بارہویں جماعت کے لیے

سورۃ الْأَحْزَاب

پارہ 21 آیات 73 رکوع 9 مدنی

تعارف

سورت کا نام: اس سورت کا نام سورۃ الاحزاب ہے۔

مقام نزول: سورۃ الاحزاب مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔

آیات بینات: اس سورت کی آیات کی تعداد (73) تہتر ہیں۔

رکوعات: سورۃ الاحزاب کے رکوعات کی تعداد (09) نو ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ الاحزاب پانچ ہجری میں نازل ہوئی۔ جب کنانہ اور غطفان وغیرہ کے 10 ہزار افراد نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔

وجہ تسمیہ: احزاب حزب کی جمع ہے۔ جس کا معنی گروہ اور لشکر کے ہیں۔ اس سورت میں غزوہ احزاب کا تذکرہ ہے۔ اسی وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ الاحزاب رکھا گیا ہے۔ الاحزاب کا لفظ اس سورت کی آیت نمبر بیس میں موجود ہے۔

پس منظر: اس سورت میں غزوہ احزاب یعنی کہ غزوہ خندق کے حالات و واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ غزوہ ہجرت کے پانچویں سال ہوا۔ یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا مشترکہ حملہ تھا جو مسلمانوں کی ابھرتی ہوئی طاقت کو کچلنے کے لیے کیا گیا۔ مسلمانوں نے اس غزوہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مشورے سے خندق کھود کر مدینہ منورہ کا دفاع کیا۔ اس وجہ سے اس کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔

غزوہ بنو قریظہ کا واقعہ: دوسرا اہم واقعہ غزوہ بنو قریظہ کا ہے۔ بنو قریظہ یہود کا ایک قبیلہ تھا۔ جو مدینہ منورہ کے مضافات میں آباد تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ سے معاہدہ کیا ہوا تھا کہ مسلمان اور یہودی ایک دوسرے کے دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے لیکن غزوہ احزاب کے موقع پر یہود نے اس معاہدے کے خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ غزوہ احزاب کے فوراً بعد بنو قریظہ پر حملہ کر کے ان کا قلعہ فتح فرمائیں۔

مرکزی موضوع: سورۃ الاحزاب میں "غزوہ خندق کے احوال منافقین کی عہد شکنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت اطہار کے فضائل و خصائص کے ساتھ ساتھ عرب کی جاہلانہ رسم و رواج کے متعلق اسلامی احکام کی تفصیل اس سورت کا مرکزی موضوع ہیں"۔

مرکزی خیال

ظہار اور متبنی کے حوالے سے ہدایات: سورۃ الاحزاب کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل عرب کے جاہلانہ طریقے ظہار اور متبنی کے حوالے سے ہدایات عطا فرمائی ہیں۔

ظہار کا تذکرہ: ظہار سے مراد کسی مرد کا اپنی بیوی کو ماں، بہن یا کسی بھی محرم جیسا کہہ کر جدا کرنا ہے۔ جاہلیت میں اسے ایک طرح سے طلاق تصور کیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن سے تم ظہار کرتے ہو اسے تمہاری حقیقی ماں نہیں بنایا۔

متبنیٰ کا تذکرہ: متبنیٰ سے مراد منہ بولا بیٹا ہے۔ عرب کے لوگ جس بچے کو متبنیٰ بنا لیتے تھے وہ بالکل ان کی حقیقی اولاد کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ اسے وراثت ملتی تھی۔ اسلام نے منہ بولے بیٹے کو عزت و وقار ضرور دیا ہے۔ لیکن سماجی معاملات میں غیر محرم کی حیثیت دی ہے۔ اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہر فرد کو اس کے اصل والوں کی طرف منسوب کیا جائے والد کا علم نہ ہونے کی صورت میں دینی بھائی قرار دیا جائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلقین: نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو احکام شریعت پر ڈٹے رہنے اور کفار و منافقین کے دباؤ کو قبول نہ کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔

غزوہ احزاب اور غزوہ بنو قریظہ کا ذکر: اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے دو اہم واقعات غزوہ احزاب اور غزوہ بنو قریظہ پر روشنی ڈالی گئی ہے رکوع دوم اور سوم میں غزوہ احزاب اور بنو قریظہ پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔

شرعی احکام کا بیان: اس سورت میں بہت سے شرعی احکام کو بیان کیا گیا ہے۔

میراث کی تقسیم: میراث کی تقسیم رشتہ کی بنیاد پر ہو گی نہ کہ اس اسلامی بھائی چارہ کی بنیاد پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات کی صورت میں قائم فرمایا تھا۔

حجاب کا حکم: اس سورت میں عورتوں کے لیے حجاب کا حکم دیا گیا ہے کہ جب گھر سے نکلیں تو اپنے جسم پر چادر ڈال کر نکلا کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے اے نبی مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنی ازواج مطہرات سے فرما دیں، اپنی صاحبزادیوں سے اور مومنوں کی عورتوں سے کہ وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ یہ اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے۔

