سورت کا نام: سورت کا نام سورۃ النسآء ہے۔ مقام نزول: سورۃ النسآء کا نزول مدینہ منورہ میں ہوا۔
آیات بینات: سورۃ النسآء میں (176) ایک سو چھہتر آیات بینات ہیں۔ رکوعات: اس سورت میں (24) چوبیس رکوعات ہیں۔
زمانہ نزول: یہ سورت ہجرت مدینہ کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی۔
السبع الطوال: یہ سورۃ ان سورتوں میں سے ہے جن کو السبع الطوال یعنی قرآن پاک کی سات طویل ترین سورتیں کہا جاتا ہے۔ تمام السبع الطوال یعنی قرآن المجید کی سات طویل ترین سورتیں (سُورَةُ الْبَقَرَةِ، سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ، سُورَةُ النِّسَاءِ، سُورَةُ الْمَائِدَةِ، سُورَةُ الْأَنْعَامِ، سُورَةُ الْأَعْرَافِ اور سُورَةُ التَّوْبَةِ) ہیں۔
خصوصیت: یہ سورت سورۃ البقرہ کے بعد طویل ترین سورت ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت میں عورتوں کے حقوق کے متعلق احکامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سُورَةُ النِّسَاءِ رکھا گیا۔
موضوعات: اس سورت میں غزوہ احد کے شہداء کی وراثت، ان کی بیوہ عورتوں اور ان کے یتیم بچوں کی کفالت کے مسائل کا تذکرہ ہوا ہے۔
فضیلت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے السبع الطوال کے بارے میں فرمایا "یہ مجھے تورات کے بدلے میں عطا فرمائی گئی ہیں"
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاوت کا اثر: حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ الہ صحابہ وسلم میں آپ کو پڑھ کر سناؤں جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تو قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سناؤ انہوں نے سُورَةُ النِّسَاءِ کی آیات تلاوت کیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بس کرو فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَاءِ شَهِیْدًا ترجمہ "تو اس دن کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے نبی ہم آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے"۔ اس آیت کو پڑھنے کے بعد جب میں نے آپ کو دیکھا تو نبی کریم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
شان نزول: قبیلہ بنو غطفان کے ایک شخص کا بھائی جو بہت امیر تھا۔ جب وہ فوت ہو گیا تو اس کا مال اور یتیم بچہ اس کے بھائی کی زیر نگرانی آ گیا۔ تو جب وہ بچہ بالغ ہو گیا اور اس نے آکر اپنے چچا سے وہ مال مانگا تو اس نے انکار کر دیا۔ پھر جب اس بچے نے یہ مسئلہ بارگاہ رسالت میں پیش کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ترجمہ "اور یتیموں کو ان کے مال ادا کرو اور اپنی ردی چیز کو ان کی عمدہ چیزوں سے نہ بدلو اور ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے"۔
مرکزی موضوع: سورۃ النسآء میں "حقوق اللہ، حقوق العباد، تقویٰ کی اہمیت، عورتوں کے حقوق، اہل کتاب اور منافقین کے رویوں کی مذمت، غزوہ بدر و احد اور سماجی زندگی کی اصلاح سے متعلق احکام بیان کیے گئے ہیں"۔
حقوق اللہ کا بیان: سورۃ النسآء میں حقوق اللہ کے ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر عمل کو اخلاص کے ساتھ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
حقوق العباد کا تذکرہ: سورۃ النسآء میں حقوق العباد کے ضمن میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، ہمسایوں اور مسافروں وغیرہ کے حقوق ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
شرک اور ریاکاری سے متعلق تاکید: اس سورت میں شرک سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہر عمل میں اخلاص اختیار کرنے اور ریاکاری سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اہم ترین حق: حقوق اللہ میں سے اہم ترین حق نماز کی ادائیگی ہے۔
نماز سے متعلق احکام: ترجمہ: یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقت میں فرض کی گئی ہے۔ اس سورت میں سفر، خوف اور حالت مرض میں نماز کے متعلق احکام تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ سفر میں نماز قصر کی جاسکتی ہے، اور اگر دشمن کے خوف کی حالت ہو تو “نمازِ خوف” کے طریقے کے مطابق دو گروہوں میں باری باری نماز ادا کی جائے، تاکہ ایک گروہ نماز پڑھے اور دوسرا حفاظت کرے۔ سفر میں نماز قصر کی اجازت ہے، اور اگر دشمن کا خوف ہو تو مزید آسانی دی گئی ہے۔ حکم: یہ رعایت رحمت و آسانی کے لیے ہے، نہ کہ نماز کو چھوڑنے کا بہانہ۔
سماجی اور شرعی ضروریات: سماجی اور شرعی ضروریات کے حوالے سے بھی مختلف ہدایات کی تعلیمات دی گئی ہیں۔ سورۃ النسآء ایک مدنی سورت ہے اور اس میں معاشرتی، خاندانی، اور شرعی قوانین بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں، خاص طور پر عورتوں، یتیموں، وراثت، نکاح، عدل اور عدالتی امور کے بارے میں۔ یتیموں کے حقوق کی حفاظت، یتیموں کا مال ناحق نہ کھانا، ان کی پرورش اور بالغ ہونے پر مال لوٹا دینا، عورتوں پر ظلم نہ کرنا اور انہیں وراثت میں زبردستی قبضہ نہ کرنا، عدل و انصاف کا قیام، یتیم لڑکیوں کے نکاح میں انصاف، معاشرت میں خیر خواہی اور بھائی چارہ جیسے احکامات کی تعلیمات دی گئیں۔
