نہم جماعت کے لیے

سورۃ لقمن

پارہ 21 آیات 34 رکوع 4 مکی

تعارف

مقام نزول: سورۃ لقمن مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (34) چونتیس آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (04) چار رکوع ہیں۔

سورة (لقمن) نام کا معنی: اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ بزرگ کا نام ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹوں کو نصیحتوں کا تذکرہ ہے۔ اس لیے اس سورت کا نام سورۃ لقمن ہے۔

زمانہ نزول: مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار مکہ کی مخالفت اپنے عروج پر تھی۔ وہ مختلف حیلوں، بہانوں اور پر تشدد کاروائیوں سے اسلام کی نشر و اشاعت کا راستہ روکنے کی کوششیں کر رہے تھے۔

شانِ نزول: سورۃ لقمن جو نبی ﷺ اور امت مسلمہ کو توحید، شکرگزاری اور والدین و اولاد کے حقوق سکھانے کے لیے نازل ہوئی۔ اس میں حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحتیں بیان کی گئی ہیں، جیسے اللہ کی عبادت، والدین کا احترام، نیک کردار، صبر اور عاجزی۔ یہ سورت مومنین کو دنیا کی فانی نوعیت، اللہ کی قدرت اور قیامت کے دن کی حقیقت کی یاد دلاتی ہے۔

مرکزی خیال

سورۃ لقمن کا خلاصہ ‘توحید کے دلائل، کردار سازی اور آخرت کی یاد دہانی’ ہے۔

اہم مضامین

قرآن مجید سے نفع
اس سورت کے شروع میں قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے والوں کے اوصاف بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے والے وہ ہیں جو ایمان والے، نیک اعمال کرنے والے، شکرگزار، غور و فکر کرنے والے اور قیامت کی تیاری کرنے والے ہوں۔
حضرت لقمان کی اپنے بیٹوں کو نصیحت
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی اور فرمایا 'اے میرے پیارے بیٹے! کبھی شرک نہ کرنا نماز قائم کرنا خود نیک عمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی اچھے کام کرنے کا حکم دینا اور برے کام سے روکنا۔ اگر کوئی مصیبت آجائے تو اس پر صبر کرنا۔ لوگوں سے اچھے طریقے سے پیش آنا۔ زمین پر اکڑا اکڑ کر مت چلنا بلکہ زندگی کے دوسروں معاملات کی طرح چلتے ہوئے بھی میانہ روی اختیار کرنا۔ جیسے چال ڈھال میں میانہ روی اختیار کرنا اسی طرح بولنے میں بھی میانہ روی اختیار کرنا اور اپنی آواز کو دھیما رکھنا۔
حضرت لقمان کا تذکرہ
حضرت لقمان اہل عرب کے ایک بہت بڑے عقل مند اور دانشور کی حیثیت سے مشہور تھے۔ ان کی حکیمانہ باتوں کو اہل عرب بہت وزن دیتے تھے۔ یہاں تک کہ شاعروں نے اپنے اشعار میں ان کا ایک حکیم یعنی دانا کی حیثیت سے تذکرہ کیا ہے۔ قرآن مجید نے اس سورت یہ واضح فرمایا ہے کہ حضرت لقمان جیسے حکیم اور دانش ور جن کی عقل و حکمت کا تم بھی لوہا مانتے ہو، وہ بھی توحید کے قائل تھے۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک ماننے کو ظلم عظیم یعنی بہت بڑا ظلم قرار دیا تھا اور اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ تم کبھی شرک مت کرنا۔
توحید باری تعالیٰ کے دلائل
اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے، قدرت اور صفات کو دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ وہ کائنات اور اس کا سب کچھ بنانے والا ہے۔
وسعتِ علم الٰہی اللہ کا بیان
اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت کا بیان ہے کہ اللہ کریم کا علم بڑا وسیع ہے جو سب کچھ ہر دم جانتا ہے وہ العلیم ذات ہے۔
اختتام
سورۃ لقمن کا اختتام انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ علم، طاقت اور اختیار سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے انسان کو غرور چھوڑ کر ایمان، تقویٰ اور آخرت کی تیاری میں مشغول رہنا چاہیے۔ یہ آیات انسان کو توکل، عاجزی اور اللہ کی اطاعت کا واضح پیغام دیتی ہیں۔

علمی و عملی نکات

اللہ کا شکر
حکمت و دانائی کا تقاضا ہے کہ سب سے بڑے محسن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ (سورۃ لقمن: 12)
شرک کا انجام
شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (سورۃ لقمن: 13)
اندھی پیروی نہیں
ہمیں اپنے باپ دادا کی اندھی پیروی کے بجائے اس شخص کی پیروی کرنی چاہیے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ (سورۃ لقمن: 15)
اعمال محفوظ
انسان کا ہر عمل محفوظ ہے اور قیامت کے دن ان کا نتیجہ نکل کر رہے گا۔ (سورۃ لقمن: 16)
حکمت کا تقاضا
حکمت و دانائی کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کیا جائے، بھلائی کا حکم دیا جائے، برائی سے منع کیا جائے اور جو مصائب آئیں ان پر صبر کیا جائے۔ (سورۃ لقمن: 17)
عاجزی و انکساری
ہمیں عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ تکبر اور شیخی بگھارنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ (سورۃ لقمن: 18)
میانہ روی
ہمیں اپنی زندگی کے تمام معاملات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ (سورۃ لقمن: 19)

کثیرالانتخابی سوالات

حضرت لقمان اہل عرب میں مشہور تھے
حضرت لقمان نے نصیحتیں کیں
حضرت لقمان نے شرک کو قرار دیا
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ زمین پر نہ چلنا
ہمیں اپنی زندگی کے معاملات میں اختیار کرنی چاہیے

مختصر سوالات

سورت لقمن کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
سورت لقمن میں حضرت لقمان کا اپنے بیٹے کو نصیحت کا ذکر ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت لقمن ہے۔
حضرت لقمان کون تھے؟˅
حضرت لقمان اہل عرب کے ایک بہت بڑے عقل مند اور دانش ور انسان تھے۔
سورت لقمن کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورت لقمن کا خلاصہ "توحید کے دلائل، کردار سازی اور آخرت کی یاد دہانی" ہے۔
سورت لقمن کے علمی و عملی نکات میں دو لکھیں؟˅
٭ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ٭ ہمیں زندگی کے تمام معاملات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