نہم جماعت کے لیے

سورۃ الفرقان

پارہ 18 آیات 77 رکوع 6 مکی

تعارف

زمانہ نزول: یہ سورت مکی سورت ہے۔

آیات کی تعداد: اس سورت میں (77) ستتر آیات ہیں۔

رکوع: اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔

نام (فرقان) کا معنی: فرقان کا معنی ہے فرق کرنے والا۔ حق و باطل میں فرق کرنے والا

وجہ تسمیہ: اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو فرقان کہا گیا ہے یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی کتاب اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الفرقان ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ الفرقان مکی زندگی کے درمیان میں نازل ہوئی۔

شانِ نزول: اس کے نزول کا سبب یہ تھا کہ کفارِ مکہ قرآن مجید، رسالتِ محمدی ﷺ اور قیامت کے بارے میں اعتراضات کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن کسی انسان کا بنایا ہوا ہے، نبی ﷺ بشر ہیں، اور قیامت کا انکار کرتے تھے۔

مرکزی خیال

سورۃ الفرقان کا خلاصہ ‘اسلام کے بنیادی عقائد کا اثبات اور کفار کے اعتراضات کا جواب’ ہے۔

اہم مضامین

آغاز
اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی گئی ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی شان
اس سورت میں حضرت محمد ﷺ کی شان بیان کی گئی ہے۔ سورۃ الفرقان میں نبی کریم ﷺ کی شان کو نہایت بلند اور واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الفرقان میں نبی کریم ﷺ کی شان بڑے مؤثر انداز میں بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نبی ﷺ پر نازل فرما کر آپ ﷺ کو حق و باطل میں فرق کرنے والا رسول قرار دیا۔ آپ ﷺ کو عبدہ کہہ کر پکارا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدیت سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ نبی ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے نذیر بنا کر بھیجا گیا۔
قرآن مجید کی حقانیت
اس سورت میں قرآن مجید کی حقانیت کا جامع بیان ہے۔ سورۃ الفرقان میں قرآن کو اللہ کی وحی اور نبی ﷺ پر نازل شدہ کتاب قرار دیا گیا ہے، جو حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ قرآن انسان کی تخلیق نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے، اور اس میں گزشتہ انبیاء کے واقعات اور وعدے سچ کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
جھوٹے خداؤں کی بے بسی
اس سورت میں جھوٹے خداؤں کی بے بسی اور لاچاری کا بیان ہے۔ سورۃ الفرقان میں بتایا گیا ہے کہ جھوٹے خدا نہ طاقت رکھتے ہیں نہ علم، اور نہ ہی اپنے پوجنے والوں کی مدد کر سکتے ہیں۔
مشرکین کے اعتراضات کا جواب
اس سورت میں قرآن مجید، عقیدہ رسالت اور مشرکین کے اعتراضات کا بھرپور جواب دیا گیا ہے۔
عذاب الہیٰ کا ذکر
انبیاء کرام علیہم السلام کو جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ذکر کر کے قریش مکہ اور ایسے تمام مجرموں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
رحمان کے پسندیدہ بندوں کی صفات
سورت کے آخر میں رحمان کے پسندیدہ بندوں کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ جن میں عاجزی اور وقار، راتوں کی عبادت، میانہ روی، اور برے کاموں سے بچنا شامل ہے۔

علمی و عملی نکات

قرآن کا مقصد
قرآن مجید حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام ہے جو تمام جہانوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ (سورۃ الفرقان: 1)
قیامت کا انکار
اللہ تعالیٰ، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن مجید پر اعتراضات کا بنیادی سبب قیامت کو جھٹلانا ہے۔ (سورۃ الفرقان: 11)
بری صحبت کا انجام
برے لوگوں کو دوست بنانے والے دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی اپنے آپ پر افسوس کریں گے۔ (سورۃ الفرقان: 28)
قرآن کو ترک کرنا
قیامت کے دن حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ میری قوم کے بہت سے لوگوں نے اس قرآن پر عمل کرنے کو چھوڑ رکھا تھا۔ (سورۃ الفرقان: 30)
اچھے کردار کی اہمیت
اللہ تعالیٰ کے خاص بندے خاص صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کو خاندانی حسب نسب، زبان یا خوبصورتی کی وجہ سے مقام نہیں ملتا بلکہ اچھے کردار اور اچھی سی بات کی وجہ سے ملتا ہے۔ (سورۃ الفرقان: 63-72)

ذخیرہ الفاظ

هَوْنًاآہستگی اور وقار سے
لَمْ یَقْتُرُوْاوہ بخل نہیں کرتے
یَخْلُدْوہ ہمیشہ رہے گا
صُمًّابہرے
یَبِیْتُوْنَوہ رات گزارتے ہیں
كَانَہے، ہوتا ہے
مُهَانًاذلیل ہو کر
عُمْیَانًااندھے
اِصْرِفْدور کر دے
بَیْنَدرمیان
قُرَّةَ اَعْیُنٍآنکھوں کی ٹھنڈک
غَرَامًاچمٹنے والا
مَعَساتھ
سَیِّاٰتِهِمْان کی برائیوں کو
مُسْتَقَرًّاٹھہرنے کی جگہ

آیات و ترجمہ

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے بات کریں تو وہ سلام کہتے ہیں۔
وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا
اور جو راتیں گزارتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام کرتے ہوئے۔
وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
اور جو عرض کرتے ہیں اے میرے رب! ہم سے جہنم کا عذاب دور کر دے بے شک یہ تکلیف دہ ہے۔
وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا
اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ ہی کنجوسی کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ ان دونوں کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔

کثیرالانتخابی سوالات

حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا معنی ہے
سورت الفرقان میں صفات بیان کی گئی ہیں
قرآن مجید نازل کیا گیا
رحمان کے بندے زمین پر چلتے ہیں

مختصر سوالات

سورت الفرقان کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
اس سورت کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو فرقان کہا گیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورت الفرقان ہے۔
سورت الفرقان کا خلاصہ لکھیں؟˅
سورت فرقان کا خلاصہ 'اسلام کے عقائد کا اثبات اور مشرکین کے اعتراضات کا جواب' ہے۔
سورت الفرقان کے دو علمی و عملی نکات لکھیں؟˅
1. قرآن مجید حق اور باطل میں فرق کرنے والا کلام ہے جو تمام جہانوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ 2. برے لوگوں کو دوست بنانے والے دنیا میں بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور قیامت کے دن بھی اپنے آپ پر افسوس کریں گے۔