سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الحدید ہے۔ مقام نزول: سورۃ الحدید کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔
آیات کی تعداد: سورۃ الحدید کی آیات بینات کی تعداد (29) انتیس ہے۔ رکوعات: سورۃ الحدید کے رکوعات کی تعداد (04) چار ہے۔
فضیلت: یہ سورۃ مسبحات میں سے پہلی سورت ہے۔ (جن سورتوں کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان ہوتی ہے ان کو مسبحات کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے مسبحات کی تلاوت فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ "ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ایک ہزار آیات سے افضل ہے"۔
وجہ تسمیہ: سورۃ الحدید کی وجہ تسمیہ اس کی آیت نمبر پچیس (وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ) ہے۔ اس میں لفظ الْحَدِیْدَ آیا ہے۔ جس کا معنی "لوہا" ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ الْحَدِیْدَ رکھا گیا ہے۔
مرکزی موضوع: سورۃ الحدید کا مرکزی موضوع "انفاق فی سبیل اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کی تلقین اور ترغیب کا بیان "ہے۔
اللہ تعالیٰ کی توحید و صفات اور قدرت کاملہ کا بیان: سورۃ الحدید کے آغاز میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کی توحید و صفات اور قدرت کا بیان ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور موت و حیات کا مالک ہے۔ اس کی نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا ہے۔ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ سب نے اسی کے پاس جانا ہے۔
ایمان لانے کی دعوت: سورۃ الحدید میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔
انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب: سورۃ الحدید میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ ایمان لانے والوں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کے لیے بہترین اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دلاتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ جن صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فتح سے قبل اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا اور قتال کیا وہ ان لوگوں کی نسبت عظیم درجات کے حامل ہیں جنہوں نے فتح کے بعد یہ اعمال انجام دیے۔ البتہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔
مؤمنین کے انجام کا تذکرہ: انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب کے بعد مومنین کا انجام ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان اس طرح جنت میں جائیں گے کہ ان کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں نور ہو گا۔ ان کے لیے ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔
منافقین کے انجام کا تذکرہ: منافقین کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ منافقین اس نور سے محروم ہوں گے۔
دنیا کی بے ثباتی کا ذکر: اس کے بعد دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کیا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی محض چند روزہ کھیل تماشا ہے۔ اس کی مثال اس کھیتی کی سی ہے جو پہلے سرسبز ہوتی ہے پھر زرد پڑ جاتی ہے اور آخر کار بھس بن کر رہ جاتی ہے۔
خشیت الہی کی تلقین: اس سورت میں اہل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے ان کو خشیت الہی کی تلقین کی گئی ہے۔
اہل کتاب کی تنگ دلی کا ذکر: اہل کتاب کی تنگ دلی کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اہل کتاب کی طرح نہ ہو جانا جن کے دل سخت ہو گئے ہیں۔
آخرت کی تیاری کا حکم: مومنین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آخرت کی تیاری کرتے ہوئے مغفرت و جنت کے طلبگار رہیں۔
اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثمرات کا ذکر: سورۃ الحدید میں اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثمرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور انہیں وہ نور بخشے گا جس سے دنیا کی زندگی میں وہ ہر قدم پر ٹیڑھے راستوں کے درمیان سیدھی صاف راہ دیکھ کر چل پائیں گے۔
تقدیر کا ذکر: سورۃ الحدید میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں جو بھی راحت اور مصیبت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پہلے سے لکھے ہوئے فیصلے کے مطابق آتی ہے۔ مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ مصیبت آئے تو ہمت نہ ہار بیٹھے اور رحمت آئے تو اتراتا نہ پھرے۔ ایک منافق اور کافر کا کردار یہ ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو کوئی نعمت دیتا ہے تو وہ فخر جتانے لگتا ہے۔
انبیاء اور رسل کی بعثت کا تذکرہ: اس سورت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول علیہم السلام کو دلائل کتاب اور میزان کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے انبیاء آتے رہے جن کی دعوت سے کچھ لوگ راہ راست پر آئے اور اکثر فاسق بنے رہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ: سورۃ الحدید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے انہیں انجیل مقدس عطا فرمائی اور ان کے پیروکاروں کے دلوں میں نرمی اور رحمت پیدا کر دی۔ البتہ رہبانیت یعنی ترک دنیا اور معاشرتی ذمہ داریوں سے فرار ہونا نصاریٰ نے خود ایجاد کیا تھا۔