نہم جماعت کے لیے

سورۃ مریم

پارہ 16 آیات 98 رکوع 6 مکی

تعارف

مقام نزول: سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اس لیے یہ مکی سورت ہے۔

آیات و بینات: سورت مریم میں اٹھانوے (98) آیات ہیں۔

رکوع: اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔

سورة (مریم) نام کا معنی: اس سورت کا نام عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام آیت واذکر فی الکتب مریم سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ کہ اس سورت میں حضرت مریم کا تفصیلی تذکرہ ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورت مریم ہے۔

فضیلت: اللہ کی قدرت کا بیان، اس سورت میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، جیسے بڑھاپے میں اولاد دینا (حضرت زکریا کو یحییٰ) اور بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کی پیدائش۔ دل نرم کرنے والی سورت، احادیث میں آتا ہے کہ قرآن کی بعض سورتیں دل پر خاص اثر ڈالتی ہیں، سورۃ مریم بھی ان میں سے ہے، جو سننے اور پڑھنے والے کے دل کو نرم کرتی ہے۔

زمانہ نزول: سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب مشرکینِ مکہ مسلمانوں پر کئی طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہے تھے۔ اس کا زمانہ نزول ہجرت حبشہ سے پہلے کا ہے۔ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجرین اسلام جب نجاشی کے دربار میں بلائے گئے تھے اس وقت حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے یہی سورت بھرے دربار میں تلاوت کی تھی۔

ہجرت حبشہ کا حکم: حضرت محمد ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حبشہ کی طرف اللہ کریم کی اجازت سے ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

تاریخی پِر منظر: جس دور میں یہ سورت نازل ہوئی اس وقت قریش کے سردار جب تضحیک، استہزاء اطماع تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر سے تحریک اسلامی کو دبانے میں ناکام ہو گئے تھے تو انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیے۔ لوگوں نے اپنے قبیلے کے نو مسلموں کو پکڑا اور طرح طرح سے ستایا، قید کیا، بھوک و پیاس کی تکلیفیں دیں اور یہاں تک کہ جسمانی اذیتیں دے کر انہیں اسلام چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ہر کوشش کو آزمایا۔ اس سلسلے میں غلام جو قریش والوں کے زیر دست تھے انہیں بری طرح پیسا گیا مثلا بلال، عامر بن فہیرہ، ام عبیس، زنیرہ، عمار بن یاسر وغیرہ۔

حبشہ: حبشہ براعظم افریقہ کا ملک تھا۔ جب حضرت محمد ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو وہاں ایک عیسائی حکمران تھا۔ جس کا لقب نجاشی تھا۔

نجاشی کا اصل نام: نجاشی کا اصل نام "اصحمہ بن ابجر" تھا۔

نجاشی: نجاشی بہت رحم دل اور عادل بادشاہ تھا، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا تھا۔

ہجرت حبشہ کی اجازت: مکہ مکرمہ میں قریش مکہ کا ظلم حد سے گزر گیا تھا۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے محسوس کیا کہ ایسے سخت حالات میں مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔

ہجرت کرنے والوں کی تعداد: حضرت محمد ﷺ کی اجازت سے گیارہ مردوں اور چار خواتین نے ہجرت کی۔ ہجرت کرنے والوں میں حضرت عثمان غنی اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ بھی شامل تھیں۔

ہجرت حبشہ اولیٰ: یہ ہجرت حبشہ کی طرف پہلی ہجرت تھی اور یہ نبوت کا پانچواں سال تھا۔ جو مسلمانوں کی پہلی پناہ گاہ ہجرت ثابت ہوئی اور مسلمان مشرکین کے عتاب سے آزاد ہوئے۔

