بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ الْمَآئِدَة

پارہ 6 آیات 120 رکوع 16 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ المائدۃ ہے۔ مقام نزول: یہ سورۃ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اس لیے مدنی سورت کہلاتی ہے۔

آیات بینات: اس سورت کی (120) ایک سو بیس آیات ہیں۔ رکوعات: اس سورت میں (16) سولہ رکوعات ہیں۔

زمانہ نزول: یہ سورۃ نبی کریمؐ کی حیات طیبہ کے آخر میں نازل ہوئی۔ علامہ ابو حیان فرماتے ہیں کہ اس کے کچھ حصے صلح حدیبیہ اور کچھ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئے۔

السبع الطوال: یہ سورت سات طویل ترین سورتوں میں سے ہے۔ اسی لیے اس سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو ان سات کو حاصل کرے گا یعنی ان میں بیان کردہ معلوم کو سیکھ لے گا وہ عظیم عالم بن جائے گا"۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام اس سورت کی آیت نمبر 112 سے ماخوذ ہے إِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَنْ يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ ۖ قَالَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ترجمہ "جب حواریوں نے کہا تھا اے عیسیٰ ابن مریم کیا آپ کا رب ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک دسترخوان اتار دے عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کی نافرمانی سے ڈرو اگر تم مومن ہو" اس آیت کی مناسبت سے اس سورت کا نام سورۃ المائدہ ہے۔

المائدہ کے معنی: المائدہ کے معنی دسترخوان کے ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت نے نزول مائدہ کا مطالبہ کیا تھا جس کی مناسبت سے اس سورت کو سورۃ المائدہ کہا جاتا ہے۔

سورت کا دوسرا نام: اس سورت کا ایک نام سُورَةُ الْعُقُودِ بھی ہے۔ عقود کے معنی "وعدے اور معاہدے کے" ہیں۔ اس سورت کی پہلی آیت میں اہل ایمان کو اپنے وعدے پورا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے اس کو سورۃ العقود بھی کہا جاتا ہے۔

فضیلت: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا "سورۃ المائدہ سب سے آخر میں نازل ہوئی لہذا اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو"۔

مرکزی موضوع: اس سورت کا مرکزی موضوع "یہود و نصاریٰ کے غلط عقائد کا بیان اور مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور شریعت اسلامیہ کے تمام احکام پر عمل کی ترغیب ہے"۔

مرکزی خیال

ایفائے عہد کی تلقین: سورۃ المائدہ کے آغاز میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو معاہدے پورا کرنے کی تاکید کی ہے۔

حرام اشیاء سے متعلق احکامات: اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورت میں مردار خون، خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا جائے اس کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح وہ جانور بھی حرام ٹھہرایا جائے گا جو گلا گھٹنے، چوٹ لگنے، کسی دوسرے جانور کا سینگ لگنے سے گر کر مر جائے یا وہ جانور جسے کوئی درندہ کھا لے، البتہ انہیں اگر پہلے ذبح کر لیا جائے تو ایسے جانوروں کا گوشت کھانا حلال ہوگا۔ بتوں کی قربان گاہ میں ذبح کیے جانے والے جانوروں کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔

اسلامی شریعت کا بنیادی اصول: حلال و حرام کی تفصیلات کا ذکر کرنے کے بعد ایک بنیادی اصول یہ بیان کیا گیا کہ وہ تمام چیزیں پاکیزہ اور حلال ہیں جن کو اسلامی شریعت نے حرام نہیں ٹھہرایا ہے۔

یہودی کا واقعہ: ایک یہودی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ اپنی کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں۔ اگر وہ آیت ہم یہودیوں کی کتاب میں نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن کو عید کا دن بنا لیتے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کون سی آیت؟ اس نے کہا کہ سورۃ المائدہ کی آیت نمبر تین ترجمہ “آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا” یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہم اس دن اور جگہ کو جانتے ہیں جب یہ آیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی یہ عرفہ کا دن تھا اور یہ مسلمانوں کے قریب عید کا دن ہی ہے۔

عظیم دن: یوم عرفہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ اس دن دین کی تکمیل ہوئی اور مسلمان اس دن عید مناتے ہیں۔

طہارت سے متعلق احکامات: اللہ رب العزت نے اس سورت میں طہارت سے متعلق وضو، غسل اور تیمم کے احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔

