مقام نزول: سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اس لیے یہ مکی سورت ہے۔
آیات و بینات: سورت مریم میں اٹھانوے (98) آیات ہیں۔
رکوع: اس سورت میں (06) چھ رکوع ہیں۔
سورة (مریم) نام کا معنی: اس سورت کا نام عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
وجہ تسمیہ: اس سورت کا نام آیت واذکر فی الکتب مریم سے ماخوذ ہے۔ مراد یہ کہ اس سورت میں حضرت مریم کا تفصیلی تذکرہ ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورت مریم ہے۔
فضیلت: اللہ کی قدرت کا بیان، اس سورت میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، جیسے بڑھاپے میں اولاد دینا (حضرت زکریا کو یحییٰ) اور بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کی پیدائش۔ دل نرم کرنے والی سورت، احادیث میں آتا ہے کہ قرآن کی بعض سورتیں دل پر خاص اثر ڈالتی ہیں، سورۃ مریم بھی ان میں سے ہے، جو سننے اور پڑھنے والے کے دل کو نرم کرتی ہے۔
زمانہ نزول: سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی جب مشرکینِ مکہ مسلمانوں پر کئی طرح کے ظلم و ستم ڈھا رہے تھے۔ اس کا زمانہ نزول ہجرت حبشہ سے پہلے کا ہے۔ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجرین اسلام جب نجاشی کے دربار میں بلائے گئے تھے اس وقت حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ نے یہی سورت بھرے دربار میں تلاوت کی تھی۔
ہجرت حبشہ کا حکم: حضرت محمد ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حبشہ کی طرف اللہ کریم کی اجازت سے ہجرت کرنے کا حکم دیا۔
تاریخی پِر منظر: جس دور میں یہ سورت نازل ہوئی اس وقت قریش کے سردار جب تضحیک، استہزاء اطماع تخویف اور جھوٹے الزامات کی تشہیر سے تحریک اسلامی کو دبانے میں ناکام ہو گئے تھے تو انہوں نے ظلم و ستم، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیے۔ لوگوں نے اپنے قبیلے کے نو مسلموں کو پکڑا اور طرح طرح سے ستایا، قید کیا، بھوک و پیاس کی تکلیفیں دیں اور یہاں تک کہ جسمانی اذیتیں دے کر انہیں اسلام چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ہر کوشش کو آزمایا۔ اس سلسلے میں غلام جو قریش والوں کے زیر دست تھے انہیں بری طرح پیسا گیا مثلا بلال، عامر بن فہیرہ، ام عبیس، زنیرہ، عمار بن یاسر وغیرہ۔
حبشہ: حبشہ براعظم افریقہ کا ملک تھا۔ جب حضرت محمد ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو وہاں ایک عیسائی حکمران تھا۔ جس کا لقب نجاشی تھا۔
نجاشی کا اصل نام: نجاشی کا اصل نام "اصحمہ بن ابجر" تھا۔
نجاشی: نجاشی بہت رحم دل اور عادل بادشاہ تھا، وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا تھا۔
ہجرت حبشہ کی اجازت: مکہ مکرمہ میں قریش مکہ کا ظلم حد سے گزر گیا تھا۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے محسوس کیا کہ ایسے سخت حالات میں مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
ہجرت کرنے والوں کی تعداد: حضرت محمد ﷺ کی اجازت سے گیارہ مردوں اور چار خواتین نے ہجرت کی۔ ہجرت کرنے والوں میں حضرت عثمان غنی اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ بھی شامل تھیں۔
ہجرت حبشہ اولیٰ: یہ ہجرت حبشہ کی طرف پہلی ہجرت تھی اور یہ نبوت کا پانچواں سال تھا۔ جو مسلمانوں کی پہلی پناہ گاہ ہجرت ثابت ہوئی اور مسلمان مشرکین کے عتاب سے آزاد ہوئے۔
حبشہ کے احوال: مسلمان امن کی تلاش میں حبشہ پہنچے مگر مشرکین مکہ سے یہ بات برداشت نہ ہوئی۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان کہیں بھی امن سے نہ رہیں۔ انھوں نے طے کیا کہ عبداللہ بن ابی ربیعہ (ابوجہل کے ماں جائے بھائی) اور عمرو بن عاص کو بہت سارے قیمتی تحائف دے کر اپنے کچھ لوگوں کو نجاشی کے پاس بھیجا۔ ان لوگوں نے وہاں قیمتی تحفے پیش کیے اور نجاشی سے کہا کہ ہمارے علاقے سے کچھ لوگ یہاں آگئے ہیں۔ انھوں نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ کر کوئی نیا دین اختیار کر لیا ہے۔ وہ آپ کے دین کے بھی خلاف ہیں آپ ان لوگوں کو ہمارے حوالے کر دیں۔ یہ تمام بات سن کر نجاشی نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلایا اور ان سے چند سوالات کیے۔ نجاشی کے سوالوں کے جواب میں حضرت جعفر بن ابی طالب نے نجاشی کے دربار میں بہت پر اثر تقریر کی۔ آپ نے کہا: "اے بادشاہ ہم جاہل تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ مُردار کھاتے تھے۔ گناہوں کے عادی تھے اور پڑوسیوں کا حق مارتے تھے۔ جو طاقت ور ہوتا کمزور پر ظلم کرتا تھا۔ ہم ایسی حالت میں تھے جب اللہ نے ہم پر اپنا کرم کیا۔ ہم میں اپنا رسول بھیجا۔ انھوں نے ہمیں ایک اللہ کی عبادت کرنے کا کہا بت پرستی سے منع فرمایا۔ فرمایا کہ ہم سچ بولیں، خون خرابے سے باز آجائیں، یتیموں کا مال نہ کھائیں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، نماز پڑھیں، روزے رکھیں اور زکوۃ دیں۔ ہم ان پر ایمان لائے، شرک بت پرستی اور تمام برے اعمال چھوڑ دیئے۔ اسی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن ہو گئی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ہم اسی گمراہی کی طرف واپس لوٹ جائیں۔ ہم ان کے بہت زیادہ تنگ کرنے پر آپ کے پاس آئے ہیں اور آپ سے امید ہے کہ ہم یہاں ظلم سے بچے رہیں گے"۔
دوران تقریر نجاشی کی کیفیت: نجاشی نے تقریر سن کر کہا کہ ذرا مجھے وہ کلام سناؤ جو تم کہتے ہو کہ تمہارے خدا کی طرف سے تمہارے نبی پر اترا ہے۔ حضرت جعفر طیار نے جواب میں سورۃ مریم کا وہ ابتدائی حصہ سنایا جو حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) سے متعلق ہے۔ نجاشی اس کو سنتا رہا اور روتا رہا یہاں تک کہ اس کی داڑھی تر ہو گئی۔
حضرت جعفرؓ کی تقریر کا اثر: نجاشی نے کہا کہ وہ اپنے نبی پر نازل ہونے والے کلام میں سے کچھ سنائیں۔ حضرت جعفر نے سورت مریم کی کچھ آیات تلاوت کی۔ جنکی تلاوت کا نجاشی اور اس کے درباریوں پر بہت گہرا اثر ہوا اور وہ رونے لگے۔
نجاشی کا جواب: "یہ کلام اور انجیل ایک ہی چراغ کی روشنیاں ہیں۔ خدا کی قسم میں ان لوگوں کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا"۔
عمرو بن عاص کی سازش: دوسرے روز عمرو بن عاص نے نجاشی سے جا کر کہا ان لوگوں سے عیسیٰ بن مریم کے بارے میں عقیدہ پوچھیے یہ لوگ ان کے متعلق ایک بڑی بات کہتے ہیں۔ نجاشی نے پھر سے مہاجرین کو بلا بھیجا۔ مہاجرین کو پہلے ہی اس چال کا علم ہو گیا تھا۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ اگر نجاشی نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو ہم وہی بات کہیں گے جو اللہ نے فرمائی اور رسولؐ نے سکھائی ہے۔ جب یہ لوگ دربار میں پہنچے تو نجاشی نے عمرو بن عاص کا سوال دہرایا جس کے جواب میں حضرت جعفر بن ابی طالب نے اٹھ کر بلا تامل کہا "ھو عبداللہ ورسولہ وروحہ وکلمۃ القاھا الی مریم العذراء البتول"۔ "وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اسکی طرف سے ایک روح اور ایک کلمہ ہیں جسے اللہ نے ایک کنواری مریم پر القاء کیا"۔ نجاشی نے یہ سن کر ایک تنکا اٹھایا اور کہا خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا عیسیٰ اس سے تنکے کے برابر سے زیادہ نہیں تھے۔
وفد مکہ کی ناکامی: اس کے بعد نجاشی نے قریش کے بھیجے ہوئے تمام ہدیے یہ کہہ کہ واپس کر دیے کہ میں رشوت نہیں لیتا اور مسلمانوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور مہاجرین سے کہا کہ بالکل اطمینان کے ساتھ رہو۔ اس طرح مکہ والوں کا وفد ناکام ہو کر واپس لوٹا اور مسلمان وہاں امن و سکون سے رہنے لگے۔
حبشہ والوں کا قبول اسلام: حبشہ کے لوگ مسلمانوں کی پاک زندگی سے متاثر ہوئے۔ کئی لوگ ان کی دعوت سے مسلمان ہوئے۔ مسلمانوں ہونے والوں میں حبشہ کے بادشاہ نجاشی بھی شامل تھے۔
شانِ نزول: سورۃ مریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ اس کے نزول کا بنیادی سبب یہ تھا کہ کفارِ مکہ اور یہودی علماء رسول اکرم ﷺ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام اور دیگر انبیاء کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور بعض غلط عقائد پھیلاتے تھے۔ الغرض اس سورت میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کا ازالہ کیا گیا اور توحید کا واضح پیغام دیا گیا۔
سورۃ مریم کا خلاصہ ‘توحید، رسالت اور آخرت’ کا بیان ہے۔