حبشہ کے احوال: مسلمان امن کی تلاش میں حبشہ پہنچے مگر مشرکین مکہ سے یہ بات برداشت نہ ہوئی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان کہیں بھی امن سے نہ رہیں۔ انھوں نے طے کیا کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابوجہل کے ماں جائے بھائی) اور عمرو بن عاص کو بہت سارے قیمتی تحائف دے کر اپنے کچھ لوگوں کو نجاشی کے پاس بھیجا۔ ان لوگوں نے وہاں قیمتی تحفے پیش کیے اور نجاشی سے کہا کہ ہمارے علاقے سے کچھ لوگ یہاں آگئے ہیں۔ انھوں نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر کوئی نیا دین اختیار کر لیا ہے۔ وہ آپ کے دین کے بھی خلاف ہیں آپ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں۔ یہ تمام بات سن کر نجاشی نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے چند سوالات کیے۔ نجاشی کے سوالوں کے جواب میں حضرت جعفر بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں بہت پر اثر تقریر کی۔ آپ نے کہا: "اے بادشاہ ہم جاہل تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ مُردار کھاتے تھے۔ گناہوں کے عادی تھے اور پڑوسیوں کا حق مارتے تھے۔ جو طاقت ور ہوتا کمزور پر ظلم کرتا تھا۔ ہم ایسی حالت میں تھے جب اللہ نے ہم پر اپنا کرم کیا۔ ہم میں اپنا رسول بھیجا۔ انھوں نے ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے کا کہا بت پرستی سے منع فرمایا۔ فرمایا کہ ہم سچ بولیں، خون خرابے سے باز آجائیں، یتیموں کا مال نہ کھائیں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، نماز پڑھیں، روزے رکھیں اور زکوۃ دیں۔ ہم ان پر ایمان لائے، شرک بت پرستی اور تمام برے اعمال چھوڑ دیئے۔ اسی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن ہو گئی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ہم اسی گمراہی کی طرف واپس لوٹ جائیں۔ ہم ان کے بہت زیادہ تنگ کرنے پر آپ کے پاس آئے ہیں اور آپ سے امید ہے کہ ہم یہاں ظلم سے بچے رہیں گے"۔

دوران تقریر نجاشی کی کیفیت: نجاشی نے تقریر سن کر کہا کہ ذرا مجھے وہ کلام سناؤ جو تم کہتے ہو کہ تمہارے خدا کی طرف سے تمہارے نبی پر اترا ہے۔ حضرت جعفر طیار نے جواب میں سورۃ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنایا جو حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) سے متعلق ہے۔ نجاشی اس کو سنتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی۔

حضرت جعفرؓ کی تقریر کا اثر: نجاشی نے کہا کہ وہ اپنے نبی پر نازل ہونے والے کلام میں سے کچھ سنائیں۔ حضرت جعفر نے سورت مریم کی کچھ آیات تلاوت کی۔ جنکی تلاوت کا نجاشی اور اس کے درباریوں پر بہت گہرا اثر ہوا اور وہ رونے لگے۔

نجاشی کا جواب: "یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کی روشنیاں ہیں۔ خدا کی قسم میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا"۔

عمرو بن عاص کی سازش: دوسرے روز عمرو بن عاص نے نجاشی سے جا کر کہا ان لوگوں سے عیسیٰ بن مریم کے بارے میں عقیدہ پوچھیے یہ لوگ ان کے متعلق ایک بڑی بات کہتے ہیں۔ نجاشی نے پھر سے مہاجرین کو بلا بھیجا۔ مہاجرین کو پہلے ہی اس چال کا علم ہو گیا تھا۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ اگر نجاشی نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو ہم وہی بات کہیں گے جو اللہ نے فرمائی اور رسولؐ نے سکھائی ہے۔ جب یہ لوگ دربار میں پہنچے تو نجاشی نے عمرو بن عاص کا سوال دہرایا جس کے جواب میں حضرت جعفر بن ابی طالب نے اٹھ کر بلا تامل کہا "ھو عبداللہ ورسولہ وروحہ وکلمۃ القاھا الی مریم العذراء البتول"۔ "وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اسکی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے ایک کنواری مریم پر القاء کیا"۔ نجاشی نے یہ سن کر ایک تنکا اٹھایا اور کہا خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا عیسیٰ اس سے تنکے کے برابر سے زیادہ نہیں تھے۔

