دہم جماعت کے لیے

سورۃ الأنعام

پارہ 07 آیات 165 رکوع 20 مکی

تعارف

اس سورت کا نام سورۃ الأنعام ہے۔

پارہ نمبر

اس سورت کا پارہ نمبر 07 ہے۔

سورت نمبر

سورۃ الأنعام قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 06 نمبر کی سورت ہے۔

مقام نزول

سورۃ الأنعام کا مقامِ نزول مکی ہے۔

آیات بینات

اس سورت میں (165) ایک سو پینسٹھ آیات ہیں۔

رکوعات

اس سورت میں (20) بیس رکوعات ہیں۔

وجہ تسمیہ

سورت کی آیت نمبر ایک سو چھتیس میں الْأَنْعَامِ کا لفظ مذکور ہے جو "نَعَمٌ" کی جمع ہے، جس کے معنی "مویشی" ہیں اسی لیے اس کا نام سورت الانعام رکھا گیا ہے۔

مشرکین کے نظریات کی تردید

اس سورت میں مشرکین کے نظریات کی تردید کی گئی ہے جو جانوروں اور مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور انھوں نے خود ساختہ عقائد سے چند جانور اپنے لیے حلال اور چند حرام قرار دے رکھے تھے۔

فضیلت

یہ سورت قرآن مجید کی ابتدائی سات سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جس نے یہ ابتدائی سورتیں پالیں وہ ایک بڑا عالم ہے"۔

مرکزی خیال

اس سورت کا مرکزی موضوع “توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام کا بیان” ہے۔

اہم مضامین

بنیادی عقائد کا بیان
اس سورت میں اسلام کے بنیادی عقائد کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ توحید کے ایسے دلائل ذکر کیے گئے ہیں جن کا انکار ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات اور قدرت کے دلائل کو ثابت کیا گیا ہے، وحی اور رسالت کا اثبات پیش کیا گیا ہے۔
آخرت پر مشرکین کے اعتراضات کے جوابات
انسان کی موت کے بعد کی زندگی یعنی قیامت کے دن کی تفصیلات اور اجر و سزا کے دلائل ذکر کیے گئے ہیں اسلام کے بنیادی عقائد پر کفار و مشرکین کے اعتراضات ذکر کر کے ان کے جوابات احسن انداز میں دیے گئے ہیں۔
تخلیق انسانی اور تخلیق کائنات میں غوروفکر کی دعوت
اس سورت میں مشرکین مکہ کو تخلیق انسانی اور تخلیق کائنات میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ سورت کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی تعریف سے ہوتی ہے جس نے زمین و آسمان، روشنی اور اندھیروں کو پیدا فرمایا اور انسان کو مٹی سے تخلیق فرمایا۔ وہ انسانوں کی تمام حرکات و سکنات اور زمین و آسمان کی ہر چیز سے مکمل باخبر ہے۔
مشرکین کا طرز عمل
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے بیان کے بعد مشرکین کا طرز عمل بیان ہوا ہے کہ ان کے پاس جب بھی حق آیا انھوں نے اس سے اعراض کیا۔ مشرکین نے ہمیشہ توحید کی دعوت دینے والی ہستیوں کا مذاق اڑایا، انبیائے کرامؑ کو ساحر کہا اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کیا۔
توحید کے دلائل
توحید کے دلائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دنیا میں موجود ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے۔ وہ لوگوں کو کھلاتا پلاتا ہے، دکھ اور تکلیف کو دور کرنے والا اور ہر قسم کی بھلائی کا مالک ہے۔ اگر وہ کسی کی سماعت اور بصارت کو اچانک ختم کر دے تو اس کے سوا کوئی یہ صلاحیتیں اس کو نہیں لوٹا سکتا۔ اس کے خزانوں اور زمین و آسمان کے غیب کو کوئی نہیں جانتا اللہ تعالیٰ کے پاس ہی غیب کی چابیاں ہیں۔ خشکی اور تری کی ہر چیز کا علم بھی صرف اسی کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم اس قدر وسیع ہے کہ روئے زمین پر کوئی پتا بھی گرے تو اس کا علم بھی اللہ کو ہوتا ہے۔ وہی ساری کائنات پر غالب اور ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔
نبی کریم ﷺ کو تسلی
مشرکین مکہ کی مخالفت پر آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ وحی الٰہی کی پیروی کریں اور مشرکین سے اعراض برتیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان مشرکین پر نگہبان یا محافظ بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ اپنے باطل عقائد پر ڈٹے ہوئے ہیں، اگر ان کے مطالبے پر فرشتے بھی نازل کر دیے جائیں اور ہر چیز ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کی گواہی دے حتیٰ کہ مردے ان سے کلام کریں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ جب یہ لوگ اللہ کے ہاں پیش ہوں گے تو انھیں اپنی ہٹ دھرمی کے انجام کا پتا چل جائے گا۔
حلال اور حرام کے مسائل
حلال اور حرام کے مسائل ذکر کرتے ہوئے مشرکین کے خود ساختہ اصولوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ چیزوں کو حلال اور حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ مشرکین نے حلال اور حرام کے اصول خود وضع کر لیے تھے کہ فلاں فلاں جانور صرف ان کے مردوں کے لیے حلال ہے اور عورتوں کے لیے حرام ہے۔ کچھ نے چوپایوں پر سواری کو حرام قرار دے رکھا تھا اور کچھ نے چوپایوں کو بتوں کے نام پر وقف کر رکھا تھا، اور انھیں ذبح کرتے وقت یا ان پر سوار ہوتے وقت اپنے بتوں کا نام لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے تمام باطل عقائد و نظریات کا رد کرتے ہوئے ان نظریات کو ان کی غلطی قرار دیا ہے اور بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس کو ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو اس کو حرام کیا گیا ہے۔
معاشرتی احکامات
اس سورت کی آیات 151 سے 153 میں کچھ احکام دیے گئے ہیں۔ 1): اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ 2): والدین سے حسن سلوک کیا جائے۔ 3): اولاد کو رزق کی کمی کی وجہ سے قتل نہ کیا جائے۔ 4): بے حیائی کے قریب نہ جایا جائے۔ 5): قتل و غارت گری نہ کی جائے۔ 6): یتیموں سے حسن سلوک اور ان کے مال کا خیال کیا جائے۔ 7): ناپ تول کو پورا کرنے اور ہر معاملے میں عدل و انصاف کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ ان تمام تر معاشرتی احکامات پر عمل پیرا ہونے کو صراطِ مستقیم قرار دیا گیا ہے۔

