اس سورت کا نام سورۃ الأنعام ہے۔
اس سورت کا پارہ نمبر 07 ہے۔
سورۃ الأنعام قرآن مجید کی ترتیبِ توقیفی میں 06 نمبر کی سورت ہے۔
سورۃ الأنعام کا مقامِ نزول مکی ہے۔
اس سورت میں (165) ایک سو پینسٹھ آیات ہیں۔
اس سورت میں (20) بیس رکوعات ہیں۔
سورت کی آیت نمبر ایک سو چھتیس میں الْأَنْعَامِ کا لفظ مذکور ہے جو "نَعَمٌ" کی جمع ہے، جس کے معنی "مویشی" ہیں اسی لیے اس کا نام سورت الانعام رکھا گیا ہے۔
اس سورت میں مشرکین کے نظریات کی تردید کی گئی ہے جو جانوروں اور مویشیوں میں بتوں کو حصہ دار ٹھہراتے تھے اور انھوں نے خود ساختہ عقائد سے چند جانور اپنے لیے حلال اور چند حرام قرار دے رکھے تھے۔
یہ سورت قرآن مجید کی ابتدائی سات سورتوں میں سے ہے جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جس نے یہ ابتدائی سورتیں پالیں وہ ایک بڑا عالم ہے"۔
اس سورت کا مرکزی موضوع “توحید، رسالت، آخرت اور معاشرتی زندگی کے احکام کا بیان” ہے۔