وفد مکہ کی ناکامی: اس کے بعد نجاشی نے قریش کے بھیجے ہوئے تمام ہدیے یہ کہہ کہ واپس کر دیے کہ میں رشوت نہیں لیتا اور مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور مہاجرین سے کہا کہ بالکل اطمینان کے ساتھ رہو۔ اس طرح مکہ والوں کا وفد ناکام ہو کر واپس لوٹا اور مسلمان وہاں امن و سکون سے رہنے لگے۔

حبشہ والوں کا قبول اسلام: حبشہ کے لوگ مسلمانوں کی پاک زندگی سے متاثر ہوئے۔ کئی لوگ ان کی دعوت سے مسلمان ہوئے۔ مسلمانوں ہونے والوں میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی بھی شامل تھے۔

شانِ نزول: سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے نزول کا بنیادی سبب یہ تھا کہ کفارِ مکہ اور یہودی علماء رسول اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام اور دیگر انبیاء کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور بعض غلط عقائد پھیلاتے تھے۔ الغرض اس سورت میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کا ازالہ کیا گیا اور توحید کا واضح پیغام دیا گیا۔

مرکزی خیال

سورۃ مریم کا خلاصہ ‘توحید، رسالت اور آخرت’ کا بیان ہے۔

اہم مضامین

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت
سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ واحد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا اور شریک نہیں ہے۔
سابقہ انبیاء کرام کا تذکرہ
جس میں حضرت زکریا علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام (والدین کے بڑھاپے میں معجزانہ پیدائش)، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام کا تذکرہ کر کے بتایا گیا ہے کہ کسی نبی کی معجزانہ پیدائش اُس کو اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں بناتی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش
اس سورت میں حضرت مریم علیہا السلام کا تذکرہ ہے اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کا ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا فرمایا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو لوگوں نے آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ پر الزامات لگانا شروع کر دیے۔ حضرت مریم علیہا السلام نے گہوار میں پڑھے ہوئے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا یہ کیسے بول سکتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کلام فرمایا 'میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب دی، اور مجھے نبی بنایا ہے۔ مجھے بابرکت بنایا، جہاں بھی میں ہوں۔ مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم فرمایا۔ جب تک میں زندہ رہوں اور مجھے اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا بنایا'
احوال قیامت
آخری تین رکوعوں میں قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں کہ قیامت کیسے برپا ہو گی۔ جس میں دوبارہ زندہ کیا جانا اور اللہ کے حضور پیشی، منکرینِ آخرت کے اس خیال کی تردید کی گئی ہے کہ مرنے کے بعد زندگی ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں اور شیطانوں کو جمع فرمائے گا۔ جہنم کو سامنے لایا جائے گا۔ دنیا پرستی کا انجام نیک اور بد کا فرق، جھوٹے سہاروں کا ٹوٹ جانا، نیک لوگوں کا اعزاز اور مجرموں کی رسوائی کو بیان کیا گیا ہے۔
نیکوں اور مجرموں کا حال
اس دن اللہ کے نیک بندوں کو مہمان بنا کر لایا جائے گا، جب کہ مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کر دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔

علمی و عملی نکات

اللہ کی رحمت اور قدرت
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ہر حال میں اس سے دعا مانگتے رہیں۔ (سورۃ المریم:04)
توحید کی دعوت
تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ (سورۃ المریم 35-36)
اللہ سے دعا
ہمیں اپنی تمام حاجات کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔ (سورۃ المریم:48)
انبیاء کی عظمت
کسی نبی کی معجزانہ پیدائش انہیں اللہ یا اللہ کا بیٹا نہیں بناتی بلکہ یہ ان کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ (سورۃ المریم:35)
والدین کے حقوق
ہمیں اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہیے کیونکہ یہ انبیاء کرام علیہم السلام کا طریقہ ہے۔ (سورۃ المریم:14)
بڑوں کا ادب
ہمیں اپنے بڑوں کو نہایت ادب اور احترام سے نیکی کی دعوت دینی چاہیے اور انہیں برائی سے منع کرنا چاہیے۔ (سورۃ المریم:42-25)
وعدہ کی پاسداری
ہمیں وعدہ پورا کرنا چاہیے کیونکہ یہ انبیاء کرام علیہم السلام اور نیک لوگوں کی صفت ہے۔ (سورۃ المریم:54)
قرآن کا فہم
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبیین ﷺ کی زبان یعنی عربی زبان میں آسان فرما دیا ہے ہمیں بھی عربی زبان سیکھ کر قرآن مجید میں غور و فکر کرنا چاہیے۔ (سورۃ المریم:97)

