سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ النور ہے۔
آیات بینات کی تعداد: اس سورت میں آیات بینات کی تعداد (64) چونسٹھ ہے۔
رکوعات کی تعداد: اس سورت کے رکوعات کی تعداد (09) نو ہے۔ مقام نزول: اس سورت کا مقام نزول مدینہ منورہ ہے۔
زمانہ نزول: یہ سورۃ مدنی دور کے وسط میں نازل ہوئی۔
شان نزول: غزوہ بنو المصطلق سے واپسی پر منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خلاف بڑے کمینہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بے بنیاد تہمت لگائی اور اسے مدینہ منورہ میں بڑے پیمانے پر شہرت دی۔ جس سے کچھ مخلص مسلمان بھی متاثر ہو گئے۔ اس سورت کی آیات 11 تا 20 میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر لگائی گئی تہمت کی تردید میں نازل ہوئیں۔ جن میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عفت و پاکدامنی کی گواہی دی گئی اور تہمت لگانے جیسا گھناؤنا جرم کرنے والوں کو سخت عذاب کی وعیدیں سنائی گئیں۔ (آسان ترجمۃ القران)
وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام اس کی آیت نمبر 35 اللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ترجمہ "اللہ آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے" سے ماخوذ ہے۔
فضیلت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اپنے مردوں کو سورۃ المائدہ سکھاؤ اور اپنی عورتوں کو سورۃ النور سکھاؤ"۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں سورۃ البقرۃ، سورۃ النسآء، سورۃ المائدۃ، سورۃ الحج اور سورۃ النور سیکھو کیونکہ ان سورتوں میں فرض علوم بیان کیے گئے ہیں۔
مرکزی موضوع: سورۃ النور کا مرکزی "موضوع معاشرتی زندگی سے متعلق اداب کا بیان ہے"۔
سورت سے متعلق اہم واقعہ: غزوہ بنو المصطلق سے واپسی پر مسلمانوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایک ہار گم ہو گیا اور اس کی تلاش میں جنگل کی طرف نکل گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعے کا علم نہیں تھا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر روانہ ہونے کا حکم دے دیا اور جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا واپس آئیں تو قافلہ جا چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ذہانت اور تحمل کا غیر معمولی مقام عطا فرمایا تھا۔ پریشان ہو کر ادھر ادھر جانے کی بجائے اسی جگہ بیٹھ گئیں جہاں سے روانہ ہوئی تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان کے غیر موجودگی کا احساس ہو گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تلاش میں اسی جگہ یا تو خود تشریف لائیں گے یا کسی کو بھی بھیجیں گے۔ قافلوں کا ایک دستور یہ تھا کہ ایک شخص کو قافلے کے بالکل پیچھے اسی طرح رکھا جاتا تھا تاکہ قافلے کی روانگی کے بعد جو دیکھتا ہوا آئے کہ کوئی چیز گری پڑی تو نہیں رہ گئی۔ اس قافلے میں آپؐ نے حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام پر مقرر فرمایا تھا۔ وہ جب اس جگہ سے گزرے جہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں تو انہیں اس سانحہ کا علم ہوا، اور پھر انہوں نے اپنا اونٹ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پیش کیا۔
جس پر سوار ہو کر وہ مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ اس واقعے کو منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے ایک بتنگڑ بنا لیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تنہا صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سفر کیا ہے، اور اس کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر وہ گھناؤنی تہمت لگائی جسے زبان سے نکالنا بھی ایک غیرت مند مسلمان کے لیے مشکل ہے۔ عبداللہ بن ابی نے اس تہمت کو اتنی شہرت دی کہ تین سادہ لوح مسلمان بھی اس کے فریب میں آگئے اور اس طرح کئی دن تک یہ بے سرو پا باتیں لوگوں میں پھیلائی جاتی رہیں۔ بالآخر سورۃ النور کی آیت نمبر 11 تا 20 نازل ہوئیں۔ جن میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مکمل براءت ظاہر کرنے کے ساتھ ان لوگوں کے لیے سخت وعیدیں ہیں جو سازش کے کرتا دھرتا تھے۔