عدل و انصاف کا حکم: اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لیں اور کسی قوم کی دشمنی بھی انہیں ناانصافی پر آمادہ نہ کرے۔

عمل صالح پر اجر: اس سورت میں اللہ رب العزت نے عمل صالح اختیار کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔

کافروں کو دوزخ کی وعید: جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی قرآن مجید کی آیات بینات کو جھٹلایا تو ان کے لیے دوزخ کی وعید ہے۔

بنی اسرائیل کا تذکرہ: اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کے برے اعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اللہ رب العزت سے کیے ہوئے عہد کو توڑا کتاب اللہ میں تحریف کی۔ انبیاء کرام علیہم السلام اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔

یہودیوں پر لعنت: برے اعمال کی وجہ سے اللہ رب العزت نے یہودیوں پر لعنت فرمائی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔

مسیحیوں کے احوال: یہودیوں کے بعد عیسائیوں کے احوال کا تذکرہ ہوا ہے کہ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو فراموش کیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا۔ وہ خود کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور محبوب قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس طرح کے اعمال سے بچنے اور دین میں غلو سے گریز کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے “اور ان لوگوں سے جنہوں نے کہا بے شک ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی بہتر پختہ عہد لیا تو انہوں نے اس میں سے ایک بڑا حصہ بھلا دیا جس بات کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان کے درمیان روز قیامت تک دشمنی اور بغض ڈال دیا اور عنقریب اللہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کرتے ہیں” (المائدہ 14 آیت)

حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کی قربانی کا قصہ: سورۃ المائدہ میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کی قربانی کا قصہ ذکر کرتے ہوئے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقین کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اس قصے کے تناظر میں یہ قانون بھی ذکر فرمایا گیا ہے کہ جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے “اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں کا قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنا دیجیے جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو دونوں میں سے ایک ہابیل کی طرف سے قبول کی گئی اور دوسرے قابیل کی طرف سے قبول نہیں کی گئی قابیل نے کہا میں ضرور تجھے قتل کروں گا ہابیل نے کہا بے شک اللہ پرہیزگاروں کی طرف سے قبول فرماتا ہے”۔ (المائدہ 27 آیت)

سزاؤں کا بیان: اس سورت میں ڈاکہ زنی اور چوری کی سزا کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سورت میں بغاوت، فساد، ڈاکہ زنی اور چوری کی سزاؤں کا بیان بھی ہے۔ ڈاکہ زنی کی سزا یہ ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کو قتل کر دیا جائے، سولی چڑھا دیا جائے، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ان کو جلا وطن کر دیا جائے۔ جبکہ چوری کی سزا یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ یہ سزائیں اس لیے مقرر کی گئی ہیں کہ انسان ان سے عبرت حاصل کرے اور معاشرہ جرم سے پاک ہو جائے۔

قسم کے کفارہ کا بیان: قسم کے تین کفارہ کو بیان کیا گیا ہے۔ قسم کے کفارہ کے بیان میں ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، ایک غلام کو آزاد کرنا یا تین روزے رکھنا ہے۔

تکمیل دین کا تذکرہ: تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا دین ایک ہی ہے۔ لیکن اپنے اپنے وقت کے اعتبار سے ہر امت کے لیے معاشرتی احکام مختلف رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دین کی تکمیل کر دی گئی ہے۔ اور دین اسلام ہر اعتبار سے مکمل اور قیامت تک کے لیے قابل عمل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ “آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کیا ہے”۔ (المائدہ 3 آیت)

حق پرست اہل کتاب کا تذکرہ: سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ نے حق پرست اہل کتاب کا ذکر فرمایا ہے کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب کی آیات کو سنا تو ان کے دل نرم ہو گئے۔ وہ گریہ و زاری کرنے لگے اور حق کی شہادت دیتے ہوئے ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس رویے کی تعریف کرتے ہوئے انہیں جنت کا حقدار ٹھہرایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ “اور جب وہ اس قرآن کو سنتے ہیں جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نازل کیا گیا ہے تو آپ دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ وہ حق کی پہچان کر چکے ہیں۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے پس ہمیں حق کے گواہوں کے ساتھ لکھ لے”۔

انکار ایمان پر وعید: جن لوگوں نے ایمان لانے سے انکار کیا انہیں جہنم کی وعید بھی سنائی گئی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ “اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ جہنم والے ہیں”۔