زمانہ جاہلیت کی رسموں کا خاتمہ: اس کے ساتھ ساتھ زمانہ جاہلیت کے رسموں کو ختم کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ماں سے تشبیہ دے دیتا تو وہ ہمیشہ کے لیے اس پر حرام ہو جاتی اور وہ گویا ماں کے درجے میں آجاتی۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی شخص کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لیتا تو اس کی بیوی کو حقیقی بہو سمجھتے ہوئے محرم قرار دیا جاتا تھا۔ اس رسم کو ختم کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مطلقہ حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس واقعہ کو منافقین نے غلط فہمی اور بدگمانی پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیا تو ان کی تردید کی گئی۔

بارگاہ رسالت مآب میں حاضری کے آداب: اس سورت مبارکہ میں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے آداب سکھائے گئے ہیں۔ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے چیزیں طلب کرنے کا سلیقہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کھانے کی دعوت میں شرکت کے آداب وغیرہ بھی بیان کیے گئے ہیں۔

ازواج مطہرات کی عظمت کا بیان: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو مومنین کی مائیں قرار دے کر ازواج مطہرات کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ الاحزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کو قناعت و توکل پر ہی قائم رہنا چاہیے کیونکہ وہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ہونے کا جو شرف عطا کیا گیا ہے۔ یہ خود بہت بڑا اعزاز ہے۔

اہل بیت اطہار کی عظمت و رفعت کا مقام: سورۃ الاحزاب میں اہل بیت اطہار کے متعلق بیان آیا ہے۔ جب اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی پاکیزگی سے متعلق آیت نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ، حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے۔ آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا۔ پھر فرمایا “اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں پوری طرح پاک و صاف کر دے”۔

مرد و عورت میں مساوات: اسلام میں بحیثیت انسان مرد و عورت میں کوئی امتیاز نہیں ہے۔ دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں اہمیت کے حامل ہیں۔ دونوں کے حقوق و فرائض کی ادائیگی کے اہتمام کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں خصوصاً سماج اور معاشرہ کا حسن باقی رہتا ہے۔ اس سورت میں متعدد اوصاف حمیدہ کو بھی بیان کر کے واضح کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت میں جو بھی ان صفات کا حامل ہو گا اس کو اس کا پورا پورا اجر عطا کیا جائے گا۔ اس ضمن میں مرد و عورت میں کوئی امتیاز نہیں ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصی فضائل کا بیان: آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوصی فضائل کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منصبی ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔

آپؐ کی صفات عالیہ کا تذکرہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سورۃ الاحزاب میں چند ایک صفات بیان کی گئی ہیں۔۔۔۔

شاہدا: شاہد کا معنی گواہ کے ہیں۔ آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور سچے دین کے گواہ ہیں۔

مبشرا: مبشر کے معنی خوشخبری دینے والے کے ہیں۔ یعنی اہل ایمان کو اچھے اعمال اور اطاعت و فرمانبرداری کی بدولت اچھے انجام یعنی جنت کی خوشخبری سنانے والے ہیں۔

نذیرا: نذیر کے معنی ڈر سنانے والے کے ہیں یا ڈرانے والے کے ہیں۔ یعنی آپؐ کفار و مشرکین کو ان کے کفر کے برے انجام یعنی جہنم کی وعید سنانے والے ہیں۔

داعیا الی اللہ: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔

سراجا منیرا: سراج منیر سے مراد آپؐ روشن چراغ یعنی نبیؐ علم و حکمت کے نور سے منور ہیں۔ لوگوں کو کفر کی تاریکیوں سے نکال کر صراط مستقیم کی طرف لانے والے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تذکرہ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اہم خصوصیت یا خاصیت خاتم النبیین ہونا ہے۔ اس سورت میں واضح فرما دیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کسی بھی معنی اور صورت میں کوئی نبی نہیں آسکتا۔ حتی کہ قرب قیامت جب حضرت عیسیٰ علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام آئیں گے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں گے یعنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نکاح کا خصوصی ضابطہ: سورۃ الاحزاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح کا خاص ضابطہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان متعدد پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ جو ازدواجی زندگی کے معاملہ میں عام مسلمانوں پر عائد کی گئی ہیں۔

تبلیغ دین جاری رکھنے کا حکم: ان صفات کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے تبلیغ دین کرتے رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا “اور آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے اور ان کی ایذاء رسانی کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اللہ ہی کارساز کافی ہے”۔

توکل کی تلقین: سورۃ الاحزاب میں اہل ایمان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آجائے تو اس پر سر تسلیم خم کر دیں اور اسی پر کامل بھروسہ رکھیں۔

نبی کریمؐ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم: سورۃ الاحزاب میں اہل ایمان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی اپنی اپنی شان کے مطابق درود بھیجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنے سے مراد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل کرنا ہے اور فرشتوں کے درود بھیجنے سے مراد ان رحمتوں کے نزول کی درخواست کرنا ہے۔

