مقام نزول: سورۃ الشعراء مکی سورت ہے۔
آیات کی تعداد: اس سورت میں (227) دو سو ستائیس آیات ہیں۔
رکوعات: اس سورت میں (11) گیارہ رکوع ہیں۔
لمبی ترین مکی سورت: اس سورت کی خصوصیت یہ ہے کہ 'آیات کے لحاظ سے لمبی ترین مکی سورت' ہے۔
سورۃ (شعراء) نام کا معنی: شعراء شاعر کی جمع ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کے آخر میں اچھے اور برے شاعروں کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ الشعراء ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورت، سورت الواقعہ کے بعد نازل ہوئی جس میں کفار نبی کریم ﷺ کی شدید مخالفت پر اتر آئے تھے۔
شانِ نزول: مشرکین نے نبی ﷺ پر الزام لگایا کہ قرآن صرف شاعری ہے، لیکن اللہ نے واضح کیا کہ یہ اللہ کی وحی ہے، شاعر کا کلام نہیں۔ سورۃ میں ماضی کے انبیاء اور قوموں کی کہانیاں بیان کر کے نبی ﷺ کی رسالت کی تصدیق کی گئی۔
سورۃ الشعراء کا خلاصہ ‘سابقہ انبیاء کرام کے واقعات کے ذریعے مسلمانوں کو تسلی دینا’ ہے۔