نہم جماعت کے لیے

سورۃ العنکبوت

پارہ 20 آیات 69 رکوع 7 مکی

تعارف

مقام نزول: سورۃ العنکبوت مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (69) انہتر آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (07) سات رکوع ہیں۔

سورة (عنکبوت) نام کا معنی: العنکبوت کا معنی 'مکڑی' ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت اکتالیس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے پر بھروسہ کر رکھا ہو۔ اس لیے اس سورت کا نام سورت العنکبوت ہے۔

زمانہ نزول: اس سورت کا نزول تب ہوا جب مشرکین مکہ حضرت محمدؐ اور ان کے صحابہ کرام کی سخت مخالفت کر رہے تھے۔

شانِ نزول: سورۃ العنکبوت جو نبی ﷺ اور امت مسلمہ کو یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا میں زندگی آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے اور اللہ ہر انسان کو اس کے حالات کے مطابق پرکھتا ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کے واقعات بیان کیے گئے تاکہ دکھایا جا سکے کہ صبر، ایمان اور تقویٰ کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنے والے کامیاب ہوتے ہیں۔ مشرکین اور ظالموں کے انجام کی بھی تنبیہ کی گئی ہے، اور مومنین کو اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنے اور صبر اختیار کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

مرکزی خیال

سورت العنکبوت کا خلاصہ ‘کافروں کا ظلم سہنے والے مظلوم مسلمانوں کو تسلی دینا’ ہے۔

اہم مضامین

حضرت محمد ﷺ کا مثالی کردار
حضرت محمد ﷺ شروع سے اپنی قوم میں اعلیٰ صفات اور پاکیزہ و بلند کردار کی وجہ سے نہایت مقبول تھے، لیکن جب آپ نے لوگوں کو ایک اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی تو قوم آپ کے خلاف ہو گئی۔ انہوں نے آپ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں گھڑنا شروع کر دیں۔ یہ باتیں سن کر آپ کو بہت رنج ہوا آپ کو امید تھی کہ آپ کی قوم اس راہ حق میں آپ کا ساتھ دے گی۔ آپ کو اپنی قوم کے رویے کا دکھ ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے ذریعے آپ کو تسلی دی۔
سورت العنکبوت کے نزول کا بنیادی مقصد
مشرکین نے نہ صرف حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ کو نشانہ بنایا، بلکہ دوسرے مسلمان بھی ان کی زیادتیوں سے محفوظ نہ تھے۔ ظلم اور تشدد کے اس دور میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی ہدایت، ان کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے اس سورت کو نازل فرمایا جس میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انبیاء کرامؑ کا ذکر
اس سورت میں کئی انبیاء کرامؑ کی زندگی کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔ حضرت نوحؑ کی ساڑھے نو سو سال کی ثابت قدمی، حضرت ابراہیمؑ کی لازوال قربانیاں، حضرت لوطؑ کا قوم کی مخالفت پر صبر، حضرت شعیبؑ اور حضرت موسیٰؑ کی اپنی قوموں سے کشمکش کا ذکر فرما کر مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے گئے ہیں۔
مسلمانوں کو ہدایت
اس سورت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ظلم و ستم کے اس دور میں قرآن مجید کی تلاوت، نماز کا اہتمام اور کثرت سے اللہ کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔
مسلمانوں کو تلقین
سورت کے آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے بہت سی راہیں کھول دیتا ہے۔
اختتام
سورۃ العنکبوت کا اختتام یہ پیغام دیتا ہے کہ ایمان دعوے کا نام نہیں بلکہ صبر، قربانی اور عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ جو لوگ مشکلات کے باوجود اللہ پر قائم رہتے ہیں، ان کے لیے ہدایت، نصرت اور دائمی کامیابی مقدر ہے

علمی و عملی نکات

ایمان اور آزمائش
ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ صرف زبانی ایمان کا دعویٰ کرنے پر ہم چھوڑ دیے جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ہمیں آزمائے گا اور سچے اور جھوٹے لوگوں کو الگ الگ کر کے رہے گا۔ (سورۃ العنکبوت: 2-3)
جدوجہد کا فائدہ
جو دین کے کام کے لیے جدوجہد کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے یعنی اجر و ثواب کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہماری عبادت کی کوئی حاجت نہیں۔ (سورۃ العنکبوت: 6)
شرک کی مثال
شرک کرنے والوں کی مثال ایسے ہے جیسے کسی مکڑی کے جالے کو اپنا سہارا بنایا ہو۔ (سورۃ العنکبوت: 41)
ہجرت کی نیکی
اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے ہجرت کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔ (سورۃ العنکبوت: 56)
اللہ رازق ہے
اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رازق ہے، چنانچہ ہمیں رزق کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے ہی امید رکھنی چاہیے۔ (سورۃ العنکبوت: 60)
مشکل میں اللہ کو پکارنا
ہمیں مشکل میں اللہ تعالیٰ کو ہی پکارنا چاہیے اور مشکل سے نکلنے پر اللہ تعالیٰ کا ہی شکر ادا کرنا چاہیے۔ (سورۃ العنکبوت: 65)

آیات و ترجمہ

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ
ترجمہ "اے میرے رب! میری مدد فرما ان فساد مچانے والوں کے مقابلے میں"

کثیرالانتخابی سوالات

العنکبوت کا معنی ہے
سورت العنکبوت میں مسلمانوں ہدایت دی گئی ہے
مکڑی کے جالے پر اعتماد کرنے والوں سے تشبیہ دی گئی ہے
اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی
اللہ تعالیٰ رازق ہے

مختصر سوالات

سورت العنکبوت کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
العنکبوت کا معنی "مکڑی" ہے۔ سورت کی آیت اکتالیس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی نے مکڑی کے جالے پر بھروسہ کر رکھا ہو اسی مناسبت سے اس کا نام سورت العنکبوت ہے۔
سورت العنکبوت کا خلاصہ لکھیں؟˅
سورت العنکبوت کا خلاصہ "ظالموں کا ظلم سہنے والے مظلوموں کو تسلی دینا" ہے۔
سورت العنکبوت کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭ شرک کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے مکڑی کے جالے کو اپنا سہارا بنایا ہو ٭اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے ہجرت کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