سے روکتی ہیں اور دین کا صحیح تصور عطا کرتی ہیں۔ (سورۃ السباء: 43)
اخلاص
ہمیں اخلاص کے ساتھ بغیر کسی دنیاوی لالچ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلانا چاہیے۔ (سورۃ السباء: 47)
جھوٹے معبود
جھوٹے معبود نہ کسی کو پہلی بار پیدا کر سکتے ہیں اور نہ دوسری بار پیدا کریں گے۔ (سورۃ السباء: 49)

کثیرالانتخابی سوالات

قوم سبا آباد تھی
قوم سبا نے روش اختیار کی
حضرت داؤدؑ کے بیٹے تھے
انسان کی عظمت ہے
مال و اولاد ہیں

مختصر سوالات

سورت سباء کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
اس سورت میں قوم سباء کا ذکر ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت سباء ہے۔
سورت سباء کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورت سباء کا خلاصہ "اسلام کے بنیادی عقائد اور آخرت کے بارے میں مشرکین کے اعتراضات کا جواب" ہے۔
سورت سباء کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر نعمت چھین لی جاتی ہے۔ ٭انسان کی محنت میں عظمت ہے۔
قوم سباء کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟˅
قوم سباء یمن میں آباد تھی ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کی خوشحالی دی گئی تھی مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی اور اس کے نتیجے میں ان پر اللہ کا عذاب آیا اور ان سے تمام خوش حالی چھین لی گئی۔