قانونی و تعزیری احکام: سورۃ النور کی ابتداء میں عفت و عصمت کی حفاظت کے متعلق اسلامی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ جن میں بدکاری کی سخت سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ زانی مرد اور عورت کے رویوں کی سنگینی کو بیان کر کے ان کے لیے سخت سے سخت سزا تجویز کی گئی ہے۔ اسی طرح پاک باز عورت پر تہمت لگانے کی سزا کو بیان کیا گیا ہے۔
لعان: شوہر کا اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگانے کی صورت میں ان کی علیحدگی کا طریقہ بیان کیا گیا ہے جسے لعان کہا جاتا ہے۔
واقعہ افک کا تذکرہ: اس سورۃ مبارکہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی براءت اور پاک دامنی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جس کو واقعہ افک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر جھوٹے الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ آنکھیں بند کر کے دوسروں کے خلاف تہمتیں قبول نہ کر لیا کرو اور نہ ان کو پھیلاتے پھرو بلکہ اگر اسی طرح کی افواہیں اڑ رہی ہوں تو انہیں دبانا اور ان کا سد باب کرنا چاہیے۔
معاشرتی آداب و احکام کا بیان: اس سورت میں معاشرتی احکام و آداب کو بھی بیان کیا گیا ہے۔
1): کسی کے گھر میں بغیر اجازت داخلے سے منع کیا گیا ہے البتہ مسافر خانے اور سرائے وغیرہ کو اس حکم سے استثناء حاصل ہے۔
2): کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کو بہترین دعا کہا گیا ہے۔
3): نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
4): عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنے شوہر، باپ، دادا، شوہر کے باپ، دادا، اپنے بیٹے، شوہر کے بیٹے، بھائی، بھتیجے، بھانجے، مسلمان عورتوں، باندیوں، نفسانی خواہش سے پاک مردوں اور چھوٹے بچوں کے سوا اپنی زیب و زینت کسی غیر محرم پر ظاہر نہ کریں۔
5): ایمان والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آرام کرنے کے تین مخصوص اوقات یعنی فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت اور عشاء کے بعد اہل خانہ کے پاس بغیر اجازت کے داخل نہیں ہونا چاہیے۔
6): مسلمانوں کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنے غیر شادی شدہ مردوں، عورتوں، غلاموں اور باندیوں کا نکاح کر دیا کرو تاکہ وہ برائی سے بچے رہیں۔
اللہ تعالیٰ کی نورانیت کا ذکر: اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے نورانیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اور نورانیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسے ہے جیسے ایک طاق میں چراغ ہو۔ چراغ ایک فانوس میں رکھا ہو۔ فانوس گویا ایک موتی جیسا ستارہ ہو۔ اور اس چراغ کو زیتون کا تیل روشن کرے۔ نورانیت کا عالم یہ ہے کہ بغیر شعلے کے خود ہی روشن ہو جائے یعنی نور ہی نور ہے۔ نورٌ عَلٰى نورٍ یعنی نور ہی نور
توحید کے دلائل: اس کائنات کا قادر مطلق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہر چیز اس کی تسبیح و حمد بیان کرتی ہے۔ لہذا انسانوں کو چاہیے کہ وہ بھی اسی قادر مطلق ذات پر ایمان لائیں۔ اسی کی عبادت و اطاعت کریں۔ اور اس کی عبادت و اطاعت میں کسی اور کو شریک کر کے اپنے آپ کو عذاب الہی کا مستحق نہ کریں۔
مسلمانوں اور کافروں کے اعمال کی تشبیہ: سورۃ النور میں مسلمانوں اور کافروں کے اعمال کی مثال دی گئی ہے کہ مسلمان کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں ہوتے اور قیامت کے دن کا خوف رکھتے ہیں۔ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جبکہ کافروں کے اعمال سراب یعنی کہ ریت کی مانند ہیں کہ دور سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پانی ہے مگر قریب جانے پر کچھ نظر نہیں آتا۔
منافقین کا طرز عمل: سورۃ النور میں منافقین کے طرز عمل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ۔
1): منافقین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فیصلوں سے روگردانی کرتے ہیں۔
2): جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوتے ہیں تو آنکھیں چرا کے نکل جاتے ہیں۔
3): جب کسی معاملہ میں فیصلہ ان کے خلاف آئے تو انکار کرتے ہیں اور جب حق میں آئے تو خوش ہوتے ہیں۔
4): منافقین قسمیں کھا کھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے دل کی کیفیت کو جانتا ہے۔
5): دنیا و آخرت کی کامیابی انہی لوگوں کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں اور روگردانی کرنے والوں کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔
اہل ایمان کا طرز عمل: سورۃ النور میں اہل ایمان کا طرز عمل بیان کیا گیا ہے کہ۔۔۔
1): اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے فیصلوں کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔ 2): آداب مجلس کا خیال کرتے ہیں۔
3): آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں۔ 4): آپؐ کو اس طرح نہیں بلاتے جس طرح آپس میں دوسرے کو بلاتے ہیں۔
خلافت ارضی کی بشارت: اس سورت میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت واضح الفاظ میں زمین کی خلافت کی بشارت دی گئی ہے کہ تمہارے مخالفین اور دین کے دشمن تمہارے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ تم نماز کا اہتمام رکھو، زکوۃ ادا کرتے رہو اور پوری استقامت کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر جمے رہو جلد وہ وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا۔
آداب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم: اس سورت میں لوگوں کو بارگاہ رسالت مآبؐ کے آداب سے آگاہ کیا گیا ہے اور انہیں جزا و ایمان بنا دیا گیا ہے۔
1): آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانا ہو تو بلند آواز سے نہ پکارو۔ 2): آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی نہ پکارو۔
3): آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بلند آواز سے بات نہ کرو۔ 4): مجلس میں بلایا گیا ہو تو بلا اجازت اٹھ کے نہ جاؤ۔ غرض تم سے دانستہ کوئی ایسی حرکت بھی نہ ہونے پائے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں گزرے۔
حسن معاشرت کی تعلیم: حسن معاشرت کے حوالے سے حکم دیا گیا ہے کہ ہم دوسروں سے حسن سلوک کریں تو اس بات کو نہ دیکھیں کہ وہ ہمیں کیا صلہ دیتا ہے بلکہ اس کے طرز عمل کو ذہن میں رکھے بغیر اس کے ساتھ احسان کا رویہ رکھیں۔ اس سلسلے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے عزیز مسطح بن اثاثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
کفار کو تنبیہ: سورۃ مبارکہ کی آیت نمبر (57) ستاون میں حکم فرمایا گیا ہے کہ کافر اس خوش فہمی میں مبتلا نہ رہیں کہ اپنی سازشوں اور جتھے بندیوں سے مسلمانوں کو عاجز کر دیں گے بلکہ شکست اور فرار ان کا مقدر ہو گی۔ یہ بات کافروں کے کان کھول دینے والی ہے۔
مسلمانوں کو تسلی: اس سورت مبارکہ میں مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے گئے ہیں کہ کافروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہ مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
بے حیائی پھیلانے پر عذاب کی وعید: اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (19) وہ لوگ جو چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بُرا چرچا پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
معاشرتی زندگی کے اہم اُصول: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَاؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (27) اے ایمان والو اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک اجازت نہ لے لو اور اُن کے ساکنوں پر سلام نہ کر لو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم دھیان کرو۔
آداب بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًاؕ (63) ترجمہ: رسول کے پکارنے کو آپس میں ایسا نہ ٹھہرا لو جیسا تم میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