یہودیوں اور عیسائیوں کو نصیحت: اس سورت میں یہودیوں کو ان کے غلط رویے پر متنبہ کیا گیا ہے اور انہیں راہ راست پر آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کو ان کے غلط عقائد کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔

ذخیرہ الفاظ

كُوْنُوْاتم ہو جاؤ
قَوّٰمِیْنَمضبوطی سے قائم رہنے والا
بِالْقِسْطِانصاف کے ساتھ
لَا یَجْرِمَنَّكُمْتمہیں ہرگز آمادہ نہ کرے
شَنَاٰنُدشمنی
اَقْرَبُزیادہ قریب
كَذَّبُوْاانھوں نے جھٹلایا
اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِجہنم والے
السَّارِقُچور مرد
السَّارِقَةُچور عورت
اَیْدِیَهُمَاان دونوں کے ہاتھ
نَكَالًاعبرت ناک سزا
مُصَدِّقًاتصدیق کرنے والی
مُهَیْمِنًانگران
شِرْعَةًشریعت
مِنْهَاجًاراستہ
تَرٰۤىآپ دیکھتے ہیں
اَعْیُنَهُمْان کی آنکھوں کو
تَفِیْضُبہہ رہی ہوتی ہیں
الدَّمْعِآنسو
فَاكْتُبْنَاپس ہمیں لکھ لے
نَطْمَعُہم توقع رکھتے ہیں
فَاَثَابَهُمُانہیں بدلے میں عطا فرمائے گا
الْاَنْهٰرُنہریں
الْمُحْسِنِیْنَنیکی کرنے والے

آیات و ترجمہ

آیت 8
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
آیت 9
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
آیت 10
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ
آیت 38
وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ
آیت 39
فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
آیت 40
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
آیت 48
وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًاؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ
آیت 49
وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ
آیت 83
وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ
آیت 84
وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ
آیت 85
فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ
آیت 86
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ

کثیرالانتخابی سوالات

سُورَةُ الْمَآئِدَةِ کا دوسرا نام ہے:
المائدۃ کا معنی ہے:
آسمان سے نزول مائدہ کا مطالبہ کیا گیا:
تکمیل دین اور اتمام نعمت کا ذکر ہے:
قیامت تک کے لیے قابل عمل شریعت ہے:

مختصر سوالات

سُورَةُ الْمَآئِدَةِ کی روشنی میں تکمیل دین کا تذکرہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔˅
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں اتمام نعمت اور تکمیل دین کا اعلان کیا گیا ہے، یعنی دین کے تمام ارکان، فرائض، سنن اور احکام و حدود بیان کر کے اس نعمت کو مکمل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا"
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں فساد فی الارض اور چوری کی کیا سزا بیان کی گئی ہے؟˅
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں فساد فی الارض کی سزا یہ ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں کو قتل کر دیا جائے، سولی چڑھا دیا جائے، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا ان کو جلاوطن کر دیا جائے۔ سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں چوری کی سزا یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سزا اس لیے مقرر کی ہیں کہ انسان ان سے عبرت حاصل کرے۔
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں کن جانوروں کا گوشت کھانا حرام قرار دیا گیا ہے؟˅
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ کے احکامات کے مطابق مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس جانور پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا جائے، کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح وہ جانور بھی حرام ٹھہرائے گئے ہیں جو گلا گھٹنے، چوٹ لگنے، کسی دوسرے جانور کا سینگ لگنے سے یا گر کر مر جائیں، یا وہ جانور جسے کوئی درندہ کھا لے۔ البتہ اگر انہیں مرنے سے پہلے ذبح کر لیا جائے تو ایسے جانور کا گوشت کھانا حلال ہے۔ بتوں کی قربان گاہ پر ذبح کیے جانے والے جانور بھی حرام قرار دیے گئے ہیں۔
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں مذکور خوشی اور برکت رزق کی دُعا کا ترجمہ تحریر کریں۔˅
ترجمہ: اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
سُورَةُ الْمَآئِدَةِ میں کس طرح مسلمانوں کے برے اعمال سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے؟˅
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے برے اعمال کا تذکرہ کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو توڑا، کتاب اللہ میں تحریف کی، اللہ تعالیٰ اور انبیائے کرام علیہم السلام کی نافرمانی کا ارتکاب کیا، ان برے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو اس طرح کے اعمال سے بچنے اور دین میں غلو سے گریز کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