نہم جماعت کے لیے

سورۃ النمل

پارہ 19 آیات 93 رکوع 7 مکی

تعارف

مقام نزول: سورت النمل مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (93) ترانوے آیات ہیں۔

رکوعات: اس سورت میں (07) سات رکوع ہیں۔

سورة (نمل) نام کا معنی: النمل کا معنی چیونٹی ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کی آیت اٹھارہ میں حضرت سلیمانؑ کا چیونٹیوں کی وادی کے پاس سے گزرنے کا واقعہ ہے تبھی اس سورت کا نام سورت النمل ہے۔ سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور چیونٹیوں (نمل) کا واقعہ نہایت دلچسپ اور عبرت آموز انداز میں بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو پرندوں، جانوروں اور حتیٰ کہ چیونٹیوں کی زبان سمجھنے کی نعمت دی تھی۔ ایک دن جب حضرت سلیمان اور ان کا لشکر سفر کر رہے تھے، تو انہوں نے دیکھا کہ ایک چیونٹی اپنے ساتھیوں سے کہہ رہی ہے: "اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلو ورنہ سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں کچل ڈالے گا۔" جس پر حضرت سلیمانؑ نے اپنے لشکر کو خبردار کیا کہ چیونٹیوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

شانِ نزول: اس کا مقصدِ نزول نبی ﷺ کی رسالت کی تصدیق اور اللہ کی وحدانیت کو واضح کرنا ہے۔ سورۃ میں ماضی کی قوموں اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصص بیان کر کے عبرت دی گئی اور مشرکین کے اعتراضات کا جواب دیا گیا۔

مرکزی خیال

سورت النمل کا خلاصہ ‘اسلام کے بنیادی عقائد اور کفر کے برے نتائج’ کا بیان ہے۔

اہم مضامین

آغاز
اس سورت کے آغاز میں قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے والوں کی صفات کے بیان سے ہوتا ہے۔
انبیاء کرامؑ کے واقعات
اس سورت میں حضرت موسیٰؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت صالحؑ اور حضرت لوطؑ کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔
تفصیلی واقعہ
اس سورت میں حضرت سلیمانؑ کا واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت سلیمانؑ حضرت داؤدؑ کے بیٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑکو دولت، حکومت اور شان و شوکت سے نوازا تھا اور بہت سے معجزات عطاء فرمائے تھے۔ حضرت سلیمان اللہ تعالیٰ کے شکرگزار بندے تھے۔ سورۃ النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ ان کی حکمت، علم، اقتدار اور اللہ کی نعمتوں کو ظاہر کرنے کے لیے بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے انہیں بادشاہت کے ساتھ پرندوں، جانوروں اور جنات کی زبان سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی۔ ایک دن ایک چڑی کے ذریعے انہیں سبا ملک اور اس کی ملکہ کے حالات کا علم ہوا، جس کے بعد حضرت سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ ملکہ سبا نے حضرت سلیمانؑ کی حکمت اور اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر ایمان قبول کیا۔
قدرتِ الٰہی اللہ کی نشانیاں
اس سورت میں کائنات میں پھیلی ہوئی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت ثابت ہوتی ہے۔
آخرت کا انکار کرنے والوں کو تنبیہ
سورۃ النمل کے آخری دو رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کا انکار کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی ہے اور واضح کیا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی۔ اُن لوگوں کو نصیحت کی گئی ہے جو دنیا کی فریب کاریوں میں مگن ہو کر آخرت کو جھٹلانے لگتے ہیں، اور انہیں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے اعمال کا حساب ہوگا۔ یہ تنبیہ اس لیے ہے تاکہ لوگ تقویٰ اختیار کریں، نیک اعمال کریں اور آخرت کی حقیقت کو قبول کریں تاکہ قیامت کے دن انہیں نقصان نہ ہو۔
قیامت کا بیان
قیامت کی علامات، اس کے دلائل، اس دن کے احوال اور قیامت کے دن اچھے اور برے لوگوں کے انجام کا بیان ہے۔ سورۃ النمل میں قیامت کا بیان اس طرح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن کی نشانیوں، دلائل، اور احوال واضح فرمائے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کی کئی علامات ظاہر ہوں گی، جیسے زمین و آسمان کا بدل جانا اور لوگوں کا حساب کے لیے جمع ہونا۔ اس دن کے احوال میں ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق پیش ہو گا
اختتام
سورۃ النمل کا اختتام اس حقیقت پر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی نشانیاں ظاہر کرتا رہے گا، یہاں تک کہ حق بالکل واضح ہو جائے گا۔ انسان کی کامیابی ایمان، اطاعت اور قرآن کی پیروی میں ہے، اور انجامِ آخرت یقینی ہے۔ یہ اختتام انسان کو غور و فکر، عمل اور آخرت کی تیاری کی مضبوط دعوت دیتا ہے۔

علمی و عملی نکات

اصل کامیابی
نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا اور اخرت پر یقینِ کامل رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ (سورۃ النمل: 3)
اللہ کی نعمتوں کا شکر
حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرح ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔ (سورۃ النمل: 19)
صلاحیتیں اور نعمتیں
ہماری تمام ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں۔ (سورۃ النمل: 40-73)
اللہ کو پکارنا
اللہ تعالیٰ ہی لاچار اور پریشان حال لوگوں کی فریاد سنتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر مصیبت میں صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے۔ (سورۃ النمل: 62)
رزقِ حلال
رزق عطا فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ ہمیں حرام طریقوں سے رزق حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔ (سورۃ النمل: 64)
حق کا انکار
حق کا انکار کرنے والے مُردوں، بہروں اور اندھوں کی طرح ہیں،، جنہیں قرآن مجید سے کوئی نصیحت حاصل نہیں ہو سکتی۔ (سورۃ النمل: 80-81)
دین کی دعوت
دین کی دعوت دینے والوں کو قرآن مجید کے ذریعے لوگوں کو خبردار کرتے رہنا چاہیے۔ (سورۃ النمل: 91)
اعمال کی خبر
ہم جو بھی اعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو ان کے خُوب خبر ہے اور قیامت کے دن ان کا فیصلہ ہو جائے گا۔ (سورۃ النمل: 93)

آیات و ترجمہ

وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ۔
اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما۔

کثیرالانتخابی سوالات

نمل کا معنی ہے
سورت النمل میں تفصیلی تذکرہ ہے
دین کی دعوت دینے والوں کو خبر دار کرنا چاہیے
سورت النمل میں لوگوں کی صفات ہیں جو ہدایت حاصل کرتے ہیں
ہمارے اعمال کا فیصلہ ہو گا

مختصر سوالات

سورت النمل کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
نمل کا معنی "چیونٹی" ہے اس سورت میں حضرت سلیمانؑ کا چیونٹیوں کی وادی کے پاس سے گزرنے کا واقعہ ہے اس لیے اس سورت کا نام سورت النمل ہے۔
سورت النمل کا خلاصہ کیا ہے؟˅
سورت النمل کا خلاصہ اسلام کے بنیادی عقائد کا انکار اور کفر کے برے نتائج کا بیان ہے۔
سورت النمل کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
٭نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا اور آخرت پر یقین کامل رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ ٭دین کی دعوت دینے والوں کو قرآن مجید کے ذریعے دوسروں کو خبر دار کرنا چاہیے۔
سورت النمل میں حضرت سلیمانؑ کا ذکر کس طور پر آیا ہے؟˅
سورت النمل میں حضرت سلیمان کا ذکر اس حوالے سے آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دولت، حکومت اور شان و شوکت سے نوازا تھا اور بہت سے معجزات عطاء فرمائے تھے۔