ذخیرہ الفاظ

شَقِیًّابد بخت
أَبْعَثُمیں اٹھایا جاؤں
مُبٰرَکًابابرکت
فَیَکُونُتو وہ ہو جاتا ہے
اِنَّمَابے شک
جَبَّارًاسرکش
اَیْنَ مَاجہاں کہیں بھی
بَرًّانیکی کرنے والا
عَلَیَّمجھ پر
اِنِّیْبے شک میں
یَقُولُوہ کہتا ہے
مَادُمْتُجب تک میں رہوں
یَمْتَرُونَوہ لوگ شک کرتے ہیں
قَضٰیوہ فیصلہ فرماتا ہے
اَنْ یَّتَّخِذَکہ وہ بنائے
عَبْدُ اللّٰہِاللہ کا بندا
الزَّکٰوۃِنیکی کرنے والا
الصَّلٰوۃِنماز
کُنْہو جا

آیات و ترجمہ

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّا
وہ بچہ بول اٹھا بے شک میں اللہ کا بندا ہوں اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا۔
وَ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا اَیْنَ مَا کُنْتُ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوۃِ وَ الزَّکٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیًّا
اور مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی میں رہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں۔
وَ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا
اور مجھے اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا بنایا اور اس نے مجھے سرکش و نافرمان نہیں بنایا۔
وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا
اور سلامتی ہے اس دن پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں وفات پاؤں گا اور جس دن میں زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا۔
ذٰلِکَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ یَمْتَرُوْنَ
یہ مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ ہیں یہی بات سچی ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔
مَا کَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ سُبْحٰنَہٗ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ
اللہ کی یہ شان نہیں کہ کسی کو اپنا بچہ ٹھہرائے وہ پاک ہے اس سے جب کسی کام کا حکم فرماتا ہے تو یونہی کہ اُس سے فرماتا ہے ہو جاوہ فوراً ہو جاتا ہے۔
وَ اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ
اور بے شک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے تو اسی کی عبادت کرو اور یہ سیدھا راستہ ہے۔

کثیرالانتخابی سوالات

حبشہ کے بادشاہ کو کہا جاتا ہے:
شاہ حبشہ کے دربار میں تلاوت کی گئی:
نجاشی کے دربار میں سورت مریم کی تلاوت کی:
سورت مریم کی کل آیات ہیں:
معجزانہ طریقے سے تخلیق ہوئی:

مختصر سوالات

سورت مریم کو یہ نام کیوں دیا گیا؟˅
سورت مریم میں حضرت مریم علیہا السلام کا تفصیلی تذکرہ ہے جس کی وجہ سے اس کا نام سورت المریم ہے۔
سورت مریم کا خلاصہ لکھیں؟˅
سورت مریم کا خلاصہ 'توحید رسالت اور آخرت کا بیان' ہے۔
سورت مریم کے دو علمی و عملی نکات لکھیں۔˅
1) ہمیں ہر مشکل میں صرف اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔ 2) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
ہجرت حبشہ کا سبب کیا تھا؟˅
ہجرت حبشہ کا سبب مشرکینِ مکہ کا مسلمانوں پر ظلم و ستم کرنا تھا۔
سورت مریم کی تلاوت سن کر نجاشی نے کیا کہا؟˅
سورت مریم کی تلاوت سن کر نجاشی نے کہا کہ 'یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کی روشنیاں ہیں'۔