ذخیرہ الفاظ

تَعَالَوْاآؤ
اَتْلُمیں پڑھتا ہوں
حَرَّمَحرام کیا
رَبُّكُمْتمھارا رب
اَلَّا تُشْرِكُوْاکہ تم شریک نہ ٹھہراؤ
مِنْ اِمْلَاقٍمفلسی کے ڈر سے
اِیَّاهُمْانھیں بھی
الْفَوَاحِشَبے حیائی
اَوْفُوْاپورا کرو
الْكَیْلَماپ
الْمِیْزَانَتول
بِالْقِسْطِانصاف کے ساتھ

آیات و ترجمہ

آیت 162
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)
بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
آیت 151
قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْـًٔا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۚ-وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ-وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَۚ-وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۱۵۱)
آپ ﷺ فرما دیں آؤ میں پڑھ کر سناؤں جو کچھ تمھارے رب نے تم پر حرام کیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اپنی اولاد کو تنگ دستی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم تمھیں بھی رزق دیتے ہیں اور انھیں بھی، اور بے حیائی کی باتوں کے قریب مت جاؤ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ناحق اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، یہ وہ باتیں ہیں جن کی اللہ تمھیں وصیت فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔
آیت 152
وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗۚ-وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِۚ-لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۚ-وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰىۚ-وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْاؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ(۱۵۲)
اور قریب مت جاؤ یتیم کے مال کے مگر اس طریقہ سے جو بہت اچھا ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اور انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کرو اور ہم کسی شخص پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتے اور جب بھی بات کرو تو عدل کرو اگرچہ کوئی رشتہ دار ہی ہو اور اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرو۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی اللہ تمھیں وصیت فرماتا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔
آیت 153
وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۵۳)
اور بے شک یہ ہے میرا سیدھا راستہ پس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمھیں اس کے راستہ سے الگ کر دیں گے یہ وہ باتیں ہیں جن کی وہ تمھیں وصیت فرماتا ہے تا کہ تم پرہیز گار بنو۔

کثیرالانتخابی سوالات

مشرکین کے نزدیک حلت و حرمت کا معیار تھا
الْأَنْعَامِ کی واحد ہے
الْأَنْعَامِ کا معنی ہے
سورت الانعام میں توحید کے دلائل کے ضمن میں ذکر کیا گیا ہے
رزق کی کمی کے ڈر سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو کس سے منع فرمایا ہے

مختصر سوالات

سورت الانعام کا مرکزی موضوع کیا ہے؟˅
اس سورت کا مرکزی موضوع "توحید، آخرت اور رسالت کا بیان" ہے۔
سورت الانعام کی فضیلت میں ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم لکھیں؟˅
یہ سورت قرآن مجید کی ابتدائی سات سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جس نے یہ ابتدائی سورتیں پالیں وہ ایک بڑا عالم ہے۔"
جانوروں سے متعلق مشرکین کے کوئی سے دو عقائد تحریر کریں؟˅
اس سورت میں مشرکین کے نظریات کی تردید کی گئی ہے جو جانوروں اور مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور انھوں نے خود ساختہ عقائد سے چند جانور اپنے لیے حلال اور چند حرام قرار دیے تھے۔
سورت الانعام کی روشنی میں کوئی سے دو احکام تحریر کریں؟˅
1: بے حیائی کے قریب نہ جایا جائے۔ 2: قتل و غارت گری نہ کی جائے۔
سورت الانعام میں تبلیغ دین سے نبی کریم کو کیا نصیحت دی گئی ہے؟˅
مشرکین مکہ کی مخالفت پر آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ وحی الٰہی کی پیروی کریں اور مشرکین سے اعراض برتیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان مشرکین پر نگہبان یا محافظ بنا کر نہیں بھیجا۔