نشہ کی ممانعت: اس سورت کی تعلیمات میں نشہ کی ممانعت کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔
تیمم کا طریقہ: اس سورت میں تیمم کرنے کا مکمل طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ (جب پانی موجود نہ ہو، یا پانی کا استعمال بیماری یا نقصان کا سبب بنے، تو پاک مٹی یا مٹی کی جنس والی چیز سے وضو یا غسل کے بدلے طہارت حاصل کرنا تیمم کہلاتا ہے)۔
تیمم کا مکمل طریقہ: دل میں نیت کرنا، بسم اللہ پڑھنا، دونوں ہاتھ پاک مٹی یا مٹی کی جنس والی چیز (جیسے مٹی، پتھر، ریت، اینٹ وغیرہ) پر ایک مرتبہ ماریں، ہاتھوں کو ہلکا سا جھاڑ لیں تاکہ زیادہ گرد نہ رہے، دونوں ہاتھوں سے پورا چہرہ ایک مرتبہ مسح کریں، دوبارہ دونوں ہاتھ مٹی پر ماریں اور جھاڑ لیں، پہلے دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت، پھر بائیں ہاتھ کو کہنی سمیت مسح کریں۔
تیمم کے فرائض: پورے چہرے کا مسح کرنا، دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح۔
جامع ہدایات: اس سورت میں انسانی جان کی حفاظت کے لیے قتل ناحق، قتل خطاء کا کفارہ اور دیت، خود کشی کی ممانعت جیسی جامع ہدایات فراہم کی گئی ہیں۔
مہاجرین کی فضیلت: سورۃ النسآء میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے زمین میں بہت سی پناہ گاہیں، کشادگی اور رزق کے مواقع پیدا فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہجرت کے راستے میں وفات پا جائے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی خاطر ہجرت کرنا بہت بڑی عبادت اور عظیم فضیلت کا عمل ہے۔
ہجرت کی فضیلت: جہاد کے فرض ہونے سے پہلے سب سے بڑا عمل ہجرت تھا۔ اس سورت میں ہجرت کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ سورۂ النسآء میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کے لیے ہجرت کرنے والوں کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ خصوصاً آیات 97 تا 100 تک۔ ہجرت نہ کرنے پر تنبیہ، ہجرت کرنے والوں کے لیے وسیع رزق اور پناہ، راستے میں وفات پر بھی کامل اجر۔ سورۂ النسآء میں مہاجرین کی فضیلت یہ بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر ہجرت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے زمین میں وسعت، بہتر رہائش اور رزق کے مواقع پیدا فرماتا ہے، اور اگر وہ ہجرت کے دوران وفات پا جائیں تو ان کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (سورۃ النسآء: 97–100)
سچی گواہی: معاشرتی معاملات میں انسان کے ذمہ دارانہ کردار کے حوالے سے سچی گواہی دینے پر زور دیا گیا ہے۔ سورۂ النسآء کی آیت 135 میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ مسلمان ہر حال میں انصاف پر قائم رہیں اور اللہ کے لیے سچی گواہی دیں، خواہ وہ اپنے، اپنے والدین یا قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ گواہی دیتے وقت کسی قسم کی جانب داری یا خواہشِ نفس کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔
اہل کتاب و منافقین کی مذمت: اہل کتاب منافقین کے غیر ذمہ دارانہ اور غلط رویوں مثلاً تحریف کتاب، اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنے، جہاد فی سبیل اللہ سے راہ فرار اختیار کرنے، موت سے ڈرنے اور مسلمانوں کو راہ راست سے ہٹانے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔
مستحق لعنت: اس سورت میں تحریف کتاب اور منافقین کو لعنت کا مستحق ٹھہرایا گیا ہے۔
عورتوں کے حقوق: اس سورت میں عورتوں کے حقوق ادا کرنے اور ان سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورۂ النسآء میں عورتوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ مردوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، ان کے مہر ادا کریں، ان کے وراثتی اور دیگر شرعی حقوق کا احترام کریں اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہ کریں۔ (سورۃ النسآء: 4، 19)
حق مہر کی ادائیگی کا حکم: اس سورت میں عورت کے لیے خصوصاً نکاح کے وقت حق مہر کی ادائی کا حکم مرد کو دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے “اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو پھر اگر وہ اپنی خوشی سے تمھارے لیے اس میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیں تو اسے خوشگوار سمجھ کر مزے سے کھاؤ”۔
