بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ الْحُجُرَات

پارہ 26 آیات 18 رکوع 2 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الحجرات ہے۔ مقام نزول: سورۃ الحجرات کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔

آیات بینات: سورۃ الحجرات کی آیات بینات کی تعداد (18) اٹھارہ ہے۔ رکوعات کی تعداد: سورۃ الحجرات کے رکوعات کی تعداد (02) دو ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ الحجرات کے اکثر احکام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئے ہیں۔

شان نزول: ایک دفعہ بنی تمیم کا وفد مدینہ منورہ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک میں آرام فرما رہے تھے۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک انتظار کرنے کے بجائے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے باہر کھڑے ہو کر بے ادبی سے پکارنے والوں کی مذمت کی ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام اس کی آیت نمبر چار سے ماخوذ ہے۔ حجرات حجرہ کی جمع ہے۔ جس کے معنی کمرہ کے ہیں۔ حجرات سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہیں ہیں۔ اس سورت مبارکہ میں بارگاہ رسالت مآب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے آداب سکھائے گئے ہیں۔

مرکزی موضوع: سورۃ الحجرات کا مرکزی "موضوع بارگاہ رسالت میں حاضری کے آداب اور مسلمانوں کو معاشرتی آداب کی تعلیم دینا ہے"۔

مرکزی خیال

بارگاہ رسالت میں حاضری کے آداب: سورۃ الحجرات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضری کے آداب کے بیان کا ذکر ہے کہ۔۔۔

1): جب نبی کریمؐ کوئی بات فرمائیں تو آپؐ کی پیروی اور اتباع کی جائے۔ 2): حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مقابلے میں کوئی مشورہ پیش نہ کیا جائے۔

3): آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے سے پہلے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ 4): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں آہستہ آواز میں بات کی جائے۔

5): جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہوں تو باہر سے آواز نہ دی جائے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے باہر تشریف لانے کا انتظار کیا جائے۔

ان تمام آداب کی بجا آوری پر جنت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے جبکہ کوتاہی کی صورت میں اعمال ضائع ہونے کی وعید سنائی گئی ہے۔

تحقیق کا حکم: سورۃ الحجرات میں معاشرتی آداب کی تعلیم دی گئی ہے کہ سنی سنائی بات پر اس وقت تک یقین نہ کیا جائے جب تک پوری تحقیق اور تسلی نہ کر لی جائے۔ اگر کسی شخص قوم یا گروہ کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ قابل اعتماد نہ ہو تو کاروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینی چاہیے کہ خبر صحیح ہے یا نہیں۔

اسلامی اخوت کا بیان: مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے اور ہمیشہ محبت سے رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اگر دو مسلمان بھائی کسی معاملہ پر آپس میں جھگڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کروانی چاہیے اور ہمیشہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

معاشرتی برائیوں سے بچنے کی تلقین: سورۃ الحجرات میں ان معاشرتی برائیوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد کا سبب بنتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے سورۃ الحجرات میں درج ذیل ہدایات دی گئی ہیں۔۔۔

1): ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑاؤ۔ 2): ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو۔ 3): ایک دوسرے کو غلط نام سے نہ پکارو۔ 4): بدگمانی، غیبت اور دوسروں کی جاسوسی نہ کرو

معیار فضیلت: سورۃ الحجرات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کو خود سے کم تر سمجھے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام قومی اور نسلی امتیازات پر ضرب لگا کر اس برائی کی جڑ کاٹ دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ سو تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ انسان کا قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہونا تعارف کے لیے ہے تفاخر کے لیے نہیں ہے۔

ایمان کی حقیقت کا بیان: سورت کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعویٰ نہیں بلکہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ماننا عملا فرماں بردار بن کر رہنا اور خلوص کے ساتھ اپنی جان اور مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں قربان کرنا ہے۔

ذخیرہ الفاظ

اِخْوَةٌبھائی
عَسٰۤىشاید
بِئْسَبہت بُرا ہے
لَا یَغْتَبْتم غیبت نہ کرو
لِتَعَارَفُوْاتاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو
تُرْحَمُوْنَتم پر رحم کیا جائے
لَا تَلْمِزُوْۤاایک دوسرے کو طعنہ نہ دو
الظَّنِّبدگمانی
لَحْمَگوشت
اَكْرَمَكُمْتم میں سے زیادہ عزت والا
لَا یَسْخَرْمذاق نہ اُڑائے
لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِتم ایک دوسرے کو برے القابات کے ساتھ نہ پکارو
لَا تَجَسَّسُوْاتم جاسوسی نہ کرو
شُعُوْبًاقومیں

آیات و ترجمہ

آیت 1
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ
آیت 2
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ
آیت 3
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
آیت 4
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ
آیت 5
وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
آیت 10
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ
آیت 11
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ
آیت 12
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ
آیت 13
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ

کثیرالانتخابی سوالات

حجرہ کا معنی ہے:
اسلام میں عزت و برتری کا معیار ہے:
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ میں تعلیم دی گئی ہے:
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ میں مسلمانوں کو دوسرے کا قرار دیا گیا ہے:
بنو تمیم کے وفد کے آمد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مصروف تھے:

مختصر سوالات

سُورَةُ الْحُجُرَاتِ کا شان نزول تحریر کریں۔˅
ایک دفعہ بنی تمیم کا وفد مدینہ منورہ آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک میں آرام فرما رہے تھے۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد تک انتظار کرنے کے بجائے باہر کھڑے ہو کر آوازیں دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے باہر کھڑے ہو کر بے ادبی سے پکارنے والوں کی مذمت کی ہے۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ کی روشنی میں دو معاشرتی آداب تحریر کریں۔˅
سورۃ الحجرات کی روشنی میں بیان کردہ معاشرتی آداب میں سے دو معاشرتی آداب: 1: سنی سنائی بات پر اس وقت یقین نہ کیا جائے جب تک پوری تحقیق اور تسلی نہ کر لی جائے۔ 2: مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ کا مرکزی موضوع بیان کریں۔˅
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ کا مرکزی موضوع بارگاہ رسالت میں حاضری کے آداب اور معاشرتی اصلاح ہے۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ کی روشنی میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے کوئی سے دو آداب تحریر کریں۔˅
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ کی ابتداء میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے آداب کی تعلیم دی گئی ہے۔۔۔ 1: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرمائیں تو آپ کی پیروی اور اتباع کی جائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مقابلہ میں کوئی مشورہ پیش نہ کیا جائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ 2: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آرام فرما رہے ہوں تو باہر سے آوازیں نہ دی جائیں بلکہ باہر آنے کا انتظار کیا جائے۔
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ میں مذکور کوئی سی دو معاشرتی برائیوں کو بیان کریں۔˅
سُورَةُ الْحُجُرَاتِ میں بیان کی گئی معاشرتی برائیوں میں سے دو کے نام ذیل میں درج ہیں۔ 1: کسی کو غلط نام سے نہ پکاریں۔ 2: دوسروں کی جاسوس نہ کریں۔