تقویٰ کی تاکید: سورۃ الاحزاب کے آخر میں اہل ایمان کو جن چیزوں پر زیادہ توجہ دینے کی تاکید کی گئی ہے ان میں سے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ڈر سے ممنوع کاموں سے باز رہنا۔

سچ بولنے کی اہمیت: سورۃ الاحزاب میں سچ بولنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے ہر معاملے میں سچ بولتا ہے اور سیدھی سیدھی بات کرتا ہے تو وہ نجات پاتا ہے۔ اگر انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہو جائے اور وہ اپنے قول و عمل میں تضاد ختم کر دے تو ہر قدم درست منزل کی طرف اٹھتا ہے۔ اور اگر کوئی کوتاہی سرزد ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرما لیتا ہے۔

بہترین عملی نمونہ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًا (21 سورۃ الاحزاب) بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے اس کے لیے کہ اللہ اور پچھلے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرے۔

درود شریف پڑھنے کا حکم: اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (سورۃ الاحزاب 56) بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

عقیدہ ختم نبوت: مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا (سورۃ الاحزاب 40) محمد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

ذخیرہ الفاظ

مِّنْ رِّجَالِكُمْتمہارے مردوں میں سے
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَآخری نبی، خاتم النبیین
بُكْرَةًصبح
اَصِیْلًاشام
یُصَلِّیْوہ رحمت نازل فرماتا ہے
الظُّلُمٰتِاندھیرے
تَحِیَّتُهُمْان کا استقبال ہو گا
اَرْسَلْنٰكَہم نے آپ کو بھیجا
مُبَشِّرًاخوشخبری سنانے والا
نَذِیْرًاڈرانے والا
بِاِذْنِهٖاس کے حکم سے
سِرَاجًا مُّنِیْرًاروشن چراغ
دَعْپرواہ نہ کریں
اَذٰىهُمْان کی ایذاء رسانی کو
صَلُّوْاتم بھی درود بھیجو
سَلِّمُوْاسلام بھیجو
یُؤْذُوْنَاذیت پہنچاتے ہیں
مُّهِیْنًاذلت والا
احْتَمَلُوْاانھوں نے بوجھ اُٹھایا
اِثْمًا مُّبِیْنًاواضح گناہ

آیات و ترجمہ

آیت 35
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىِٕمِیْنَ وَ الصَّآىِٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذَّاكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا
آیت 36
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًا
آیت 40
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا
آیت 41
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًا
آیت 42
وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا
آیت 43
هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا
آیت 44
تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌۚ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا
آیت 45
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا
آیت 46
وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا
آیت 47
وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا
آیت 48
وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا
آیت 56
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىِٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
آیت 57
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا
آیت 58
وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا
آیت 59
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا
آیت 70
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا
آیت 71
یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا

کثیرالانتخابی سوالات

سورۃ الاحزاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہم خصوصیت کا ذکر ہے:
غزوہ احزاب کا دوسرا نام ہے:
اہل ایمان کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے:
حِزْبٌ کا معنی ہے:
غزوہ احزاب میں کن کے مشورہ سے خندق کھودی گئی:

مختصر سوالات

سُورَةُ الْأَحْزَابِ کا تعارف پیش کریں۔˅
سُورَةُ الْأَحْزَابِ مدنی سورت ہے، اس میں نو (09) رکوع اور تہتر (73) آیات ہیں۔ اَحْزَاب لفظ حِزْبٌ کی جمع ہے جس کا معنی گروہ اور لشکر کے ہیں۔ اس میں غزوہ احزاب کا تذکرہ ہے، اس وجہ سے اس کو سُورَةُ الْأَحْزَابِ کہا جاتا ہے۔
ظہار سے کیا مراد ہے؟˅
ظہار سے مراد کسی مرد کا اپنی بیوی کو ماں بہن یا کسی بھی محرم عورت جیسا کہہ کر جدا کر دینا ہے۔
اہل بیت اطہار کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث کا ترجمہ لکھیں۔˅
آپ ﷺ نے فرمایا "اے اللہ تعالیٰ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں ان سے ناپاکی دور کر دے اور جو انہیں پوری طرح پاک و صاف کر دے" (جامع ترمذی: 3205)
سُورَةُ الْأَحْزَابِ کی روشنی میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کو مختصراً بیان کریں۔˅
سورت مبارکہ کے اندر اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کسی بھی معنی اور صورت میں کوئی نبی نہیں آسکتا حتیٰ کہ قرب قیامت جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے، تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں گے۔ اس سورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں ایک اعلیٰ خصوصیت خاتم النبیین ہونا بھی ہے۔
سُورَةُ الْأَحْزَابِ میں حضور اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی کیا شان بیان کی گئی ہے؟˅
اس سورت مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کو قناعت اور توکل پر ہی قائم رہنا چاہیے کیونکہ وہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں ہونے کا جو شرف عطا کیا گیا ہے، یہ خود ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