حسن معاشرت کی تاکید: اس سورت میں ازدواجی زندگی میں حسن معاشرت کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۂ النسآء میں ازدواجی زندگی میں حسنِ معاشرت کی تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، ان کے حقوق ادا کریں، صبر و برداشت سے کام لیں اور محبت، احترام اور عدل کے ساتھ ازدواجی زندگی گزاریں۔ (سورۃ النسآء: 19)
وراثت میں خواتین کا حصہ: سورۂ النسآء میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام تفصیل سے بیان کیے ہیں اور خواتین کو بھی وراثت میں باقاعدہ اور مقررہ حصہ عطا کیا ہے۔ اسلام سے پہلے عورتوں کو عموماً وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا، لیکن قرآنِ کریم نے ان کے حق کو محفوظ کیا اور اس کی واضح وضاحت فرمائی۔ سورۂ النسآء میں خواتین کو وراثت میں مقررہ اور لازمی حصہ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جس طرح مردوں کا وراثت میں حق ہے، اسی طرح عورتوں کا بھی حق ہے، اور ان کے حصوں کی تفصیل سورۂ النسآء کی آیات 7، 11، 12 اور 176 میں بیان کی گئی ہے۔
رشتوں کی وضاحت: سورۂ النسآء میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ کن خواتین سے نکاح حرام ہے اور کن سے نکاح جائز ہے۔ اس سورت میں محرم رشتوں کی تفصیل بیان کر کے خاندانی نظام کی پاکیزگی، عزت اور معاشرتی نظم کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ (تم پر تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھائی کی بیٹیاں، بہن کی بیٹیاں، دودھ پلانے والی مائیں، رضاعی بہنیں، ساسیں، تمہاری پرورش میں رہنے والی بیویوں کی بیٹیاں (بعض شرائط کے ساتھ)، تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں، اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا حرام کر دیا گیا ہے)۔
عورتوں پر ذمہ داریاں: سورۂ النسآء میں جہاں عورتوں کے حقوق کو واضح کیا گیا ہے، وہیں ان پر بعض اخلاقی اور خاندانی ذمہ داریاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ نیک عورتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرنے والی، اپنے شوہروں کے حقوق کا خیال رکھنے والی اور ان کی غیر موجودگی میں اپنی عزت و آبرو اور گھر کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ ترجمہ: “پس نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں اور اللہ کی حفاظت کی وجہ سے شوہروں کی غیر موجودگی میں (ان کے حقوق، اپنی عزت اور امانتوں کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں”۔
احکام وراثت: سورۂ النسآء میں وراثت کی تقسیم کے جامع احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے والدین، اولاد، شوہر، بیوی، بہن بھائی اور دیگر وارثوں کے مقررہ حصے واضح کر دیے ہیں تاکہ ہر حق دار کو اس کا حق ملے اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم رہے۔ (سورۂ النسآء: 11، 12، 176)۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے “یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ” ترجمہ “اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے (کہ وراثت اس طرح تقسیم کی جائے)”۔
یتیموں کے حقوق: سورۂ النسآء میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے حقوق کی حفاظت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یتیموں کا مال انہیں واپس کریں، ان کے مال میں خیانت نہ کریں اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔ یتیموں کا مال ناحق کھانا بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
یتیموں کے مال کی حفاظت کے متعلق بیان: اس سورت میں یتیموں کے اموال کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یتیم کے مال کو اپنے مال سے ملا کر کھانے کی ممانعت کی گئی ہے۔ یہ تاکید کی گئی ہے کہ مال بے جا استعمال نہ کیا جائے۔ اسے ضائع نہ کیا جائے اور نہ ہی کمسنی میں ان کے حوالے کیا جائے۔ بلکہ جب وہ سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ جائیں تو مکمل دیانتداری سے ان کا تمام مال ان کے حوالے کر دیا جائے۔
اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم: سورۂ النسآء میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ﷺ اور اپنے اولی الامر (جائز حاکم) کی اطاعت کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، اور آپ ﷺ کے فیصلوں کو دل و جان سے قبول کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ (سورۃ النسآء: 80) ترجمہ: “جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے یقیناً اللہ کی اطاعت کی”۔
پر جلال انداز میں قسم اٹھانا: فَلَا وَ رَبِّكَ اے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیرے رب کی قسم کے پر جلال الفاظ میں قسم اٹھا کر بتایا کہ کوئی شخص بھی مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فیصلے کو قبول کرنا چاہیے بے شک وہ خلاف ہی کیوں نہ ہو قبول کرے۔